سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم

ویب ڈیسک : منگل 17دسمبر2019


اسلام آباد: خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویزمشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔
جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس شاہد کریم اور جسٹس نذر اکبر بھی شامل تھے۔
حکومت کی طرف سے پراسیکیوٹر علی ضیاء باجوہ جب کہ سابق صدر پرویزمشرف کی طرف سے سلمان صفدر اور رضا بشیر بطور وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔حکومتی وکیل نے سنگین غداری کیس میں شوکت عزیز، عبدالحمید ڈوگر اور زاہد حامد کو ملزم بنانے کی استدعا کی جسے مسترد کر دیا گیا۔علی ضیاء باجوہ نے مؤقف اپنایا کہ مشرف کے سہولت کاروں اور ساتھیوں کو بھی ملزم بنانا چاہتے ہیں، تمام ملزمان کا ٹرائل ایک ساتھ ہونا ضروری ہے۔
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ تین افراد کو ملزم بنایا تو حکومت سابق کابینہ اور کور کمانڈوز کو بھی ملزم بنانے کی درخواست لے آئے گی۔ عدالت کی اجازت کے بغیر کوئی نئی درخواست نہیں آ سکتی۔
خصوصی عدالت نے ریمارکس دیے کہ جو درخواست باضابطہ دائر ہی نہیں ہوئی اس پر دلائل نہیں سنیں گے، استغاثہ کو یہ بھی علم نہیں کہ عدالت میں درخواست کیسے دائر کی جاتی ہے۔
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ آج مقدمہ حتمی دلائل کیلئے مقرر تھا تو نئی درخواستیں آ گئیں، کیا حکومت مشرف کا ٹرائل تاخیر کا شکار کرنا چاہتی ہے؟ ساڑھے تین سال بعد ایسی درخواست آنے کا مطلب ہے کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں۔
خصوصی عدالت کے جج نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا کہ جنہیں ملزم بنانا چاہتے ہیں انکے خلاف کیا شواہد ہیں؟ تحقیقات اور شواہد کا مرحلہ اب گزر چکا ہے۔خصوصی بینچ کے رکن نے حکومتی وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے مزید کسی کو ملزم بنانا ہے تو نیا مقدمہ دائر کر دیں، ہم آپ کی درخواست مسترد کر رہے ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس وقار احمد سیٹھ نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا کہ آپ مرکزی کیس پر دلائل دینا چاھتے ہیں یا نہیں۔حکومتی وکیل علی ضیاء باجوہ نے جواب دیا کہ میں دلائل نہیں دینا چاہتا کیوں کہ تیاری نہیں ہے۔ میری اور بھی درخواستیں ہیں وہ تو سنیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے سے متعلق بھی درخواست ہے۔جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ ہمارے سامنے صرف سپریم کورٹ کا حکم ہے اس کے تحت کارروائی چلانی ہیں۔
پرویزمشرف کے وکیل سلمان صفدر خصوصی عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نہ استغاثہ کو سن رہے ہیں اورنہ دفاع کو سن رہے ہیں تو کیس کو کیسے چلائیں گے۔
جسٹس وقاراحمد سیٹھ نے ریمارکس دیے کہ ہم عدالتی مفرور کے وکیل کو عدالت میں بولنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
سابق صدر کے وکیل رضا بشیر نے عدالت کو بتایا کہ 342 کا بیان ریکارڈ کرنے کے حوالے سے درخواست دائر کی ہے پرویز مشرف کو فیئر ٹرائل کا حق ملنا ضروری ہے۔جسٹس نذر اکبر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ 342 کے بیان کا حق ختم کر چکی ہے، پرویز مشرف چھ مرتبہ 342 کا بیان ریکارڈ کرانے کا موقع ضائع کر چکے۔
جج نے کہا کہ استغاثہ(حکومتی وکیل) اور آپ(سابق صدر کے وکیل) دونوں ہی مشرف کا دفاع کر رہے ہیں۔عدالت نے آئین سے غداری کا جرم ثابت ہونے پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ملزم پرویز مشرف کو سزائے موت سنادی اور تفصیلی فیصلہ 48 گھنٹے میں سنایا جائے گا۔

پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس، کب کیا ہوا اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے 26 جون 2013 کو وزارت داخلہ کو اس معاملے کی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) انکوائری کے لیے خط لکھا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ وزارت داخلہ پرویز مشرف سنگین غداری کے الزامات کی تحقیقات کے لئے ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم تشکیل دے۔وزیراعظم کے خط کی بنیاد پر وزارت داخلہ نے ایف آئی اے نے ٹیم تشکیل دی جس نے انکوائری کر کے وزارت داخلہ کو اپنی رپورٹ 16 نومبر کو جمع کرائی۔انکوائری رپورٹ کے تناظر میں لاء ڈویژن کی مشاورت سے 13 دسمبر 2013 کو پرویز مشرف کے خلاف شکایت درج کرائی گئی، شکایت میں پرویز مشرف کے خلاف سب سے سنگین جرم متعدد مواقع پر آئین معطل کرنا تھا، خصوصی عدالت نے 24 دسمبر 2013 کو پرویز مشرف کو بطور ملزم طلب کیا اور 31 مارچ 2014 کو سابق صدر پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔
پرویز مشرف کی جانب سے صحت جرم کے انکار پر ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کیا گیا اور 18 ستمبر 2014 کو استغاثہ نے پرویز مشرف کے خلاف شہادتیں مکمل کیں اور اس کے بعد سابق صدر کو بطور ملزم بیان ریکارڈ کرانے کا کہا گیا۔پرویز مشرف کا بطور ملزم بیان قلم بند نہ کیا جا سکا تھا، انہیں مسلسل عدم حاضری پر پہلے مفرور اور پھر اشتہاری قرار دیا گیا۔تحریک انصاف حکومت نے 23 اکتوبر 2019 کو پراسیکیوشن ٹیم کو ڈی نوٹیفائی کر دیا، استغاثہ کی ٹیم کی تعیناتی فوجی دور حکومت میں کی گئی تھی۔ڈی نوٹیفائی پراسیکیوشن ٹیم نے 24 نومبر 2019 کو خصوصی عدالت میں تحریری دلائل جمع کرائے اور خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے 28 نومبر کی تاریخ مقرر کی۔اس کے بعد وزارت داخلہ اور پرویز مشرف کے وکیل نے فیصلہ روکنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی اور 27 نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روک دیا۔آج 17 دسمبر 2019 کو پرویز مشرف سنگین غداری کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے جس میں سابق صدر سزائے کے مستحق ٹھہرائے گئے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے