سانس لیتی جیتی جاگتی کتابیں

محمد عامر خاکوانی

سانس لیتی جیتی جاگتی کتابیں
محمد عامر خاکوانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتابوں کے ساتھ گزرے لمحات سے زیادہ دل خوش کن اور یاد رہنے والی ساعتیں اور نہیں ہوسکتیں۔ میری زندگی کی جو مسرور کر دینے والی گھڑیاں ہیں ان میں کتابوں نے سب سے زیادہ اہم کردار ادا کیا۔ مجھے یاد ہے کہ میرا بچپن، لڑکپن پورے گھروالوں سے الگ تھلگ سب سے آخر والے کمرے میں گزرتا تھا۔ جہاں رسالے، ڈائجسٹ اور کرایے پر لی گئی کتابیں تھیں اور شب وروز انہی کے ساتھ بسر ہوتے۔ ہم سے پچھلی نسل نے ایک پیسہ یا ایک آنہ لائبریری دیکھی تھی، ہم تک پہنچتے وہ ایک روپیہ اور پھر پانچ روپیہ روز انہ کرایہ والی لائبریری ہوگئی۔ چھٹی ساتویں ، آٹھویں جماعت ہی میں نسیم حجازی کے تمام ناول، عبدالحلیم شرر کے تاریخی ناول، قمر اجنالوی کی بغداد کی رات، مقدس مورتی وغیرہ کرائے کی لائبریریوں سے پڑھ ڈالیں۔ احمد پورشرقیہ میں قمر لائبریری نام کی ایک دکان تھی، اس کے مالک گھڑی سازی کا کام کرتے تھے، ساتھ لائبریری بھی چلاتے۔میٹرک تک اسی قمر لائبریری سے کام چلاتے رہے، ابن صفی کے تمام ناول ، مظہر کلیم کے ڈھائی تین سو ناول ، اشتیاق احمد کی انسپکٹر جمشید، کامران سیریز بھی یہیں پڑھی۔ سب رنگ کے پرانے پرچے بھی یہیں پڑھے اور بازی گر کی لت بھی لگی۔ کرایے کی لائبریری سے لے کر پڑھنے کا سب سے زیادہ فائدہ یہ ہوا کہ سپیڈ بہت تیز ہوگئی۔ ایک دن میں کئی سو صفحات کا ناول پڑھنا اور پیسے بچانے کی غرض سے فوری واپس کردینے کی عادت پڑ گئی۔ خوش قسمتی سے ہمارے شہر میں بلدیہ کی اچھی لائبریری موجود تھی، وہاں سے خاصا استفادہ کیا، کالج لائبریری سے بھی کچھ کتابیں پڑھیں۔
جب لاہور آنا ہوا توپہلی ملازمت اردو ڈائجسٹ میں کی۔ لاہور کے کسی بھی اخبار، جریدے میں سے سے اچھی لائبریری اردو ڈائجسٹ میں تھی ، جہاں ڈاکٹر اعجاز قریشی صاحب کی اپنی دلچسپی سے ہزاروں کتابیں موجود تھیں، ہر سال سینکڑوں مزیدخریدی جاتیں۔ ہم نے خوب مزے اڑائے،یہ سوچ کر دل خوش ہوتا کہ ساری زندگی پیسے دے کر کتابیں پڑھتے رہے اور اب کتابیں پڑھنے، ان پر لکھنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ لاہور میں کتاب میلہ کی روایت شروع ہوئی، تب سے کتابیں پڑھنے والوں کے لئے بہت آسانی پیدا ہوگئی۔ فیس بک کے توسط سے بہت سے دوست ، نوجوان پڑھنے والے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ اچھی کتابوں کی فہرست بتائیں اور یہ کہاں سے خریدی جا سکتی ہیں۔ ان سب کو یہی مشورہ دیتا ہوں کہ جہاں بھی رہنے والے ہیں، اپنے شہر یا قریبی شہر میں کتاب میلے کے انعقاد کا انتظار کریں ۔ لاہورکے ایکسپو سنٹر میں ہر سال فروری کے پہلے ہفتے میں شاندار کتاب میلہ ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد اسلام آباد میں نیشنل بک فاﺅنڈیشن کے زیراہتمام کتاب میلہ ہوگا۔پنجاب یونیورسٹی والے ہر سال اپریل کے ابتدا میں کتاب میلہ لگاتے ہیں۔ اب لٹریری فیسٹول کی روایت چل نکلی ہے ۔ لاہور ، کراچی ، اسلام آباد کے ساتھ پشاور، فیصل آباد وغیرہ میں بھی یہ ہونے لگے ہیں۔
آج کل ایکسپو سنٹر،لاہور میں کتاب میلہ شروع ہے، پیر، دس فروری رات دس بجے تک جاری رہے گا۔ پچھلے دو دنوں سے کتاب میلہ کا چکر لگ رہا ہے۔ دیکھ کر جی خوش ہوجاتا ہے ۔ جو کہتے ہیں کہ کتاب ختم ہوگئی، انہیں ایک بار اس کتاب میلہ کا چکر ضرور لگانا چاہیے۔ اس کی اصل رونق تو اتوار کو ہوتی ہے جب محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتا ہزاروں لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ادھر کا رخ کرتے ہیں۔ جہلم بک کارنر کے عمار شاہد نے دلچسپ بات کی کہ ایک فقرہ کہا جاتا ہے ،یہ کتابوں کی آخری صدی ہے، یہ بات درست نہیں، ایسا صرف اسی صورت میں ہوگا جب یہ دنیا کی بھی آخری صدی ہوگی، ورنہ کتاب تو دھڑا دھڑ چھپ اور بک رہی ہے۔ وہ بتانے لگے کہ ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا نے الٹاکتاب چھاپنے والوں کے لئے آسانی پیدا کر دی کہ وہ آسانی کے ساتھ براہ راست قارئین تک پہنچ سکتے ہیں۔ آن لائن کتابوں کی فروخت کا نیٹ ورک وسیع ہو رہا ہے، اس میں پبلشر کو دکان داروں کی ضرورت ہی نہیں، براہ راست قاری تک رسائی مل گئی۔
یہ بھی غلط ہے کہ صرف شاعری اور مذہبی کتابیں بکتی ہیں۔ مذہبی کتابیں آج بھی زیادہ لی جا رہی ہیں، اس کی وجہ مذہب کے ساتھ لوگوں کا تعلق اور جذباتی وابستگی ہے۔ فکشن اور نان فکشن کتابیںبھی ٹھیک ٹھاک رفتار سے فروخت ہور ہی ہیں۔گزشتہ روز میں نے تین درجن کے قریب کتابیں خریدیں، ان میں سے درجن کے قریب فکشن ہاﺅس سے ادبی کتابیں لیں۔ ٹالسٹائی کی بہترین کہانیاں، ٹالسٹائی کے دونوں عظیم ترین ناول” جنگ اور امن“، ایناکارینیناجبکہ ٹالسٹائی ہی کی آپ بیتی بھی موجود تھی۔پائیلو کوہیلو کے تین ناول ترجمہ شدہ موجود تھے، رسول حمزہ توف کی” میرا داغستان“ بھی دوبارہ سے چھپ چکی ہے، یہ میری پسندیدہ کتابوں میں سے ایک ہے۔پاگل آدمی کی ڈائری خالد فتح محمد کا نیا ترجمہ کل ہی مارکیٹ میں آیا ”رسوائی کی ساتویں سمت“ جے ایم کٹ سیا کا نوبیل انعام یافتہ ناول ہے، اسی طرح فرانسیسی فلسفی کامیو کاناول” اجنبی “، کافکا کاناول ” مقدمہ(دی ٹرائل)“، چیخوف کا ناول، اس کے افسانے،التوا میں موت (سارتر کا ناول)، گارشیا مارکیز کا” میں یہاں موجود ہوں“ جبکہ بعض دوسرے اہم ادبی شاہکار بھی موجود تھے۔ نوجوان فیس بک بلاگر عماد بزدار کی خوبصورت کتاب ”ملزم جناح حاضر ہو“ بھی یہیں موجود ہے۔اس کتاب میں قائداعظم پر لگائے گئے الزام کا بڑے مدلل انداز میں دفاع کیا گیا ہے، کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی طرح مکتبہ جدید نے محمد حسن عسکری صاحب اور بعض دیگر نامور لکھاریوں کی پرانی کتابیں، ناول پھر سے شائع کئے ہیں۔ عسکری صاحب کا ناول مادام بواری، بڈھا گوریو بھی موجود ہے، اناطول فرانسس کا تائیس بھی ملا جبکہ شورش کی نورتن اور باری علیگ کی کتاب وہ جو معتوب ہوئے خریدی ۔غلام علی اینڈ سنز ایک زمانے میں بہت بڑا اشاعتی ادارہ تھا، افسوس کہ زمانے کے ساتھ زوال پزیر ہوگیا، وہاںپر ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تقریباً تمام کتابیں موجود ہیں۔ ڈاکٹر برق نے کئی متنازع کتابیں لکھیں، زندگی کے آخری برسوں میں ان کے عقائد میں مثبت تبدیلی رونما ہوئی اور وہ پرویزی فکر سے آزاد ہوئے۔ان کی کتابیں من کی دنیا، میری آخری کتاب اسی زمانے کی ہے، یہ بھی لے لی۔ قادیانیت کے خلاف اردو میں جو چند ایک موثر کتابیں لکھی گئیں، ان میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی حرف محرمانہ بھی شامل ہے۔اسے ضرور پڑھ لینا چاہیے۔غلام علی والوں نے فقہ کے چاروں آئمہ اور امام جعفر صادقؒ، امام ابن تیمہؒ پر بڑی عمدہ کتابیں شائع کی ہیں۔ مشتاق والوں سے ممتاز عرب سکالرعمر ابولنصر کی خلفا راشدین پرلکھی کتابیں مل گئیں۔ ان کا کمال یہ ہے کہ بلا کے توازن کے ساتھ لکھی گئیں ، اہل سنت کا معروف علمی نقطہ نظر ان میں جھلکتا ہے۔محمد الیاس ہمارے انڈرریٹیڈ ادیب ہیں۔ انہوں نے کمال کے افسانے لکھے ہیں، افسوس کہ زیادہ تذکرہ نہیں ہوا۔ ان کی کتاب وارے کی عورت خریدی، عاصم بٹ میرے پسندیدہ مترجم اور ادیب ہیں۔ ان کا ناول دائرہ اور بھول بھلیاں پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا کیا جاپانی کہانیوں کا ترجمہ لے لیا۔
سرکاری ، نیم سرکاری اداروں کا بڑا فائدہ یہ کہ کتابیں نہایت سستی مل جاتی ہیں، نیشنل بک فاﺅنڈیشن اس حوالے سے قابل ذکر ہے، البتہ دارالثقافت اسلامیہ میں اس بار مایوسی ہوئی، کتابیں مہنگی تھیں۔نیشنل بک فاﺅنڈیشن نے بچوں کے لئے بہت ہی عمدہ ، خوبصورت اور سستی کتابیں انہوں نے چھاپ رکھی ہیں۔دنیا بھر کی لوک کہانیاں،سیرت پر کتابیں اور بہت کچھ دوسرا۔ ایک ہزار روپے میں کئی اچھی کتابیں مل جائیں۔پال کینیڈی کی مشہور کتاب عظیم طاقتوں کا عروج وزوال بھی ان سے لیا، بچوں کے لئے شیکسپئیر کے منتخب ڈرامے ، وتائیو فقیر کی کہانیاں، سرائیکی لوک کہانیاں، گلگت بلتتسان کی کہانیاں وغیرہ لیں۔ مجلس ترقی ادب کے سٹال کا بھی چکر ضرور لگانا چاہیے۔ پچھلی صدی کے سب سے بڑے مورخ ٹائن بی کی مشہور کتاب سٹڈی آف ہسٹری جس کا ترجمہ مولانا مہر نے کیا، اس کی دونوں جلدیں جبکہ شاخ زریں جیسی مشہور کتاب بھی نہایت ارزاں داموں مل سکتی ہیں۔ موٹیویشنل لٹریچر اس بار بہت زیادہ موجود تھا۔ سید قاسم علی شاہ کی اپنی لکھی کتابیں خاص کر ٹیچر سے ٹرینر تک جبکہ ان پر لکھی کتاب” گرو“ کو نوجوان ڈھونڈ رہے تھے۔ عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کے ناول اس بار بھی ان فیشن ہیں۔گڈ ڈیڈ بیڈ ڈیڈ، رچ ڈیڈ پور ڈیڈ اور اسی طرح کی دیگر کتابوں کے تراجم بھی مختلف پبلشرز سے دستیاب تھے، بھارتی موٹیویشنل سپیکررابن شرما کی کتاب” پانچ بجے والا کلب“ اور بعض اور بھی چھپ چکی ہیں۔ہمارے ساتھی صحافی اور دوست محمود الحسن نے کرشن چندر، راجندرسنگھ بیدی اور کنھیا لال کپور کی لاہورکے حوالے سے یادوں کو اکٹھا کرتے ہوئے لاہور پُرکمال کے نام سے شائع کرایا ہے،اس کا ٹائٹل بہت خوبصورت ہے جبکہ لاہور کو چاہنے والوں، لاہور میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ دلکش کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ خاکسار کی نئی کتاب ”زنگار نامہ“بھی سید قاسم علی شاہ فاﺅنڈیشن نے شائع کی ہے۔ اپنی کتاب کے حوالے سے پھر سہی کہ یہ کالم صرف کتاب اور کتاب دوستوں کے لئے لکھاہے۔ کیا ہی خوب ہو کہ اتوار کا دن گھر میں سوئے رہنے کے بجائے کتاب میلہ کا چکر لگا لیا جائے۔ خاص کر ہمارے سینئر کالم نویس ، ٹاک شوز اینکرز،نیوز اینکرز، رپورٹرز اوردیگر صحافی حضرات ضرور جائیں۔ عام آدمی سے اپنا فاصلہ کم کریں ، کتابوں کی صحبت میں چند گھڑیاں گزاریں۔ یقین مانیں کہ دل ودماغ تروتازہ ہوجائیں گے، جس کی اچھوتی مہک آپ کی گفتگواور تحریر سے آئے گی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے