پہلی محبت

تحریر:حمزہ حامی،کراچی

پہلی محبت


تحریر: حمزہ حامی


تمام یونیورسٹی فیلوز کو بھی معلوم ہو گیا
ہے کہ موصوف ہلکی پھلکی شاعری بھی کرتے ہیں ، ایک کلاس فیلو نے میری کچھ نظمیں پڑھ لیں۔کل لائبریری میں بیٹھا تھا وہ آئی اور برابر والی نشست پر تشریف فرما ہو گئی ۔میں کتاب میں گم تھا اس نے کھنکار کر مجھے متوجہ کیا میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو فوراً بولی ……
حامی صاحب آپ کی شاعری پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی تھی، آپ اس صدی کے عظیم شاعر ہیں ،مجھے فخر ہے کہ میں آپ کے عہد میں سانس لے رہی ہوں … میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی اس نے مجھے حیرت میں مبتلا کر دیا، میں انگشت بدنداں دل سے بار بار یہی پوچھے جا رہا تھا "ہونڑ دسو کی کراں اس دا”
دو چار روز میں بات اتنی بڑھی کہ جس دن وہ نہیں آتی تھی دل سے یہی صدا آتی "قاصد بس ان سے کہنا کہ آنکھیں ترس گئی ہیں”
جب میں کلاس میں نہیں ہوتا تو وہ لائبریری آ جاتی ہے اُسے معلوم ہے کلاس کے علاوہ میرا پتہ لائبریری کے آس پاس ملتا ہے ، ہمیشہ کی طرح وہ آج بھی آئی میں کتاب میں گم تھا وہ دبے پاوں آئی اور چپکے سے میری تصویر بنا کر واپس چلی گئی وہ مجھے ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی ، مجھے اُس کے آنے کا احساس تک نہ ہوا ….. گھر پہنچتے ہی اُس نے مجھے تصویر واٹس ایپ کی ساتھ ایک جملہ بھی منسلک تھا …….. "کتابوں میں کھوئے رہتے ہو ایسا لگتا ہے ہلکی بارش میں ویران جنگل میں کوئی شہزادہ اُداس بیٹھا بھیگ رہا ہے”۔
جس دن وہ کلاس میں نہیں آتی میرا بھی دل نہیں لگتا ، سرکار جون ایلیا کا شعر رہ رہ کر یاد آتا ہے ۔

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا وہ نہیں آئی مگر اس کی یادوں کے چراغ تادیر جلتے رہے ، اس کا میرے برابر والی نشست پر بیٹھنا ، شرارتاً مجھے قلم کی نوک چبھونا ، لیکچر کے دوران شرارت کرنا اور پھر اونچی آواز سے کہنا مس حامی کو دیکھیں مجھے تنگ رہا ہے ، کیفے میں فرائز کھاتے وقت میرے ہاتھ پر مارنا اور کہنا آہستہ کھاؤ چپس بھاگ رہی ہے کیا ، لائبریری میں مجھے کتاب پڑھتا دیکھ کر مشورہ دینا کہ تم خود بھی ایک کھلی کتاب ہو خود کو پڑھا کرو ۔اس کی غیر موجودگی میں اس کی یادوں کا ہجوم میلہ سا لگائے رکھتا ہے ۔ دماغ نے کئی بار کہا …..

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

مگر دل کی کیفیت یہ ہے کہ ……..

اور یہ دل کہ اُسے حد سے سوا چاہتا ہے

بڑے دنوں بعد وہ دوبارہ یونیورسٹی آئی تو اسے دیکھ کر میں پوری یونیورسٹی میں بھاگتا پھرا اور یہی گنگاتا رہا …

میرا سوہنا سجن گھر آیا
عید ہو گئی میری مجھے چاند نظر آ گیا

وہ کچھ بیماری کے سبب غیر حاضر رہی تھی اب جو آئی ہےتو میرےانگنا پھول کھلے ہیں ، کوئی دو ہفتے بعد دوستوں کو میرا چہرہ گلستاں گلستاں لگا ہے ورنہ تو ہر دوسرا طالبعلم یہی کہتا ہوا گزر جاتا تھا حامی کیا بات ہے اُجڑی ہوئی آتما جیسا حال بنا رکھا ہے …
کیفے میں بیٹھے اور بیرے کو فرائز کا حکم نامہ جاری کیا ہاں یہ وہی فرائز ہے جسے کھاتے وقت وہ میرے ہاتھ کی پشت پر چپت لگاتی اور کہتی آہستہ کھاو چپس بھاگ رہی ہے کیا … میں نے چہرے پر بوریت اور کرب کے آثار جبراً نمایاں کیے اور اس سے مخاطب ہوا ….
یار میں آج زیادہ نہیں رک سکتا مجھے گھر جانا ہے میری طبیعت ٹھیک نہیں ، وہ ایک دم سامنے صوفے سے اٹھ کر میرے پہلو میں آ بیٹھی اور اپنے مخصوص انداز میں بولی … پیارے کیا ہو گیا ہے تمہیں تمہارا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے … میں نے قدرے نرمی سے کہا سر میں شدید درد ہے ، اس نے جلدی سے اپنا دائیاں ہاتھ میرے ماتھے پر رکھا اور میرے ذہن میں پروین شاکر کا شعر بجلی کی طرح کوندا ….

اُس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ہٹایا اور مسکرا کر بولا بس اب ٹھیک ہو گیا ہوں ، آپ اپنی نشست پر تشریف لے جائیں …
اس نے دائیاں آئی برو تھوڑا اونچا کر کے مجھے دیکھا اور میری شرارت کو بھانپ گئی … بس نتیجتاً آج کا بل مجھ پر بطور جرمانہ عائد ہوا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے