سالا ایک انجکشن ۔ ۔ ۔ اور حوریں

رحمان فارس

سالا ایک انجکشن۔ ۔ ۔اور حُوریں

  • رحمان فارس

آج کل حُوروں کا بہت تذکرہ ہے۔ گلی محلوں کی نکڑوں پر بنے تھڑوں سے ایوانِ اقتدار کے بڑوں تک ہر کوئی حُوروں کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتا ہے۔صدیوں سے داستان طلسمِ ہوشربا میں حُوروں کے تذکرے کے ساتھ انگوروں اور دودھ کی نہروں کا ذکر لازمی ٹھہرتا تھا لیکن امتدادِ زمانہِ دیکھیے کہ آج کل بیچاری حُوروں کا تذکرہ انجکشنوں اور لنگوروں سے جُڑ گیا ہے جو کہ تاریخِ حُور میں کافی تحیر انگیز اور تشویش ناک وقوعہ ہے۔
حُورانِ جنت کے مُلائم جسموں اور حدود اربعہ کی انچ در انچ تعریف کرتے ہوئے ہمارے بعض مولوی حضرات نے جوشِ خطابت و شہوت میں (حُوروں کے) چند اعضائے بدن کی کشادگی کو میلوں تک پھیلا دیا ہے۔ علم الابدان کے تمام طلبا کے لیے یہ بات اچنبھے کا باعث ہے۔ میڈیکل سائنس البتہ اس امر میں خاموش ہے (کیونکہ خاموشی ہی میں بھلا ہے)
حُوروں کی بدنی ساخت کی ان اشتہا انگیز وضاحتوں کے بعد ہم نے اس آسمانی مخلوق کے بارے میں کچھ سوچنا چاہا تو چشمِ زدن میں دانشورِ باکمال جاوید احمد غامدی کا دل توڑنے والا بیان دھیان میں آدھمکا کہ “جنت کی جن حُوروں کے لالچ میں مومنینِ عالم نماز و روزہ و قُربانی و حج ادا کرتے نہیں تھکتے وہ دراصل اُن کی اپنی ہی بیویاں ہوں گی۔” ایسے دل شکن بیان کے بعد بھلا جنت میں کیا خاک کشش بچتی ہے۔ ہمیں یقینِ کامل ہے کہ مرزا نے جب یہ مندرجہ ذیل مطلع کہا تو اُن کے ذہن میں اُن کی زوجہ ماجدہ ہرگز نہیں تھیں:
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے
حُورانِ خُلد میں تری صورت مگر ملے

ویسے آپس کی بات ہے کہ مرزا نوشہ حُوروں کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے۔ اب یہ شعر ہی دیکھ لیجے:
ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
قدرتِ حق سے یہی حُوریں اگر واں ہوگئیں
مصرعہ اُولٰی آخری لفظ آنے سے پہلے تک کافی مشکوک (اور فحش) تھا۔ لیکن مُرشد آخر مُرشد ہیں، انتقام کا لفظ چسپاں کرکے بات سنبھال گئے ورنہ عصرِ حاضر کے مشکوک نقاد مرزا پر فحش نگاری کا الزام لگادیتے۔ عین ممکن ہے کہ مرزا شاعری کے پردے میں نجی جذبات کے کھلم کھلا اظہار کرنے کے جُرم میں دھر لیے جاتے۔ بہادر شاہ ظفر تک نیب کے ڈر سے ضمانت کروانے نہ پہنچتے۔ مرزا تھانہ مزنگ کی حوالات میں ہفتوں “ابنِ مریم ہُوا کرے کوئی” کا نوحہ الاپتے پھرتے۔
بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ بات میں یہی بُری بات ہے کہ شروع ہوجائے تو رُکتی نہیں، دُور تلک جاتی ہے۔ اب اسی بات کو دیکھ لیجے کہ جیسے سالا ایک مچھر آدمی کی مردانگی پر کاری ضرب لگا سکتا ہے، اسی طرح سالا ایک انجکشن آدمی کے تخیل کو وسعتِ کون و مکاں تک پرواز دے سکتا ہے کہ جہاں اشیا کی ماہیت اور نرسوں کی صورت تک بدل جائے۔ ایسی حالتِ حال میں مکڑی تتلی دکھائی دیتی ہے اور بھینس ہرنی۔
ہم حکومتِ وقت سے پرزور گزارش کرتے ہیں کہ اپنی بیویوں سے تنگ تمام شوہروں کو ماہانہ تنخواہ کے ساتھ ایسے تیس انجکشن دیے جائیں تاکہ بچارے شوہر روز دفتر سے گھر واپسی پر یہ انجکشن اپنے پہلو میں ٹھوک کر گھر جاویں اور بجائے بیوی حوُر کو منتظر پاویں۔ اس اقدام سے گھر گھر خوشحالی آئے گی جس سے مُلکی اکانومی میں بھی یقیناً بہتری آئے گا اور روپے کی قیمت قدرےمستحکم ہونے کا قوی امکان ہے۔ البتہ آبادی میں خوفناک اضافے کا خدشہ بہرحال موجود ہے۔

تفنن برطرف، ہمارے علامہ اقبال بھی جب خدا سے شکوہ کرنے پر اُترتے ہیں تو جھنجلا کر چِلّا اُٹھتے ہیں کہ:
قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملے حُور و قصور
اور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حُور ؟
صاحبو ! دل تو ہمارا بھی دل ہے لہٰذا مسلمانوں کی اس نارسائی پر اقبال جتنا نہ سہی، لیکن دُکھتا ضرور ہے۔ سو ہم اُمتُ الباکستان کے لیے مشورہ لے کر حاضر ہوئے ہیں کہ دوستو ! اگر آپ بندہ بشر ہونے کی حیثیت سے کبھی کبھار نماز روزے میں غفلت برت جاتے ہیں اور جنت میں حُوریں ملنے کا امکان دن بدن کم ہوتا جارہا ہے تو نمازوں پر توجہ دیجے ورنہ واحد حل ہے کہ کسی طرح مبینہ انجکشن قابو کر لیجے اور بوقتِ ضرورت و حسبِ ذائقہ اپنی تشریف پر لگا کر دُنیا ہی میں حُوران جنت کے نظارے کیجے۔
وما علینا الا البلاغ

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے