حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا 142 واں یوم پیدائش

ویب ڈیسک : ہفتہ 09 نومبر2019
لاہور: شاعر مشرق اور حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا 142 واں یوم پیدائش آج ملی جوش وجذبے سے منایا جارہا ہے۔
علامہ محمد اقبال 9 نومبر کو 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور آبائی شہر سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لاہور چلے گئے۔شاعر مشرق نے لاہور سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور جرمنی سے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ڈاکٹر محمد اقبال نے 1910 میں وطن واپسی کے بعد وکالت شروع کی۔
1930 میں آپ نے الہٰ آباد کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے تاریخ خطبہ دیا جس میں مسلمانوں کیلئے علیحدہ مملکت کا مطالبہ پیش کیا جس کا نتیجہ بالآخر قیام پاکستان کی صورت میں برآمد ہوا۔علامہ محمد اقبال کے یوم ولادت کے موقع پر چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے اور خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا۔
مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب ہوئی جس میں مہمان خصوصی اسٹیشن کموڈور نعمت اللہ خان شریک ہوئے۔
پاک بحریہ کے چاق و چوبند دستے نے مزار اقبال پر گارڈ کے فرائض سنبھالے اور مہمان خصوصی نے مزار اقبال پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ علامہ محمد اقبال ؒکی شخصیت نے ایسے وقت میں مسلمانان بر صغیر کو ایک آزاد اور خودمختار اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کا راستہ دکھایا جب وہ غلامی کے اندھیروں اور ہندو اکثریت کے ظلم و نا انصافی کا شکار ہو کر منزل کا سراغ کھو بیٹھے تھے۔عمران خان نے کہا کہ علامہ محمد اقبال ؒ کے افکار عالمگیر حیثیت کے حامل ہیں۔ امت مسلمہ کو درپیش مختلف مسائل کی نشاندہی کرنے اور ان مسائل کا حل آپ کے شہرہ آفاق شعری مجموعوں اور کلام میں پنہاں ہے۔اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آج ہمیں بحیثیت قوم اور امت مسلمہ مختلف نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں۔ یہ شاعر مشرق کی دور اندیشی تھی جب انہوں نے ایسے انفرادی اور اجتماعی مسائل کی نشاندہی کی جن کا ہمیں موجودہ دور میں سامنا ہے۔آپ نے دور جدید کے تقاضوں کو اجاگر کیا، جمہوری اقدار اور ترقی کے رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہوئے فرد اور ملت کو معاشرے اور ریاست میں ہم آہنگی کے ذریعے موثر کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے یوم اقبال پر اپنے پیغام میں کہا کہ اقبالؒ نے اپنی شاعری اور افکار کے ذریعے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کیا۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ نے علاقائی حدود و قیود سے ماورا ہو کر انسانیت کو اپنے پیغام کا مخاطب بنایا۔ شاعر مشرق کا پیغام آج بھی ہماری رہنمائی کی راہ متعین کرتا ہے۔

شاعرمشرق ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کے 142واں یوم پیدائش کے موقع پر مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پرُ وقار تقریب ہوئی، مصور پاکستان کو پاک بحریہ اور پاک رینجرز کے چاق وچوبند دستے نے سلامی دی، مزار اقبال پر پاک بحریہ کے دستے نے چارج سنبھال لیا۔ کورکمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان اور گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے شاعر مشرق اور تصور پاکستان کے خالق علامہ اقبالؒ کے مزار پر حاضری دی اور مزار پر پھول چڑھائے،کور کمانڈر نے اس موقع پر مہمانوں کی کتاب میں تاثرات درج کرتے ہوئے مسلمانان بر صغیر کے عظیم رہنما کو زبردست ا لفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔شاعر مشرق اور تصور پاکستان کے خالق علامہ اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ سے حاصل کی، گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کیا، کچھ عرصہ درس و تدریس کے بعد مزید تعلیم کے لیے انگلینڈ چلے گئے۔ انگلیڈ سےواپسی پر وکالت بھی کی مگر پھر زیادہ وقت شعر و شاعری کو دینے لگے، انجمن حمایت اسلام کے پلیٹ فارم سے نہ صرف شاعری کی بلکہ فلاح و بہبود کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، آپ کی شروع کی شاعری میں وطینت اک عنصر نمایاں تھا مگر تھوڑےعرصے بعد آپ پرعیاں ہوگیا کہ مسلمانان ہند کےمستقبل کے لیے علیحدہ وطن ضروری ہے۔1926 میں علامہ اقبال پنجاب کی مجلس قانون ساز کے ممبرمنتخب ہوئے،1930 کے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ جلسے کی صدارت کرتے ہوئے ان کا دیا گیا خطبہ آگے چل کر پاکستان کے مطالبے کی بنیاد بنا۔علامہ اقبال21 اپریل 1938 کو خالق حقیقی سے جاملے مگر ان کی شاعری اور افکار اب بھی زندہ و جاوید ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے