کورونا وائرس: پنجاب میں ایک ہزار سے زائد کیسز، مجموعی اموات 40 ہوگئیں

ویب ڈیسک : 03اپریل2020
لاہور: پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 141 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبہ بھر میں کیسز کی مجموعی تعداد 1،069 ہوگئی ہے۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق کیمپ جیل لاہور میں بھی 3 قیدیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے سبب 35 افراد ہلاک اور2458 متاثر ہو چکے ہیں۔
کورونا وائرس کے سبب اسلام آباد میں 62، پنجاب 928، سندھ 783، خیبرپختونخوا 311، بلوچستان 169، آزاد کشمیر9 اور گلگت بلتستان میں190 افراد متاثر ہوئے ہیں۔سندھ میں کورونا وائرس کے سبب 11، پنجاب11،خیبرپختونخوا9، بلوچستان1 اور گلگت بلتستان میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پاکستان میں 125 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔وزارت صحت کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کیسز میں سے 46 فیصد کا تعلق ایران اور 27 فیصد کا دیگر ممالک سے ہے جب کہ 27 فیصد مریض لوکل ٹرانسمیشن کا نتیجہ ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 161 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور 4 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جب کہ 126 افراد صحت یاب ہوئے۔بیس ہزار 813 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے، متاثرہ افراد میں 72 فیصد بیرون ممالک سے آئے۔ اٹھائیس فیصد مقامی افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ملک بھر میں 414 اسپتالوں میں آئیسولیشن کی سہولت موجود ہے جن میں 6 ہزار 335 بیڈ ہیں۔ ایک ہزار 122 متاثرہ افراد اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں کورونا وائرس سے متاثرہ 10 کی حالت تشویشناک ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے مطابق 8 ہزار 493 افراد کوگھروں میں قرنطینہ کی سہولت دی گئی ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے آج 3 اپریل کو مزید نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 2 ہزار 637 ہوگئی جبکہ اب تک 40 افراد اس وائرس سے انتقال کرچکے ہیں۔
گزشتہ روز یعنی 2 اپریل کو بھی ملک میں کورونا وائرس کے مزید 181 کیسز اور 3 اموات ریکارڈ کی گئیں جس میں 2 افراد کی سندھ اور ایک کی خیبرپختونخوا میں موت واقع ہوئی۔
26 فروری کو پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آیا جس کے بعد اس عالمی وبا کے کیسز میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
اس وقت پنجاب اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں کیسز کی تعداد 1069 ہوگئی ہے، اس کے بعد سندھ ہے جہاں آج کے نئے کیسز کے بعد تعداد 783 تک جا پہنچی ہے۔خیبرپختونخوا بھی اس وائرس سے کافی متاثر ہوا اور وہاں 343 افراد اس کا شکار ہوئے جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد 175 ہے۔اسی طرح اسلام آباد میں 68 ، گلگت بلتستان میں 190 اور آزاد کشمیر میں 9 لوگ اس مہلک وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ملک میں اس وائرس سے ہونے والی اموات کو دیکھیں تو سندھ میں سب سے زیادہ 14 لوگ انتقال کرچکے ہیں جبکہ پنجاب میں 11، خیبرپختونخوا میں 11، گلگت بلتستان میں 3 اور بلوچستان میں ایک فرد جان کی بازی ہار چکا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ میں ہونے والی ان 14 میں سے 12 اموات کراچی میں جبکہ 2 اموات حیدر آباد میں ہوئیں۔
ایک طرف جہاں اموات اور کیسز ہیں تو دوسری طرف وہ 126 صحتیاب مریض بھی ہیں جنہوں نے اس وائرس کے خلاف جنگ جیتی اور مکمل طور پر صحتیاب ہوگئے۔آج کے کیسز کی بات کریں تو سندھ میں دو اموات اور کیسز، پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں مزید کیسز سامنے آئے جبکہ 24 گھنٹوں کے دوران گلگت میں ایک اور موت کی تصدیق کردی گئی۔
محکمہ صحت سندھ کی میڈیا کورآرڈینیٹر میران یوسف نے بتایا کہ 22 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے کے کیسز کی مجموعی تعداد 783 ہوگئی ہے۔انہوں نے کیسز کی تفصیلات کے بارے میں بتایا کہ کراچی میں 6، حیدرآباد میں 14 اور گھوٹکی میں تبدیلی جماعت سے مقامی طور پر منتقل ہونے والے 2 نئے کیس کی تصدیق ہوئی۔ان نئے کیسز کے بعد سندھ کی مجموعی تعداد کو اگر شہروں کے حساب سے دیکھیں تو کراچی اس وقت 342 کیسز کے ساتھ سب سے آگے ہے، اس کے بعد حیدرآباد میں 151، شہید بینظیر آباد میں 6، گھوٹکی میں 2، دادو اور جیکب آباد میں ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔مزید برآں سکھر میں 273 اور لاڑکانہ میں 7 کیسز ایسے ہیں جو ایران سے آنے والے زائرین ہیں۔ان تمام 783 کیسز میں 438 کیسز ایسے ہیں جو مقامی طور پر منتقل ہوئے ہیں۔
علاوہ ازیں سندھ میں مزید 3 اموات کی تصدیق کردی گئی جس کے بعد صدبے میں وائرس سے جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد 14 ہوگئی۔محکمہ صحت سندھ کی میڈیا کورآرڈینیٹر میران یوسف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیرصحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کراچی میں 2 اموات کی تصدیق کی۔انہوں نے بتایا کہ مریضوں کی عمر 82 اور 60 سال تھی اور دونوں مریضوں میں یکم اپریل کو کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جبکہ یہ مقامی طور پر منتقلی کے کیسز تھے۔بیان میں کہا گیا کہ 60 سالہ مریض کو دل کی بیماری تھی اور وہ وینٹی لیٹر پر تھے جبکہ 82 سالہ مریض کو گردوں کے مسائل کا سامنا تھا۔بعد ازاں عذرا پیچوہو نے حیدر آباد میں کورونا سے ایک اور ہلاکت کی تصدیق کی۔انہوں نے کہا کہ 54 سالا شخص کو 3 اپریل کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی بعد زیر علاج رکھا گیا تاہم مریض ذہنی مسائل اور قوت مدافعت کم ہونے کی وجہ سے جانبر نہ ہوسکا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے