سردار عبدالرب نشتر،قائداعظم کے افکار کے وارث

تحریر:حکیم خلیق الرحمان

سردار عبدالرب نشتر،قائداعظم کے افکار کے وارث

تحریر:حکیم خلیق الرحمان


شاہی قلعہ لاہور کا مرکزی دروازہ طویل عرصے سے بند پڑا تھا اور انگریز اسے اسلامی فن تعمیر سے تعصب کی بنا پر عام لوگوں کےلئے نہیں کھولتے تھے لیکن قیام پاکستان کے بعد سردار عبدالرب نشتر نے ہی اسے کھلوایا۔سردار عبدالرب نشتر نے ہندوﺅں کی جانب سے مسلمانوں کو ہندو بنانے کی شدھی اور سنگھٹن تحریکوں کے مقابلے کےلئے ادارہ تبلیغ اسلام بنایا۔ پنجاب مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سیالکوٹ میں قائداعظم محمد علی جناح نے انگریزی میں تقریر کی۔ اس کے بعد سردار عبدالرب نشتر کو اس کا اردو میں ترجمہ کرنے کی دعوت دی گئی چنانچہ آپ نے نہایت فصیح و بلیغ اردو میں اس کا ترجمہ کیا۔ بعد ازاں قائداعظم نے سردار عبدالرب نشتر کو بلوا کر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے میری تقریر کا رواں ترجمہ کر کے اس کا حق ادا کر دیا۔
علم و ادب سے آپ کو بڑا لگاؤ تھا اور شاعری کا بھی بڑا شغف تھا آپ ”نشتر“تخلص استعمال کرتے تھے۔ آپ قائد اعظم اور علامہ محمد اقبال کے خیالات و جذبات کے امین تھے۔ آپ اعلیٰ پائے کے مقرر، مخلص لیڈر اور فہم و فراست سے مالا مال تھے۔۔۔ دوران وزارت آپ عام لوگوں کے حالات سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے بغیر کسی پروٹوکول کے ان کے پاس خود جایا کرتے تھے۔ آپ اختیارات کے ناجائز استعمال کے انتہائی خلاف تھے۔ آپ کی عملی زندگی آپ کے اصولوں کی پاسداری کی اعلیٰ مثال ہے۔ ۔ آپ حقیقی معنوں میں قائداعظم محمدعلی جناح رح کے پیروکار تھے قائداعظم سے محبت کی اس سے بڑھ کر دلیل اور کیا ہو گی کہ جناب عبدالرب نشتر نے اپنا ظاہر بھی اپنے قائد جَیسا رکھا۔جناح کیپ اور اچکن آپ کا پسندیدہ لباس رہا۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا مُلک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ہم اس مُلک کا نظام قائداعظم محمد علی جناح کے افکار کی روشنی میں مرتب نہیں کرتے ۔ آج جناب عبدالرب نشتر کی برسی ہے۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔ حسبِ عادت۔۔۔۔ ذرائع ابلاغ اس بارے میں خاموش ہیں کیونکہ جناب نشتر کسی "انقلاب” کے علمبردار نہیں تھے۔۔۔وہ صرف قائداعظم کے افکار کے وارث تھے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے