آہ علی یاسر….انا للہ و انا الیہ راجعون

آہ علی یاسر،انا للہ و انا الیہ راجعون

اسلام آباد(عقیل عباس جعفری سے)اردو ادبی حلقوں میں یہ خبر دکھ اور افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ جواں سال شاعر، ادیب، محقق، نقاد، مترجم، ریڈیو ٹی وی رائیٹر اور اینکر پرسن ڈاکٹر علی یاسر برین ہیمرج کے باعث وفات پاگئے۔
ڈاکٹر علی یاسر 13 دسمبر 1976 کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوۓ تھے ۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے اردو کیا اور پھر علامہ اقبال یونیورسٹی اسلام آباد سے اردو میں ایم فِل کرنے کے بعد اسی مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
علی یاسر نے 1990 میں شاعری کا آغاز کیا اور انتہائی کم وقت میں ادبی حلقوں میں اپنی مضبوط پہچان اور جدا رنگ قائم کرنے میں کامیاب رہے۔علی یاسر اکادمی ادبیات سے وابستہ تھےجہاں وہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے-وہ میڈیا سے بھی وابستہ رہے اور ریڈیو اور ٹی وی کے پروگرامز میں شریک ہوتے رہے اور ان کی میزبانی بھی کرتے رہے- انھوں نے پی ٹی وی کے لئے بہت سی دستاویزی فلموں کے اسکرپٹس اور نغمے تحریر کیے۔ بطور مترجم انہوں نے انگریزی اور پنجابی سے اردو میں تراجم کئے جن میں “چین کی محبت کی نظمیں” اور “نوبل لیکچر” وغیرہ شامل ہیں۔علی یاسر علامہ اقبال یونیورسٹی سے جُز وقتی استاد کے طور پر بھی وابستہ تھے۔
علی یاسر مشاعروں میں بھی شریک ہوتے رہے اور اکثر مشاعروں میں نظامت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے – وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ادبی محافل اور مشاعروں میں شرکت کے علاوہ دبئی، ابو ظہبی، نئی دلی اور عمان کے مشاعروں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکے تھے-
علی یاسر کی غزلوں کا مجموعہ 2007 میں “ارادہ” کے نام سے منظر عام پر آیا جبکہ 2016 میں ان کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ “غزل بتائے گی” کے عنوان سے شائع ہوا- علی یاسر نے 2008 اور 2010 میں اہلِ قلم ڈائرکٹری مرتب کی- “کلیاتِ منظور عارف” اور “اردو غزل میں تصورِ فنا و بقا” کے عنوانات سے ان کی کتابیں زیرِ طبع ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے