پشاور موڑ جلسہ گاہ کا انتخاب،مولانا کی بڑی سیاسی چال

تجزیہ:عاتکہ آئیلش حسین

تجزیہ: عاتکہ آئیلش حسین


سیاسی جماعتوں کی طرف سے مطالبات کے حق میں دھرنے،جلوس اور لانگ مارچ ہماری جمہوری تاریخ کا حصہ ہیں۔ماضی میں شہر اقتدار میں 126دن کا طویل دھرنا دینے اور آزادی مارچ کرنے والی پی ٹی آئی کو اب اپنے دور حکومت میں ایسے ہی مارچ اوردھرنے کا سامنا ہے۔اس مرتبہ کنٹینر پر عمران خان نہیں بلکہ مذہبی جماعت جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سوار ہیں اور یہ آزادی مارچ کراچی سے رات لاہور پہنچ چکا ہے۔مارچ کی اگلی منزل اسلام آباد ہے۔مولانا فضل الرحمن نے نو جماعتوں کی باہمی مشاورت سے نئے انتخابات اور وزیراعظم عمران خان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔اپنے انہی مطالبات کو منوانے کے لئے مولانا نے آزادی مارچ کا اعلان کیا۔اگر دیکھا جائے تو مولانا فضل الرحمن عین اسی نقطہ نظر پر چل رہے ہیں جوکہ نواز شریف کا تھا۔سندھ میں مولانا فضل الرحمان کے مارچ کو پیپلز پارٹی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون فراہم کیا گیا۔پنجاب میں بھی مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے اپنی اپنی بساط کے مطابق مختلف جگہوں پر استقبالیہ کیمپ لگا کر مولانا فضل الرحمان کے مارچ کو خوش آمدید کہا گیا۔مولانا فضل الرحمن کا مارچ اب پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پہنچ چکا ہے۔یہاں سے یہ آزادی مارچ اپنی منزل اسلام آباد میں31 اکتوبر کو داخل ہوگا۔مولانا کے اس مارچ کو دیکھا جائے تو آغاز میں سندھ سے ہزاروں افراد کی تعداد دکھائی دی جس نے مولانا کی کال پر لبیک کہا اگر اسی طرح مسلسل تعداد بڑھنے کا سلسلہ جاری رہا تو مولانا نے جو 15 سے 18 لاکھ افراد اکٹھا کرنے کا عندیہ دیا تھا وہ کافی حد تک کامیاب ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا 15 سے 18 لاکھ افراد اکٹھا کرنے میں مولانا کامیاب ہوپائیں گے یا نہیں؟جہاں مولانا نے 15 سے 18 لاکھ افراد کا کہا وہاں مسلم لیگ نواز کی جانب سے بھی کہا گیا اگر مولانا کے 15 لاکھ لوگ ہوں گے تو ہمارے بھی 15 لاکھ افراد اس مارچ کا حصہ بنیں گے اس کا مطلب یہ ہوا کہ تقریبا 30 لاکھ افراد صرف جے یو آئی ایف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے ہی ہونگے اس کے علاوہ رہ جائیں گی باقی سات جماعتیں ان سات جماعتوں کا اگر ہم تقریبا ایک ایک لاکھ کا ٹارگٹ بھی رکھیں توسات جماعتوں کا مطلب ساتھ لاکھ افراد اس کا مطلب یہ ہوا کہ کل ملاکر 37 لاکھ افراد۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمان اتنی بڑی تعداد اسلام آباد میں اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے اور اگر اتنا بڑا عوامی سمندر اسلام آباد پہنچ گیا تو کیا مولانا اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور کیا وزیراعظم کو استعفی دے کر گھر جانا پڑے گا ؟
جمیعت علماء اسلام فضل الرحمن کا ایک دستہ جس کا نام انصارالاسلام ہے اور وہ سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیتا ہے ۔اس وقت آزادی مارچ کی سیکورٹی کے فرائض بھی یہی دستہ سر انجام دے رہے ہیں اور یہ افراد ڈنڈوں سے لیس ہیں۔ آزادی مارچ میں پورے پاکستان سے تقریبا چار لاکھ انصارالاسلام کے یہ ڈنڈا بردار اسکاوٹس شرکت کر رہے ہیں اور اسلام آباد داخل ہونے جا رہے ہیں۔ اب اگر گورنمنٹ کی نفری کی بات کی جائے تو اسلام آباد کی کل فورس کی تعداد گیارہ ہزار سات سو ، پنجاب کی ایک لاکھ اسی ہزار ، کے پی کے کی تقریبا اسی ہزار سے زیادہ اور رینجرز کی اسلام آباد میں تعداد تقریبا دو ہزار کے لگ بھگ ہے اگر ان سب کو ملا کر بھی اکٹھا کر لیا جائے تو انصارالاسلام کے چار لاکھ ڈنڈا بردار اسکاؤٹس کا مقابلہ کرنا کیا آسان ہوگا؟
انصار الاسلام کے یہ تقریبا چار لاکھ ڈنڈا بردار اسکاؤٹس اگر اسلام آباد اکھٹے ہوگئے تو حکومتی نفری کم پڑ جائے گی اور یہ تو ریاست کے اندر ہی ریاست بننے جارہی ہے۔
اس لئے حکومت کو سنجیدہ ہونا پڑے گا اور یہ گالم گلوچ کی سیاست سے باہر نکل کر بات کرنی اور سننی پڑے گی۔چند روز قبل حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کی جانب سے رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم خان درانی کو کال کرکے جلسہ کی جگہ فائنل کرنے کا کہا گیا اور کہا گیا کہ حکومت ڈی-چوک کے علاوہ آپ کو جہاں کہیں گے جگہ فراہم کرے گی۔ رہبر کمیٹی کے ممبران کی باہمی مشاورت سے پشاور موڑ کا علاقہ فائنل کیا گیا اور حکومت نے اس جگہ کو جلسہ کے لئے الاٹ کر دیا۔
اب بات کریں اگر اس پلاٹ کی جو جلسہ کے لیے مانگا گیا یہ پلاٹ تقریبا آدھا کلو میٹر تک کی جگہ ہے اور یہاں اتوار بازار کی پارکنگ کی جاتی ہے۔پلاٹ میں تقریبا چار سو سے پانچ سو گاڑیاں ہی پارک ہو سکتی ہیں اور اگر افراد کی بات کی جائے تو بیس ہزار سے پچیس ہزار سے زائد لوگ یہاں جمع نہیں ہو سکتے۔سوچنے والی بات ہے کہ لاکھوں کا دعوی کیا گیا اور جلسہ گاہ کی جگہ بیس سے پچیس ہزار لوگوں کی آخر کیوں مانگی گئی جبکہ حکومت کی جانب سے ایف نائن پارک اور پریڈ گراؤنڈ کی بھی آفر کی گئی تھی اور آج سے پہلے یہاں کوئی بھی جلسہ نظر نہیں آیا۔یہاں رہبر کمیٹی نے بہت بڑی سیاست کھیلی کیونکہ پشاور موڑ وہ جگہ ہے جہاں سے ترنول ، پشاور اور اسلام آباد ہائی وے سے قافلے بآسانی سے پہنچ سکتے ہیں یہاں سے ڈی چوک کی جانب بڑھنا بھی زیادہ مشکل نہیں۔اگر ایف نائن پارک جلسہ کیا جاتا تو وہ شہر کے اندر تھا وہاں سے انہیں باآسانی بندگلی سے دھر لیا جاتا اور وہاں سے ڈی چوک تک پہنچنا بھی آسان نہ تھا۔مولانا کو ابھی صرف یہی فکر ہے کہ کسی طرح اسلام آباد میں داخل ہوجائیں اس لئے وہ حکومت کی بات اس کان سے سن کر اس کان سے نکال رہے ہیں اور ابھی دھرنے کا اعلان کرنے سے بھی قاصر ہیں کیونکہ اس کا فیصلہ وہ عوام کی طاقت اور جوش کو دیکھ کر کرنا چاہتے ہیں۔مولانا کو اس بات کا علم ہے کہ اگر لاکھوں افراد کی تعداد اسلام آباد میں لے پہنچے تو پھر بآسانی وہ ڈی چوک بھی عبور کرلیں گے۔پشاور موڑ پہنچ کر یہ آزادی مارچ ڈی چوک کی طرف بڑھے گا جیسے ماضی میں پی ٹی آئی نے آبپارہ چوک میں اکٹھے ہوکر ڈی-چوک کی طرف بڑھا تھا اور 126 دن کا دھرنا دیا تھا۔حکومت ان سب معاملات کو زیادہ سنجیدہ نہیں لے رہی یہاں مذاکرات کے لئے کمیٹی کو بھیجا جاتا اور وہاں عمران خان ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگاتے اور یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ واحد حکومت ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے۔
مطلب ایک ہاتھ سے سلام کیا جاتا اور دوسرے ہاتھ سے تھپڑ رسید کر دیا جاتا پھر خان صاحب کہتے نظر آتے کہ ہم سنجیدہ ہیں مذاکرات کے لئے۔ یہ لوگ ریاست کو چیلنج کررہے ہیں اور ملک کو ہائی جیک کرنا چاہتے ہیں تو پھر عمران خان صاحب کو اپنا ماضی بھی نہیں بھولناچاہئے جب وہ سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا کہہ رہے تھے شیخ رشید صاحب ملک کو آگ لگانے اور مرنے مارنے کی باتیں کر رہے تھے اور تاریخ میں پہلی بار پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا۔پارلیمنٹ کو گالیاں اور لعنت سے نوازا گیا۔خان صاحب کو چاہیے کہ مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن جماعتوں پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے خود اپنا ماضی بھی یاد رکھیں اور سنجیدگی سے مذاکرات کے لئے آگے بڑھیں۔
ورنہ وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔ !!!!!!!

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے