لاہورہائیکورٹ: نوازشریف کی طبی بنیاد پر ضمانت منظور

ضمانت کے باوجود نواز شریف رہا نہیں ہو سکیں گے

ویب ڈیسک : 25اکتوبر2019
لاہور: ہائی کورٹ نے چوہدری شوگرملز کیس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی طبی بنیادوں پر ایک کروڑ روپے کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی ہے۔عدالت نے آج ہونے والی طویل سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سنایا، جس میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اس کیس میں ایک کروڑ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کروائیں۔
جج جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے گزشتہ روز چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت کیلئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ہائی کورٹ نے نوازشریف کی ضمانت ایک کروڑ روپے کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کر لی جب کہ مریم نواز کا معاملے پر سماعت سوموار کو ہوگی۔دوران سماعت عدالت نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کیا کہتے ہیں؟وکیل نیب نے جواب دیا کہ ہم بھی میڈیکل رپورٹ کے مطابق عدالت کی معاونت کریں گے۔
نوازشریف کے طبی معائنے کیلئے بنائے گئے میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکڑ ایاز نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سابق وزیراعظم کے پلیٹ لیٹس کی تعداد بہت کم ہے، بیماری کا علاج پاکستان میں موجود ہے لیکن اچھے نتائج نہیں مل رہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ درخواستگزار کی موجودہ صورتحال کیا ہے، کیا نوازشریف کا وزن کم ہو رہا۔ ڈاکٹر ایاز نے جواب دیا جی 5 کلو وزن کم ہوا ہے۔
گزشتہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا تھا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس کیس کو دیکھا جاسکتا ہے اور عدالت نے حکومت پنجاب سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔
خیال رہے کہ شہبازشریف کی جانب سے سابق وزیراعظم نوازشریف کی ضمانت کیلئے درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ درخواست گزار شدید علیل اور سروسز اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ متن میں درج ہے کہ درخواست گزار کے پلیٹ لیٹس انتہائی حد تک کم ہوگئے ہیں، ڈاکٹرز بیماری کی تحقیق اور تشخیص کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے چودھری شوگرملز کیس میں ضمانت کے باوجود سابق وزیراعظم نواز شریف رہا نہیں ہو سکیں گے کیونکہ وہ العزیزیہ ریفرنس کیس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
قانونونی ماہرین کے مطابق جب تک اسلام آباد ہائی کورٹ العزیزیہ ریفرنس کیس میں سزا کے خلاف نواز شریف کی درخواست ضمانت پر فیصلہ نہیں کرتی تب تک ان کی رہائی ممکن نہیں ہوسکے گی۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی چودھری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور ہوگئی ہے جبکہ العزیزیہ ریفرنس کیس میں ان کی ضمانت درخواست کا معاملہ زیر سماعت ہے۔احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس کیس میں نواز شریف کو سات سال کی سزا سنائی ہے۔ اسلام آباد نے جمعہ کے روز نواز شریف کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس کیس میں سزا کی معطلی کے خلاف درخواست پر کارروائی ابتدائی سماعت کے بعد منگل تک ملتوی کردی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے نواز شریف کی درخواست ضمانت پر فیصلہ منگل تک متوقع ہے۔
دریں اثناء چودھری شوگر ملز میں نواز شریف کو ضمانت ملنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر اللہ تعالیٰ کا شکر اداکرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے پرقوم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ میڈیکل بورڈ نوازشریف کی صحتیابی کےلیے کوشاں ہے، پوری قوم سے نوازشریف کی صحتیابی کی اپیل کرتےہیں۔شہباز شریف نے کہا امید ہے عدالت مریم نوازکی درخواست ضمانت پر جلد سماعت کرےگی اور رہائی کا حکم دے گی۔ انہوں نے کہا کہ قوم سے اپیل ہے کہ مریم نواز کی رہائی کےلیے بھی دعا کریں۔
ادھرلاہور کی احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملزم کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کے عدالتی ریمانڈ میں نومبر تک توسیع کردی۔صوبائی دارالحکومت کی احتساب عدالت میں چوہدری شوگر ملز کیس کی سماعت ہوئی، جہاں مریم نواز کو پیش کیا گیا۔عدالت میں پیشی کے موقع پر مریم نواز سے ملنے کے لیے ان کے بیٹے اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما موجود تھے۔بعد ازاں کیس کی مختصر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے مریم نواز اور یوسف عباس کے عدالتی ریمانڈ میں 8 نومبر تک توسیع کردی۔اس موقع پر عدالت میں پیشی کے دوران مریم نواز اپنے والد نواز شریف کی طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے آبدیدہ ہوگئیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے