آزادی مارچ کا قافلہ چل پڑا

مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر پوری قوم ایک پیج پر ہے،مولانا فضل الرحمان

ویب ڈیسک : 27اکتوبر2019
کراچی: جمعیت علمائے اسلام ( جے یو آئی ف) نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ کے لئے آج اپنے آزادی مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اعلان کردہ آزادی مارچ کی حمایت حزب اختلاف کی بڑی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کر رہی ہیں۔
آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم بھارت سمیت دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر پوری قوم ایک پیج پر ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘ہماری بھی کچھ کوتاہیاں ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے حکمرانوں نے نامعلوم کس مصلحت کے تحت کشمیر کا سودا کیا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘ہم کشمیر سے متعلق پاکستان کے حکمرانوں کے خفیہ معاہدے اور کشمیر کے سودے کے فیصلے کو قبول نہیں کرتے۔ استقبالیہ خطاب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کراچی والوں نے ہماری آواز پر لبیک کہا، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو داد دیتا ہوں۔ عمران خان کو استعفی دینا ہو گا، 25 جولائی کے انتخابات اور نتائج کو نہیں مانتے۔ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے،حافظ حمداللہ کی شہریت کے معاملے کے بعد مفتی کفایت اللہ کو بھی انہوں نے گرفتار کر لیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا آج پورے ملک میں مقبوضہ کشمیر سے اظہار یکجہتی کا دن منایا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسی دن 1947 کو بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا لیکن آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک ان کے لیے بیس کمیپ کا کردار ادا کرتا رہے گا۔انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں سے کشمیر کے اندر ہونے والے مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘ایک قوم کی آزادی چھین کر اس پر قدغن لگارہےہیں، ہم اس پر خاموش نہیں رہیں گے۔جمعیت علما اسلام کے علاوہ آزای مارچ کے جلسے میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علما پاکستان کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
سہراب گوٹھ میں افتتاحی جلسے سے خطاب کے لئے پیپلزپارٹی سے رضا ربانی جمعیت علماءاسلام پاکستان نورانی گروپ کے اویس نورانی عوامی نیشنل پارٹی کے شاہی سید اور دیگر قائدین اسٹیج پر پہنچ گئے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمان بھی جلسے کے لئے کنٹینر پر موجود ہیں۔آزادی مارچ کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں ہیں جس کا باقاعدہ آغاز آج ٹول پلازہ کراچی سے شروع ہو گیا ہے۔اس دوران کوئٹہ سے جمعیت علمائے اسلام ف کا آزادی مارچ سہہ پہر تین بجے مولانا عبدالواسع کی قیادت میں روانہ ہوگا۔
گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اعلان کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ جہاں جہاں سے گزرے گا وہاں پر پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما ان کا استقبال کریں گے۔
آزادی مارچ حیدرآباد، سکھر، گھوٹکی سے ہوتا ہوا کوٹ سبزل صادق آباد سے پنجاب میں داخل ہو گا، قافلہ رحیم یارخان،بہاولپور،لودھراں سے گزرتا ہوا ڈیرہ غازی خان، ملتان اور پھر بذریعہ لاہور اسلام آباد پہنچے گا۔ادھر حکومت نے آزادی مارچ کو ملتان ہی میں روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں اور پولیس فورس کو واٹرکینین گاڑیاں بھی فراہم کی دی گئی ہیں-

حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے پا گیا
یاد رہے گزشتہ روز آزادی مارچ کے حوالے سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی کے مابین معاملات طے پا گئے تھے۔اس ضمن میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی قیادت کرنے والے رہنما پی ٹی آئی پرویز خٹک نے بتایا تھا کہ فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے اور اب وہ اپنا آزادی مارچ لے کر ڈی چوک نہیں آئیں گے۔انہوں نے بتایا کہ حزب اختلاف پشاور موڑ گراؤنڈ میں اپنا پرامن جلسہ کرے گی جبکہ حکومت کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آزادی مارچ ریڈ زون میں داخل نہیں ہو گا اور اگر حزب اختلاف اپنے وعدے پر پورا اترے گی تو اسلام آباد سے کنٹینر بھی ہٹا دیے جائیں گے۔وزیر دفاع نے کہا کہ حزب اختلاف نے وزیر اعظم کے استعفیٰ یا نئے انتخابات کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ اگر حزب اختلاف بیٹھنا چاہتی ہے تو بیٹھے ہمیں پرامن احتجاج پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کر حزب اختلاف کا جمہوری حق ہے، ہمارا حزب اختلاف سے صرف جگہ کے معاملے پر ڈیڈ لاک تھا اور رہبر کمیٹی والوں نے ہماری بات مان لی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے