یا رب العالمین۔ رحم، رحم ،رحم

فاروق شہزاد گوہر

دسمبر کے آخری دنوں میں جب چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کے مریض رپورٹ ہونے کی پہلی خبر ایکسپریس کے نیوز سکیشن میں آئی تو مجھ سمیت کسی کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دنوں میں یہ وائرس پوری دنیا میں موت کا پروانہ بن کر ہزاروں زندگیاں نگل جائے گا،اخبارات اور نیوز چینلز کی مین ہیڈلائنز اور ٹاک شوز میں کورونا کا ہی تذکرہ ہوگا۔ووہان کی ایک مارکیٹ سے پھیلنے والی یہ بیماری عالمی وباء بن جائے گی۔جب چین سے کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ اور مسلسل اموات کی خبریں آنے لگیں تو تب نیوز ڈیسک پر بیٹھے ہوئے مجھ تشویش لاحق ہوئی کہ پاکستان خصوصا لاہور میں چینی شہری کثیرتعداد میں مقیم ہیں۔ان کے ریسٹورنٹس بھی کافی مقبول ہیں۔ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ پاکستان میں کورونا کی وباء پھیلانے کا باعث بن جائیں۔اس تشویش کے بعد میں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ لاہور میں چینی باشندوں نے وباء کے ابتدائی دنوں میں پبلک مقامات اور شاپنگ پلازوں میں آنا محدود یا چھوڑ دیا تھا۔ ان دنوں تفریحی مقامات پر بھی چینی دکھائی نہیں دئیے۔یہ ان کی طرف سے ذمہ دارانہ رویہ تھا۔پھر چین نے ووہان میں مقیم پاکستانی طلبہ کو بھی پاکستان نہ بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہوئے حکومت پاکستان کو آگاہ کردیا کہ پاکستانی طلبہ یہاں زیادہ محفوظ ہیں۔چینی حکومت ان کا پورا خیال رکھے گی۔جس پر حکومت نے پاکستانی طلبہ کو واپس نہ لانے کا اعلان کیا تو ان طلبہ کے والدین سڑکوں پر آگئے اور حکومت پر دباؤ بڑھاتے رہے کہ ان کے بچوں کو ذاتی خرچ پر ملک آنے کی اجازت دی جائے لیکن حکومت ڈٹی رہی۔چین سے پاکستانی طلبہ نے حکومت کے نام ویڈیوز پیغامات بھی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیے جس میں وہ وطن واپسی کی اپیل کرتے دکھائی اور سنائی دئیے۔حکومت کے اس فیصلے کو سراہا بھی گیا۔ادھر جنوری اور فروری میں ووہان میں کورونا سے ہلاکتیں بڑھیں تو دوسرے ممالک نے اپنے شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے انہیں ووہان میں لاک ڈاؤن کے باوجود خصوصی فیلٹس پر اپنے اپنے وطن واپس بلوا لیا۔جو بعد میں ان ممالک خصوصا امریکہ،اٹلی،جرمنی،سپین اور ایران کے لیے تباہی کا باعث بنے۔ چین نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے مکمل لاک ڈاؤن کیے رکھا جس سے وباء ووہان تک محدود رہی لیکن اپنی ٹیکنالوجی اور طب میں ترقی پر اترانے والے ممالک نے وباء کے مرکز سے اپنے شہریوں کو نکال کر خود موت کو دعوت دی جس کا نتیجہ اب آپ اٹلی،امریکہ ۔ایران اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں دیکھ رہے ہیں جہاں اب ہر کوچہ و بازار میں موت کا رقص جاری ہے۔روزانہ ہزاروں جانیں لقمہ اجل بن رہی ہیں۔اب تک دنیا بھر میں 54ہزار اموات ہوچکی ہیں۔ترقی یافتہ اور سائنس و طب کے شعبے میں کمال مہارت رکھنے والے ممالک اس خدائی آفت اور وباء کو کنٹرول کرنے میں بے بس ہوچکے ہیں۔فطرت سے ٹکراؤ کا نتیجہ آج انسان کی تباہی کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔
جہاں تک پاکستان میں کورونا کی وباء پھیلنے کا معاملہ ہے تو اس حوالے سے میرے نزدیک حکومت کی غفلت اور ناقص پلاننگ سے ہی یہ وباء آج وطن عزیز میں 35جانیں لے چکی ہے اور ملک میں لاک ڈاؤن سے لاکھوں افراد فاقوں پر مجبور ہیں۔ فروری کے آخری ہفتہ میں جب تفتان بارڈر سے پاکستانی زائرین کی ایران سے واپسی کی خبریں آنا شروع ہوئی تھیں تو تب حکومت اگر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی تو ہم اس وباء کو صرف مخصوص علاقے تک محدود کرسکتے تھے۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ ایران سے آنے والے پاکستانیوں کو بلوچستان کے علاقہ میں ہی ایک بہت بڑا قرنطینہ سٹی بنا کر وہاں ٹھہرایا جاتا اور تمام ضروری طبی آلات اور ڈاکٹروں کو وہاں پہنچا دیا جاتا۔حکومت چاہتی تو افواج پاکستان کے تعاون سے وہاں ایک عارضی چھوٹا شہر قائم کرسکتی تھی۔بلوچستان میں آبادی کم اور پنجاب و سندھ کی طرح اتنی گنجان نہیں ہے اس لیے وہاں ایک وادی یا مخصوص علاقہ کو قرنطینہ میں بدلا جاسکتا تھا۔ آج جو حکومت اور مخیرحضرات کو شہر شہر لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد کو راشن دینا پڑ رہا ہے اگر بہت پہلے یہی راشن بلوچستان کے اس قرنطینہ سٹی میں بذریعہ جہاز یا سڑک پہنچا دیا جاتا اور وہیں پر عارضی ہسپتال بھی قائم کردیا جاتا تو آج حکومت کو ہر شہر میں قرنطینہ سنٹر بنانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی لیکن حکومت کو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ کورونا کی وباء کو ملک میں لانے اور پھیلانے کی خود ذمہ دار ہے۔زائرین کو گاڑیوں میں بھر بھر کر سندھ اور پنجاب کے شہروں سکھر،حیدرآباد،ڈیرہ غازی خان لایا گیا جس سے اس وباء نے مقامی افراد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ائیرپورٹس پر بھی ہم سے کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ تفتان بارڈر پر زائرین کے لیے جو قرنطینہ سنٹر بنایا گیا تھا اس کی ویڈیوز بھی آپ سوشل میڈیا پر دیکھ چکے ہیں۔یہاں پر زائرین کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک دیکھنے میں آیا۔ ڈان نیوز میں کچھ دن پہلے ایک سٹوری نظر سے گزری جس میں مصنف نے ایران میں کورونا کی وباء پھیلنے اور تہران سے تفتان بارڈر کے راستے پاکستان آنے کا احوال بیان کیا ہے۔سٹوری میں مصنف نے تفتنان بارڈر کے راستے بغیر کسی سکریننگ کے پاکستان میں داخل ہونے اور پاکستانی حدود میں حفاظتی انتظامات کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اگر اس وقت حکومت غفلت برتنے کے بجائے ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی اور میری درج بالا تجاویز کے مطابق تمام ضروری انتظامات کرتی تو آج ہمیں ایسی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑا۔نہ شہر بند ہوتے نہ کاروبار اورنہ ہی ٹرانسپورٹ۔ایران سے آنے والے ہمارے بھائی اور بہنوں کو بلوچستان کے قرنطینہ سٹی میں ایک ماہ تک بسا دیا جاتا اور جو بھی کورونا وائرس سے متاثر تھے یا ہورہے تھے انہیں وہاں قائم عارضی ہسپتال میں علاج کی سہولیات دی جاتیں۔
اب آئیں ذرا کورونا وائرس کی وبا اور عوام کے رویوں پر بھی بات کرلیں۔ الحمدللہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔اسلام زندگی کے ہر معاملے میں اپنے ماننے والوں کی مکمل رہنمائی کرتا ہے۔قرآن و سنت ہمارا دستور حیات ہے۔ہر معاملے میں نبی رحمت کی احادیث مبارکہ ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔موجودہ حالات میں آپ کی یہ حدیث ہمارے لیے مشعل راہ ہے جس کا مفہوم ہے کہ جس علاقہ میں وباء پھوٹ پڑے تو وہاں سے نہ نکلو اور نہ ہی دوسرے علاقوں سے لوگ وباء زدہ علاقے میں آئیں۔لاک ڈاؤن کا یہ رہنما اصول دنیا نے اسلام سے ہی سیکھا ہے۔لیکن ہمارے یہاں دیکھا جارہا ہے کہ حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن کے باوجود لوگ گھروں اور اپنے اپنے علاقے تک محدود رہنے کے بجائے نقل و حرکت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عوام کی طرف غیرسنجیدگی کا مظاہرہ وباء کے پھیلاؤ کا سبب بن رہا ہے۔حکومتی سختی کے باوجود عوام گھروں میں بیٹھنے کو تیار نہیں۔وزیراعظم عمران خان بار بار کہہ چکے ہیں کہ اگر عوام نے حکومتی ہدایات پر عمل نہ کیا تو پاکستان میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 50ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔خداارا۔روکھی سوکھی کھا لیں۔مفت راشن کے لالچ میں ہجوم کا حصہ نہ بنیں۔صرف کچھ دنوں کی بات ہے۔ چھٹیاں سیرسپاٹے کے لیے نہیں ہیں بلکہ آپ اور دوسروں کی زندگیاں محفوظ بنانے کے لیے ہے۔علماء کرام آپ آگے آئیں اور حدیث کی روشنی میں عوام کو لاک ڈاؤن پر عمل کےلیے قائل کریں۔ہم ایک غریب ملک کے شہری ہیں ہمارے پاس اتنےوسائل نہیں ہیں کہ ہر مریض کو ہسپتال کا بستر یا وینٹی لیٹر دستیاب ہوسکے۔خدانخواستہ اگر یہ وباء پھیل گئی تو حکومت کچھ نہیں کرسکے گی اس لیے اب ہم سب نے انفرادی طور پر خود کو قرنطینہ کا حصہ بنا کر اس وباء کو پھیلنے سے روکنا ہے۔ گھروں میں رہ کر ماں باپ کی خدمت کرکے دعائیں لیں اور بچوں کی قربت سے اللہ کی برکتیں اور رحمتیں سمیٹیں۔ اللہ سے رجوع کریں۔توبہ استغفار کی کثرت کریں۔ اگر آپ صاحب حیثیت ہیں تو جنہیں آپ جانتے ہیں ان غرباء اور مستحقین میں بغیر کسی دکھاوے کے ضروریات زندگی اور کھانے پینے کی اشیاء فراہم کریں۔کھانا کھلانا افضل ترین عمل ہے۔ بھوکوں کو ان کے گھروں میں کھانا فراہم کریں۔اس دوران احتیاطی تدابیر کو ہرگز ہرگز نظرانداز نہ کریں۔ نماز کے دوران سب کے لیے دعا کریں۔
تحریر کی طوالت کے باعث آخر میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ میں ان دونوں اپنے آبائی گھر صادق آباد آیا ہوا ہوں۔ میں معاشرہ کا ایک ذمہ دار فرد ہونے کے ناتے اپنے ضلع کی انتظامیہ کو اپنے خدمات پیش کرتا ہوں۔ میرا لم،تجربہ اور ہنر عوام کے لیے وقف ہے۔ آپ جب چاہیں مجھے اپنا معاون پائیں گے۔میں کورونا آئسولیشن وارڈز میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹروں اور طبی عملہ کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جو حفاظتی کٹس نہ ملنے کے باوجود مسیحائی کا حق ادا کررہے ہیں۔ میری فیملی کو بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہمارے دو ڈاکٹر اس وقت شیخ زاید ہسپتال کے آئی سی یو اور کورونا آئسولیشن وارڈ میں اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے کورونا کے مشتبہ اور کنفرم مریضوں کی دیکھ بھال کا فریضہ ادا کررہے ہیں۔کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے پروفشنل ڈاکٹر محمد مبشر جاوید،ڈاکٹر طوبی مبشر کو میرا سلام۔ میرے بچو! قومی فرض کی ادائیگی کے دوران چاہے کیسے بھی حالات اورمشکلات پیش آئیں کبھی پیچھے نہ ہٹنا ہمیشہ سرخ رو رہنا۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔ رحم رحم رحم

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے