وقاص عزیز ،ایک جی دار ، دل دار

آغاسلمان باقر

وقاص عزیز ،ایک جی دار ، دل دار
از قلم: آغا سلمان باقر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں تو بڑے بڑے جی دار ہیں اردو ادب کے موجودہ عہد میں۔ مگر ایک جوان جس کو وقاص عزیز کہتے ہیں ۔عجیب آدمی ہے،سمجھنا اور سمجھانا مشکل ہے کہ وقاص عزیز کون ہے ، کیا ہے ، کیونکر ہے ۔۔۔ یہ سب سچ مچ فلسفے اور منطق کے اندر کی کہانی ہے ۔۔۔ اور آپ سب بخوبی جانتے ہیں کہ اندر کی کہانی ، اندر کا کرب اور اندر کی مسرت کا تعلق فقط اور فقط روح سے ہے ۔۔۔ روح کرب سمیٹ لے ، کرب کا شکار ہو جائے یا روح کو زخمی کر دیا جائے تو ایک بندہ ء شاعر ہمیں ملتا ہے ۔۔ آوارہ مزاج ، رکھ رکھاؤ سے آراستہ اور غصے سے کانپتا ہوا ۔۔ اور وہ ہے وقاص عزیز ۔۔۔ !
سچ پوچھیں تو وقاص عزیز خود ایک کہانی ہے ۔۔۔ عجیب سی کہانی ۔۔۔ اتنی سچی کہ سنو تو لگتا ہے کہ اس کہانی کا مصنف بہت شاطر ، زندگی کو عجیب عجیب طرح سے گھمانے پھرانے والا اور کہانی کے سب کرداروں میں تھرل بھرنے والا ۔۔۔ ایسے کردار زندگی سے ابھارنے والا کہ چکر پر چکر آجائیں ۔۔۔ یہ اس کی زندگی کی حیرت زدہ کر دینے والی کروٹیں ہیں ۔۔ جس کے تانے بانے جنگل سے شہر میں ملتے ہیں ، پھر شہر شہر بھٹکنے لگتے ہیں ، کبھی اس در کبھی اس در ، کوئی آتا ہے ، خوب شور مچتا ہے ، خوب شور مچاتا ہے ، چلا جاتا ہے ، پر اپنی اور اس کی محبت کی جیتی جاگتی کہانی چھوڑ کے جاتا ہے ۔۔ شاید اس لئے کہ کوئی بھولے نہ ۔۔۔ !
ایک غزل وقاص عزیز کی پیش کرتا ہوں ۔۔۔ مگر ذرا گہرائی میں اتر کر دیکھئے گا ۔۔۔ غزل کے مفاہیم ایک ایسے کنویں کی طرح ہیں ، جس کو زمانہء قدیم میں ” باولی” کہا جاتا تھا ۔۔۔ باولی میں کبھی پانی چڑھ جاتا ہے اور کبھی پانی اس کی تہہ میں نیچے ، بہت نیچے اتر جاتا ہے ۔۔ باولی کنویں کی دیواروں کے ساتھ ساتھ گول گھومتی سیڑھیاں ہوتی ہیں ۔۔ پانی بھرنے والی عورتیں ان سیڑھیوں سے قطار میں نیچے اترتی ہیں ۔۔ نیچے اترتے ہوئے ان کے گھڑے خالی اور بغلوں میں دبے ہوتے ہیں ، ان گھڑوں کے منہ ان کی بڑی چھوٹی چھاتیوں سے یوں چپکے ہوتے ہیں کہ لگتا ہے ،چھاتی اور گھڑا یکجان ہے ۔۔۔ مگر وہ ہر گز ہرگز یکجان نہیں ہوتا ۔۔۔ جب وہ باولی میں نیچے اترتی ہیں تو اونچی آواز میں گیت گاتی اترتی ہیں تاکہ گہرائی اور ویرانی سے خوف نہ آئے۔۔۔ جب اس کہ تہہ میں جا کر پانی بھر لیتی ہیں تو اپنی گاگروں کو سر پر رکھ لیتی ہیں اور اپنے ہاتھوں کی انگلیوں میں پہنی چاندی کی انگوٹھیوں سے بجاتی اور ہلکی آواز میں سر لگاتی ،کنویں سے قطار اندر قطار باہر ، ایک کے بعد ایک نکلتی ہے ۔۔۔ تب دور سے دیکھنے والے کو ایسا لگتا ہے کہ زمین اپنے نہاں خانوں سے رنگ اگل رہی ہے ۔۔۔ رنگوں سے سجی چولیاں اور ساڑھیاں ۔۔۔۔۔ بس یہ منظر نامہ وقاص عزیز کی غزل گوئی ، اس کی شیریں مگر اداس سر والی بحر اور پس غزل خوابیدہ مضمون کا ہے ۔۔۔ لیجئے ، اب وقاص عزیز کی چند غزلیں سنئیے اور میری بیان کردہ تمثیل کی روشنی میں دیکھئیے ۔۔۔ !

ابھرتے ڈوبتے تارے پہ کون جیتا ہے
شرابیوں کے سہارے پہ کون جیتا ہے

سڑک پہ ایک بھکاری نے بھوک چنتے کہا
تمام عمر کے لارے پہ کون جیتا ہے

محبتوں میں ہیں درکار بولتی آنکھیں
ترے خموش اشارے پہ کون جیتا ہے

جدائیوں کے بھنور میں اترنے سے پہلے
مرے عزیز کنارے پہ کون جیتا ہے

یہ دیکھنا ہے مکمل بدن کے ساتھ مجھے
کہ تیرے ہجر کے آرے پہ کون جیتا ہے

اے آرزو کے چمکتے ہوئے فلک زادے
بجھے بجھے سے ستارے پہ کون جیتا ہے

وہ خاک دان ہوا ہے جو رو برو میرے
تو آسمان تمہارے پہ کون جیتا ہے

اسی لیے تو ترے بعد خوب عشق کیا
اس عمر بھر کے خسارے پہ کون جیتا ہے
وقاص عزیز
خزاں کے زور سے لڑتی صدا نہیں کچھ بھی
شجر کے پاس سوائے دعا نہیں کچھ بھ

تمہارے غصے پہ دل کو دلاسہ دینے لگا
سمجھ رہو کہ میری انا نہیں کچھ بھی

ڈھلے جو دن تو مرے اشک جگمگانے لگیں.. اٹھیں
یہ چاند رات یہ جلتا دیا نہیں کچھ بھی

فضول بات ہے لیکن مرا یقیں دیکھو
تمہارے ہوتے ہوئے دوسرا نہیں کچھ بھی

کہ تیرے بعد ترے درد کا نیا موسم
نیا نیا سا پے لیکن نیا نہیں کچھ بھی
اگرچہ تازہ ہے

ہمارے ہجر کی بے چینیوں کو کون سنے
میں بولتا رہا اس نے سنا نہیں کچھ بھی

میں ارتضی کا بسر کر رہا ہوں ہجر عزیز
یہ لوگ کہتے ہیں جیسے ہوا نہیں کچھ بھی
وقاص عزیز
تری حنائی ہتھیلی سے آشنا ہوں میں
بچھڑنے والے ترے درد کی دوا ہوں میں

یہ واپسی تو نئی جنگ کا بگل ہے دوست
سمجھ کہ پھر سے تری سمت آ رہا ہوں میں

سڑک کے پار مرے پاوں تھک کے رکنے لگے
کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ راستہ ہوں میں

جدائی راکھ ہوئی شام کے کنارے پر
کہ ہجر و وصل کی راتوں کا سلسلہ ہوں میں

اداس رات کو روشن کروں گا جل جل کر
کسی کے ہجر میں بجھتا ہوا دیا ہوں میں
وقاص عزیز
سر_آب و ہوا موسم جدا ہے
زمیں وحشت زدہ ہے دل برا ہے

مری وحشت کو شہرت مل رہی تھی
مجھے دشت_رواں کا سامنا ہے

تمہاری آنکھ سے کیسے گرا ہوں
یہی سچ آنسووں سے پوچھنا ہے

ہمارے آئنے سے پوچھتے ہو
ہمارا آئنہ کم بولتا ہے

میں یہ جو پہلی بارش دیکھتا ہوں
اداسی کو برستا دیکھنا ہے

شناسائی محبت سے ملے گی
مرا دشمن مرے گھر آ گیا ہے

گزرتی ہی نہیں عمر_گزشتہ
محبت رفتگاں کا معجزہ ہے

ستارے طاقچوں میں جل رہے ہیں
فلک کی ہاتھ میں میرا دیا ہے
وقاص عزیز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکوت_شب میں کسی ہجر نے پکارا ہے
سنو یہ چاند نہیں ٹوٹتا ستارا پے

اداس رستے میں اک یاد ہم سفر ہے مری
مجھے یقین ہے یہ دوسرا کنارہ ہے

میں کیا بتاوں اذیت کی انتہا کیا تھی
کہ جیسے پیاس کو بھی آگ سے گزارا ہے

یہ میرے شعر مرے درد سے شناسا ہیں
یہ وہ خوشی ہے کہ جو رنج کا سہارا ہے

بچھڑتے وقت خوشی کی جھلک تھی چہرے پر
میں کیسے مان لوں میرے بنا خسارا ہے

ابھی وہ رنگ مری آنکھ سے نہیں لپٹے
ابھی وہ روپ کسے دیکھنے کا یارا ہے

مری تو خیر اداسی سے دوستی ہے عزیز
بچھڑنے والو کہو حال کیا تمہارا ہے
وقاص عزیز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانس لینے کی سہولت سے گئے
ہم ترے بعد محبت سے گئے

چند ہھولوں کا سہارا لے کر… سہارے کے سبب
ایک پتھر کی عنایت سے گئے

زندگی تیز چلی اور ہم لوگ
تجھ سے ملنے کی سعادت سے گئے

ہم نئے لوگ گنوا کر دلی
میر صاحب کی روایت سے گئے

اک توجہ کو نہ سمجھا نزدیک
اک تمنا کی اذیت سے گئے

تیرے جانے سے یہی فرق پڑا
ایک معمول کی عادت سے گئے
وقاص عزیز
کہیں دنیا کی دولت رقص میں ہے
کہیں غربت ہی غربت رقص میں ہے

یہ سرشاری تمہاری دی ہوئی ہے
یہ میں کب ہوں محبت رقص میں ہے

مری ہی خاک اڑتی ہے مرے گرد
بلائے جاں اذیت رقص میں ہے

طلب کی تال پر گھنگھرو بندھے ہیں
کسی گھر کی ضرورت رقص میں ہے

پس_دیوار چرچا اور بھی اک
سر_بازار شہرت رقص میں ہے

سمجھ آتی نہیں مزدور دل کی
یہ غربت ہے کہ محنت رقص میں ہے

کہیں کرنوں سا لہرائے مرا دل
کہیں موجوں کی صورت رقص میں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقاص عزیز
نہیں جاتا یہ پہلے عشق کا دکھ
بڑا دکھ ہے یہ تیرے عشق کا دکھ

تو خوش ہے مسکراہٹ ہے لبوں پر
مگر آنکھوں میں میرے عشق کا دکھ

وہ دن بھی تھے تری پلکوں کے جیسے
یہ راتیں بھی ہیں جیسے عشق کا دکھ

زمانے کو سنائی دے رہا ہے
مرے شعروں میں تیرے عشق کا دکھ

انا کی جنگ تو ماں باپ جیتے
مگر ہائے ہمارے عشق کا دکھ

مری آنکھیں بھی نم ہیں اور دل بھی
لگا ہے مجھ کو ایسے عشق کا دکھ
وقاص عزیز
وہ شخص میرے برابر سے جب نکلتا ہے
نئے سفر پہ مرا دل بھی تب نکلتا ہے

تمہارے ہاتھ سے آتی ہے اجنبی سی مہک
سو تم سے دوری کا یہ بھی سبب نکلتا ہے

اسی کو یار میسر ہے خوش نظر ہونا
جو دیکھ لے کہ نیا چاند کب نکلتا ہے

کھڑا ہوا ہوں زمانوں سے میں در_دل پر
کہ شہریار_ اب نکلتا ہے

وہ پوچھتے ہیں کہ یہ کون ہے وقاص عزیز
جو اس زمانے میں بھی بے طلب نکلتا ہے
وقاص عزیز
کہیں اداس درختوں پہ جب بہار آئے
گلاب_وصل کے کھلنے کا اعتبار آئے

کسی کا ہجر کسی کی کسک کسی کا ملال
کوئی سبو میں. ملائے تو پھر خمار آئے

عجیب ہوتے ہیں یہ سلسلے محبت کے
بچھڑنے والے بچھڑ کر بھی بار بار آئے

عجب طرح کی مری آنکھ کی بناوٹ تھی
وہ ایک خواب جو ٹوٹا تو پھر ہزار آئے

کسی کا عکس بنے چھاوں میں ستاروں کی
فلک کی آنکھ کھلے چاند کو قرار آئے

وہ ایک خواب کی دستک پہ چونکتے ہوئے ہم
کسی خیال کی رو میں تجھے پکار آئے

گزر دہا تھا کسی اجنبی سڑک سے عزیز
سلام پہلی محبت کے بے شمار آئے
تازہ غزل ۔۔۔وقاص عزیز
کسی کے عشق میں کچھ ایسا مبتلا ہوا میں
کہ اس کو شاہ بناتے ہوئے گدا ہوا میں

میں ٹوٹ پھوٹ گیا ہوں بنا بنایا ہوا
اور اس پہ ظلم ترے ہاتھ سے فنا ہوا میں

میں تم کو دیکھ رہا تھا،دکھائی دینے لگا
تمہارے شہر میں آ کر ہی آئنہ ہوا میں

کوئی اتار نہیں پا رہا تھا قرض مرا
بچھڑتے وقت کسی آنکھ سے ادا ہوا میں

پھر اس کے بعد تو پاکیزگی ٹپکنے لگی
کسی کو دیکھ کے اندر سے دودھیا ہوا میں

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے