ترے آنے کا انتظار رہا

ممتاز شاعر رساء چغتائی کی آج برسی ہے

رساء چغتائی ۔ ۔ ۔ الگ کیفیت کا شاعر
تحریر: حکیم خلیق الرحمن


ترے نزدیک آ کر سوچتا ہُوں
مَیں زندہ تھا کہ اب زندہ ہُوا ہُوں

عرصہ بیتا۔۔ایک اخبار چھپا کرتا تھا حُریت نام کا۔۔۔۔پالیسی تو ہر اخبار کی اپنی ہوتی ہے مگر۔۔۔۔ ”حُریت “کی اردو بےحَد جامع اور نستعلیق ہوتی تھی۔ اعراب تک کا خیال رکھا جاتا ۔اردو کے الفاظ کا ایک ذخیرہ سامنے آجاتا تھا اخبار پڑھ کر۔ اس اخبار میں ایک صاحب مرزا محتشم بیگ کام کرتے تھے ۔بہت بڑے اردو دان اور شاعر تھے ۔رساءچغتائی کے قلمی نام سے معروف تھے۔اخبار میں کام تو کچھ عرصے تک ہی کیا مگر اردو کے فروغ میں باقی رہ جانے والے نشان ثبت کئے۔ جودھ پور میں پیدا ہونے والے رساء چغتائی کا نظریہ منفرد لیکن اہم تجربے کی نشاندہی کرتا تھا۔ ان کے خیال میں شہرت کی بجائے گوشہ نشینی اختیار کی جائے تو بہترین آمد کی شاعری تخلیق ہوتی ہے کیونکہ ہر شاعر کا اپنا مشاہدہ ہوتا ہے جو اپنے الگ تخیّلات کی شکل بناتا ہے یہی وجہ ہے کہ رساء کسی ادبی گروہ کا حصہ نہیں تھے ان کی شاعری ایک الگ کیفیت سے سرشار ہے جو قاری کو تخیّل کی نئی دنیا میں لے جاتی ہے۔ان کے دوست ان سے اس بات پہ ہمیشہ ناراض رہے کہ وہ مشاعروں میں نہیں جاتے وہ مشاعروں کو ادبی وحشت کا نام دیتے جو شاعر کو شہرت کی چکا چوند میں گم کردیتی ہے۔ رساءچغتائی فی الحقیقت درویش طبع آدمی تھے اور ان کے گھر کی فضاء حقیقت میں فقر کی روشنی سے منور تھی،شاعروں میں وہ ساغر صدیقی کو جینوئن شاعر مانتے تھے۔ ان کے جتنے مجموعے اب تک منظر عام پر آئے ان کی اشاعت میں ان کے اہل خانہ کی کوشش ہے کیونکہ ان کے گھر والوں کے مطابق رساء صاحب کی خود داری اور شہرت کے شوق سے بےگانگی نے ان کے گھریلو نظام کو مشکل میں ڈال دیا ۔ روزنامہ حریت میں انہیں ادارت کی پیشکش بھی ہوتی رہی مگر رساء چغتائی نے یہ کَہہ کر انکار کر دیا کہ میرا قلَم پابند اور میری شاعری محدود ہو جائے گی۔ رساءچغتائی کی شاعری میں شام ، پیاس ، سناٹا ، وجود اور انتظار نمایاں ہیں
؎ تیرے آنے کا انتظار رہا
عمر بھر موسمِ بہار رہا
سہل ممتنع کی شاعری کرنے والے اس منفرد شاعر کے کلام کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔آج جناب رساء چغتائی کی برسی ہے۔

زیرِ نظَر نایاب تصویر کے لئے ہم جناب عابد علی بیگ صاحب کے شُکر گزار ہیں،اس تصویر میں جناب عابد علی بیگ(جو خود بھی اعلیٰ پائے کے شاعر اور مایہ ناز صدا کار ہیں) بھی فرش پہ تشریف فرما ہیں(حکیم خلیق الرحمٰن)

Show More

One Comment

  1. جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو
    ان آنکھوں سے میں دنیا دیکھتا ہوں
    رساؔ چغتائی
    بیشک رسا چغتائی سہلِ ممتنع کے شاعر تھے اور اپنے عہد کا ایک معتبر حوالہ تھے جس نے بین الاقوامی سطح پہ پذیرائی حاصل کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے