دل کے موسم

تبصرہ نگار:خالددانش

فرح اقبال،ایک بلند پایہ شاعرہ

تحریر: خالد دانش

عربی کا قول ہے کہ
الیاقوت حجر لیس کالحجر
“یاقوت پتھر ہے مگر ایسا کوئی اور پتھر نہیں ہے”

فرح اقبال ایک بلند پایہ شاعرہ ہی نہیں بلکہ ایک مشاق و سند یافتہ مصورہ بھی ہیں آپ کے ہاتھوں کا سحر سر چڑھ کے بولتا ہے ۔اس کی حقیقت اس وقت عیاں ہوئی جب آپ کے دست ہنر سے تخلیق کردہ فن پارے دیکھنے کا موقع ملا۔
فرح اقبال کی شاہکار تخلیق“دل کے موسم”اور“کوئی بھی رت ہو” بعنوان ہی دل گداختہ کی نوا ہیں۔مجھے فرح کے تخیل پر مسلسل رشک آتا ہے کہ شعری مجموعہ“دل کے موسم”اور“کوئی بھی رت ہو”میں آپ کی قلم سے بکھرا ہر موتی قاری کے دل میں سر منڈل کے تار چھیڑ دیتا ہے۔اشعار میں رواں مصرعے مقدس فکر کی سوغات لگتے ہیں۔ہجر و وصال پر لکھا ہر ہر حرف بصارت و سماعت کو حیران کرتا ہے اور اک عجیب نوع کے سرور سے سرشار کرتا ہےاور شدت پیار کی منظر نگاری میٹھے پانی کے ٹھنڈے چشمے میں غوطہ زن ہونے پر مجبور کرتی ہے۔دل کی معطر جھیل میں فرح کے اشعار کا موجزن ہونا گویا اس جھیل میں جا بجا کنول کے پھول کھل اٹھےہوں۔
درحقیقت طلسم دو طرح کا ہوتا ہے۔ایک شخصی اور دوسرا علمی یا فنی۔مگر مجھے کہنے دیجئے کہ فرح شخصی اور شعور علم کے اعتبار سے زمانہ طالب علمی سے ہی دیگر سے ممتاز رہی ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فرح نے کبھی کندھے اور سیڑھیاں استعمال نہیں کیں اور پورا فنی سفر طوفانوں کے مقابل چراغ ہاتھ میں روشن رکھ کر گزارا ہے۔اسی بناء پر راقم الحروف انہیں اعلی اقدار کی امین شاعرہ و مصورہ تسلیم کرتا ہے۔
“دل کے موسم”اور“کوئی بھی رت ہو”۔۔فرح اقبال کی شاعری کے وہ نادر و نایاب نسخے ہیں کہ جن میں شاعرہ کا شخصی حسن اور علمی قدریں گلوں میں رنگ بھرنے کے مترادف ہیں۔فرح کی اضافی خصوصیات میں گرافک ڈیزائننگ میں ماسٹرز کی ڈگری بھی شامل ہے جو انہیں دیگر سے ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔۔امریکہ کے شہر ہیوسٹن ٹیکسس میں عرصہ دار سے قیام پذیر یہ بلند قامت شاعرہ TV one پر بحیثیت ڈائریکٹر بھی اپنی ماہرانہ خدمات پیش کر رہی ہیں جو پاکستان کی عوام کے لئے باعث افتخار ہے۔۔۔فرح کا طرہ امتیاز ہے کہ آپ ایک TV شو بعنوان“ایسٹرولوجی ود فرح”بھی پیش کر رہی ہیں جو آپکے علمی قد کو دارز کرتا ہے۔
شعری مجموعہ “دل کے موسم ”کے لئے شہرہ آفاق شاعر،ادیب،نقاد اور استاد الاساتذہ سحر انصاری کا قرطاس پر موتی بکھیرنا بلاشبہ صاحب کتاب کے لئے سند ہے اور سحر صاحب کی قلم سے بمثل گل ٹپکا ہر گل اصل صحت کے ساتھ محفوظ کرنے کے لائق ہے۔
فرح اقبال کی کتاب کا حسن دوبالا ہو گیا جب دیکھا کہ انہیں نعت لکھنے کی سعادت عظمی نصیب ہوئی۔گویا درحبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر پلکوں سے دستک مقدر ہو گئی۔اس پر شاعرہ جس قدر سجدہ شکر بجا لائے تو کم ہے۔
غزلیات اور نظموں کے حوالے سے آپ کی شاعری گزرے زمانوں کے شاداب جہانوں کی داستان لگتی ہے۔جو آج شعر و سخن کے چمنستان کی آبرو کو بڑھاوا دے رہی ہے۔آپ کی اس تخلیقی کاوش“دل کا موسم”اور“کوئی بھی رت ہو”کو اس باغ سے تعبیر کرتا ہوں کہ جس میں آپ کے زرخیز دماغ کی گلکاریاں پھلتی پھولتی دکھائی دیتی ہیں یعنی“دل کے موسم”اور“کوئی بھی رت ھو”وہ شعری چمن ہے جو تادم خزاں سے ناآشنا رہے گا اور قاری ہر بار ہر مصرعے سے قرار قلب پائے گا۔
یہاں یہ شہر کراچی کے شہرت یافتہ غزل گائیک ساجد علی خان کا ذکر خیر اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس سریلے گائیک نے فرح کا خوبصورت کلام گا کر صدیوں پر محیط کر دیا۔کراچی کے باسیوں اور اردو کے تشنہ لبوں کی خوش بختی ہے کہ آرٹس کونسل کراچی کو احمد شاہ کی پروقار شخصیت بطور صدر مقدر ہوئی جس نے اردو کی ترویج و تشہیر میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔بارھویں عالمی اردو کانفرنس میں فرح اقبال کی دیار غیر سے آ کر شرکت کرنااردو کے شیدائیوں کے لئے باعث فخر و افتخار ہے۔گرچہ فرح اقبال اپنی زندگی علم ،ادب اور فن کو دان کر چکی ہیں اور آپ کے فن پاروں کی طویل فہرست بھی ہے۔اگر ہم اس تناظر میں آپ کی جاذب توجہ شخصیت کو دیکھیں تو ہمیں اپنی کج روی کا احساس ہوتا ھے کہ ہم آپکی پذیرائی کا حق ادا نہ کر سکے۔دعا ہے کہ۔۔
فرح اقبال کا یہ علمی سفر خوشبوؤں اور روشنیوں کا پیامبر ہو ۔ آمین

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے