پاکستان میں ایک جانب کورونا تو دوسری جانب بھوک ہے، عمران خان

ویب ڈیسک:03اپریل2020
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ الحمد للہ! پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال پریشان کن نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 14 اپریل تک اسی طرح کی پابندیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے یہ بات اپنی زیر صدارت منعقدہ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کہی۔اجلاس میں کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ متاثرہ افراد کی تعداد صرف کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر جاری کرے گا۔ انہوں نے ہدایت کی تمام صوبے معلومات کمانڈ اینڈو کنٹرول سنٹر سے شیئر کریں۔ وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ کورونا وائرس سے متعلق اعداد و شمار کسی صورت نہ چھپائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وبا سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات چھپانا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ حکومتی اقدامات اور تمام اداروں کی محنت سے صورتحال کنٹرول میں ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 14 اپریل کے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کے فیصلے کریں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک جانب کورونا تو دوسری جانب بھوک ہے۔ انہوں ںے کہا کہ لاک ڈاؤن اس وقت کامیاب ہوگا جب پورے ملک میں ہو۔ سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خوف تھا کہ لاک ڈاؤن ہوا تو کیا غریبوں کو کھانا پہنچا سکیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ ووہان، چین میں لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کو گھروں میں کھانا پہنچایا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ کورونا وائرس پوری دنیا میں چیلنج بن چکا ہے لیکن پاکستان میں کورونا کا چیلنج مغربی ممالک سے بالکل مختلف ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نہیں معلوم کہ آئندہ دو ہفتے کے بعد پاکستان میں کیا صورتحال ہوگی؟ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں ںے کہا کہ تعمیراتی سیکٹر کو کھلنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 1200 ارب روپے کا پیکج دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں زراعت کا سیکٹر مکمل طور پر کھلا ہوا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی بیماری امیرو غریب میں فرق نہیں کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم فیصلہ کرے گی کہ اس وائرس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے؟انہوں نے تسلیم کیا کہ لوگوں میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی لوگ جمع ہوں گے وہاں لاک ڈاؤن ہوگا۔ملک کی معاشی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم عمر ان خان نے بتایا کہ ہم سے دس ملین لوگ رابطہ کرچکے ہیں کہ انہیں پیسے چاہئیں۔ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ آج کوئی بھی نہیں کہہ سکتا ہے کہ آئندہ اور آگے کیا ہوگا؟ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں زراعت کا سیکٹر کھلا ہوا ہے اور سندھ میں گندم کی کٹائی شروع ہوچکی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ یومیہ اجرت کے مزدوروں کو روزگار ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ زراعت اورتعمیرات کے شعبوں میں روزگار دیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ہم نے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو بھی محدود حد تک کھول رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعمیراتی سیکٹر کھلنے سے معیشت کا پہیہ چل سکتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہوٹلنگ سیکٹر میں پارسل سسٹم کو ہم نے کھولا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشیائے خورد ونوش کی ٹرانسپورٹیشن بھی ہم نے کھول دی ہے۔ایک سوال پر وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ یہ سوچ بھی خطرناک ہے کہ ہمیں کورونا سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے