نواز شریف زندگی اورموت کی جنگ لڑرہے ہیں:ذاتی معالج کا اظہارتشویش

ویب ڈیسک : 29اکتوبر2019
لاہور: سابق وزیراعظم نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ کے تاحیات قائد زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ ہارٹ اٹیک اور پلیٹ لیٹس کی کمی سے نواز شریف کے گردے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم کے بلڈ پریشر اور شوگر کنٹرول نہیں ہو رہی۔ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ نواز شریف کے متعدد سکینز اور بایوپسی میں تاخیر سے حالت متاثر ہورہی ہے۔
دوسری جانب ذرائع سے اطلاعات آ رہی ہیں کہ میڈیکل بورڈ نے پلیٹ لیٹس سیلز کی تعداد میں اضافہ کیلئے سٹریرائڈ انجیکشن سولو میڈرول 250 ایم جی تجویز کیا ہے جو ایک صبح 10 بجے اور دوسرا بارہ گھنٹے بعد لگے گا۔
نواز شریف کے رینل فنکشنل ٹیسٹ (RFT) رپورٹ میں بلڈ یوریا اور کریٹینین معمول سے زیادہ آیا ہے۔ بلڈ یوریا کی نارمل مقدار 50 سے کم ہونی چاہئے جبکہ ان کیے ٹیسٹ کے نتائج میں یہ مقدار 63 ہے۔اسپتال ذرائع کے مطابق پلیٹ لیٹس سیلز بڑھانے کیلئے سٹریرائڈ انجکشن سولو میڈرول دینے سے گردے بھی متاثر ہونے لگے ہیں۔ان کا بلڈ پریشر اور شوگر بھی قابو میں نہیں ہے، انہیں گزشتہ کئی سالوں سے گردوں میں درد اور پتھریوں کا بھی سامنا ہے۔
طبی ماہرین پر مشتمل ٹیم اب تک کوششوں میں مصروف ہے کہ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پلیٹلیٹس میں اچانک کمی ہونے کی وجہ جان سکیں۔انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد ایک ہفتے سے لاہور کے سروسز ہسپتال میں موجود ہیں اور قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ انہیں علاج کے لیے ملک کے کسی اور ہسپتال یا بیرونِ ملک لے جایا جاسکتا ہے جہاں ان کا مزید بہتر علاج ہوسکے۔تاہم ان کی پارٹی کی سینئر قیادت نے یہ کہتے ہوئے اس امکان کو مسترد کردیا کہ ان کی صحت کی صورتحال بہتر ہونے سے پہلے یہ ممکن نہیں۔ڈاکٹروں کو ان کے علاج کے حوالے سے مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیوں کہ وہ پلیٹلیٹس بڑھانے کے لیے دی جانے والی ادویات اور امراضِ قلب کی ادویات میں توازن رکھنا چاہتے ہیں۔میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز کے مطابق مریض کے پلیٹلیٹس امراضِ قلب کے لیے دی جانے والی ادویات کے باعث کم اور زیادہ ہورہے ہیں تاہم ’مرض کی تشخیص ہونا ابھی باقی ہے’۔
اس ضمن میں افواہیں گردش کررہی تھیں کہ ان کے اہلِ خانہ ان پر جاتی عمرہ میں موجود شریف میڈیکل سٹی میں منتقلی کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں حالانکہ حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سروسز ہسپتال میں اپنے علاج سے خوش ہیں۔تاہم انہیں کسی اور ہسپتال میں منتقل کرنے کے اقدام سے حکومتی کاندھوں سے ان کے علاج کی نازک ذمہ داری کا بوجھ ان کے اہلِ خانہ کو منتقل ہوجائے گا۔سابق وزیراعظم کو ملک میں ہی کسی اور ہسپتال یا بیرونِ ملک منتقل کرنے کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹروں کی اولین ترجیح یہ ہے کہ نواز شریف کی صحت بہتر ہوجائے، جیسے ہی ان کی صحت مستحکم ہوگی پھر ان کے بیرونِ ملک جانے کا سوال پیدا ہوگا’۔ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا نواز شریف کو بہتر علاج کے لیے لندن لے جایا جارہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ اس وقت کیا جائے گا جب نواز شریف کی صورتحال بہتر ہو۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے قائد کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطلی کی درخواست میں ضمانت کی مدت ختم ہونے پر اسلام آباد ہائی کوررٹ آج (بروز منگل) دوبارہ سماعت کرے گی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے