سابق وزیراعظم نواز شریف کے مرض کی تشخیص کرلی گئی

میڈیکل بورڈ تا حال نوازشریف کی بیماری کی تشخیص نہ کر سکا

ویب ڈیسک : 24اکتوبر2019
لاہور:سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو 4 میگا یونٹ لگانے سے اُن کے پلیٹ لیٹس کی تعداد 25 ہزار تک بڑھ گئی۔
سروسز ہسپتال میں زیر علاج سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صحت میں بہتری آرہی ہے، گزشتہ روز پلیٹ لیٹس کی مقدار دو ہزار ہونے پر 6 رکنی میڈیکل بورڈ کی ایڈوائز پر میگا یونٹ لگا دیا گیا تھا جس سے نواز شریف کی پلیٹ لیٹس کی تعداد 25 ہزار تک بڑھ گئی، ڈاکٹرز نے بون میرو سپریشن، آٹو امیون ڈیریز سمیت مزید ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
سینئر پروفیسرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ کے ساتھ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور سیکرٹری سپیشلائزد ہیلتھ بھی سروسز ہسپتال پہنچے اور علاج معالجے کا جائزہ لیا،میڈیکل بورڈ میں شامل پروفیسرز نے نواز شریف کی صحت کی بحالی کیلئے وائس چانسلرز سے بھی مشاورت کی اور ایڈوائس لی۔
میڈیکل بورڈ نے دن ایک بجے تک سابق وزیراعظم نواز شریف کو کھانا کھانے اور پانی پینے سے روک دیا ہے۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف سروسز اسپتال میں تیسرے روز بھی زیرعلاج ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ میڈیکل بورڈ تا حال نوازشریف کی بیماری کی تشخیص نہ کر سکا،جبکہ ڈاکٹرز نے ان کے مزید ٹیسٹ تجویز کر دیئے ہیں۔کراچی سے آئے ماہر بون میرو ٹرانسپلانٹ ڈاکٹر طاہر شمسی نے نوازشریف کا طبی معائنہ کیا ہے اور انہیں نو بجے ناشتہ کرا کر کھانے سے روک دیا گیا ہے وہ دوپہر ایک بجے تک پانی بھی نہیں پی سکیں گے۔
ذرائع کے مطابق آج دوپہر انہیں پیٹ اسکین ٹیسٹ کے لیے پی کے ایل آئی لیجایا جانے کے امکانات ہیں۔پیٹ اسکین دوسرے ٹیسٹوں کی نسبت کسی بھی بیماری کی جلد تشخیص کر سکتا ہے۔میڈیکل بورڈ کی جانب سے نوازشریف کی حالت کا جائزہ لے کر پی کے ایل آئی بھیجنے کا فیصلہ کرے گا۔
یاد رہے سابق وزیراعظم کو طبیعت کی سخت خرابی کے بعد بدھ کی رات نیب لاہور کے دفتر سے سروسز اسپتال لاہور منتقل کیا گیا تھا۔نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ شب کو خون کے نمونوں میں پلیٹ لیٹس کی تعداد 16 ہزار رہ گئی تھی جو اسپتال منتقلی تک مزید کم ہوکر 12 ہزار ہوگئی تھی۔ بعد ازاں معلوم ہوا تھا کہ ان کی تعداد صرف دو ہزار رہ گئی تھی۔جمعرات کی رات کو سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صحت بتدریج بہتر ہونا شروع ہوگئی اور ان کے پلیٹ لیٹس کی تعداد دو ہزار سے بڑھ کر 24 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔
ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ سروسز اسپتال میں زیر علاج سابق وزیراعظم نواز شریف کے مرض کی تشخیص کرلی گئی جس کے بعد میڈیکل بورڈ نے ان کی صحت سے متعلق نیا فیصلہ کیا ہے۔سروسز اسپتال کے پرنسپل پروفیسر محمود ایاز نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ نواز شریف کے خون کے کچھ ٹیسٹ ٹھیک نہیں ہیں۔نواز شریف کا علاج کرنے والے میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر محمود ایاز نے بتایا کہ نواز شریف کے مرض کی ابتدائی طور پر تشخیص کر لی گئی ہے۔پروفیسر محمود ایاز نے بتایا کہ نواز شریف کی تلی کے بے ترتیب کام کرنے سے پلیٹلیٹس ٹوٹ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کو ایک دوا شروع کرا دی گئی ہے جب کہ دوسری دوا پورے جسم کے اسکین کے بعد شروع کرائی جائے گے۔ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا امید ہے تین سے چار روز میں نواز شریف کی طبعیت میں بہتری آئے گی۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے اس بات پر اتفاق کیا ہےکہ دوا کے ذریعے نوازشریف کے پلیٹیلیٹس بڑھنے کا انتظار کیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایاکہ میڈیکل بورڈ نے نوازشریف کی صحت سے متعلق نیا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت سابق وزیراعظم کی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے انہیں انجیکشن لگائے جائیں گے جنہیں منگوالیا گیا ہے۔اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہےکہ نواز شریف کو ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق انجکشن لگایا جائے گا۔
دوسری جانب نیب حکام کی درخواست پر محکمہ داخلہ نے آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کو سروسز ہسپتال میں زیر علاج نواز شریف کی سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے کی ہدایت کردی، نواز شریف کی وی وی آئی پی وارڈ کے باہر سی سی ٹی وی کیمرہ نصب کرنےکا بھی حکم دیا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے