مشرف فوت ہوگئے تو لاش3 دن ڈی چوک پر لٹکائی جائے، جسٹس وقار

ویب ڈیسک : 19دسمبر2019
اسلام آباد: سنگین غداری کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس وقار احمد نے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ مشرف فوت ہوگئے تو ان کی لاش تین دن ڈی چوک پر لٹکائی جائے۔
خصوصی عدالت کے رکن جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے فیصلہ سے اتفاق کیا جب کہ بینچ کے رکن جسٹس نذر اکبر نے فیصلے پر اختلافی نوٹ تحریر کیا ہے۔جسٹس شاہد کریم نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کے پورے فیصلے سے اتفاق کیا لیکن ایک جملے(لاش ڈی چوک میں لٹکائی جائے) سے اختلاف کیا ہے۔جسٹس وقار احمد سیٹھ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ اپنی نوعیت کا مثالی کیس ہے، اس کو مثالی بنایا جائے۔جسٹس شاہد کریم نے جسٹس وقار سیٹھ نے مثالی سزا کے متعلق پیراگراف سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا کہ مثالی سزا کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں یہ غیرآئینی ہوگی۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق پرویزمشرف نے 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی لگائی اور سپریم کورٹ کے 15 ججوں کو برطرف کیا گیا۔خصوصی عدالت نے لکھا کہ صوبائی ہائیکورٹس کے 56 ججز کو بھی برطرف کیا گیا، اس وقت کے چیف جسٹس کو گھر پر نظر بند کیا گیا۔فیصلے کے مطابق جون 2013 کو اس وقت کے وزیراعظم نے ایف آئی اے کو سنگین غداری کی تحقیقات کی ہدایت کی۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے 16 نومبر 2013 کو اپنی رپورٹ جمع کرائی اور دسمبر 2013 کو عدالت میں درخواست دائر کی گئی۔تحریری فیصلے میں درج ہے کہ جمع کرائے گئے دستاویزات سے واضح ہے کہ ملزم نے جرم کیا، ملزم پر تمام الزامات کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت ہوتے ہیں، ملزم کو ہر الزام پر علیحدہ علیحدہ سزائے موت دی جاتی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشرف کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔فیصلے میں درج ہے کہ پرویز مشرف کو مفرور کرانے میں ملوث افراد کو قانون میں دائرے میں لایا جائے اور ان کے مجرمانہ اقدام کی تفتیش کی جائے۔مختصر فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا اور ان پر آئین کے آرٹیکل 6 کو توڑنے کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔ جس کی پاداش میں انہیں سزائے موت سنائی جاتی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے