افسانہ

افسانہ نگار:ڈاکٹرشاہداشرف

لائبریری میں اُس نے محمود بھائی،ریا ض بھائی اور طاہر بھائی کی گردان کرتے ہوئے جب مجھے شاہد صاحب کہہ کر مخاطب کیا تو محمود کی رگِ حسد بھڑک اٹھی اور غصے میں بولا ” یعنی ہم تینوں بھائی اور یہ صاحب ہے۔اسے بھی بھائی کہو ” وہ بوکھلا گئی، پھر سنھبل کر بولی ” اصل میں آپ سمجھتے نہیں ہیں، یہ اس قابل نہیں ہے کہ اسے بھائی کہا جائے ” میں نے محمود کی طرف دیکھ کر کہا ” بہت نا شکرے ہو، اللہ کا شکر ادا کرو کہ اُس نے تمہیں کسی قابل تو بنایا ہے ” ریاض پہلے سے ہی بھائی کے ازلی ابدی منصب پر فائز تھا۔البتہ طاہر سیانا تھا, کہنے لگا ” مجھے شاہد صاحب پر کوئی اعتراض نہیں ہے،میں چاہتا ہوں کہ میرے لیے بھی گنجائش پیدا کی جائے ” اُس نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ سب کو سر کہ کر بلانا شروع کر دیا،ہم سب مختلف اداروں میں پڑھاتے تھے اور سیکنڈ ٹائم یونیورسٹی میں” پڑھنے پڑھانے” آتے تھے، ہماری کلاس یونیورسٹی کا محور تھی اور وہ اس کلاس کا مرکز تھی. اس واقعے کے بعد اس نے خود ساختہ لڑائی کا اہتمام کر کے مجھے دشمن قرار دے دیا۔میں نے کلاس میں غالب کی غزل کی تقطیع کر کے علمی دھاک بٹھا دی تھی۔نائلہ رشی سے کسی نے اردو نثر کے حواس خمسہ کا پوچھا تو اُس نے آنکھ, ناک, کان, گلہ اور ہاتھ بتا کر خوب داد سمیٹی تھی۔بلوچ قبیلے کی ایک سکالر کی نئی نئی شادی ہوئی تھی. وہ ہر وقت اپنے میاں کی تصویر نکال کر اس سے باتیں کرتی رہتی تھی. کئی بار تو میں نے تصویر کی باتیں بھی سنی تھیں۔
زریں کو پہلی بار مس مخطوطہ کہ کر پتا نہیں کس نے پکارا تھا،میں نے بار بار اسے مس مخطوطہ کہ کر بلایا تو اس نے کہا ” اگر اب مجھے مس مخطوطہ کہا تو میں اپنے بھائی کو بتا دوں گی ” میں سر سے پاؤں تک پسینے میں بھیگ گیا. بہت عرصے بعد اس نے بتایا کہ میں نے کون سا بتانا تھا صرف دھمکی دی تھی۔
محمود, ہم تم ہوں گے بادل ہو گا،گا کر سپیس بنانے میں کامیاب ہو چکا تھا. اس نے جب غزل کا مقطع پڑھا
کیا ملنا فاروق سے لوگوں
ہو گا کوئی پاگل ہو گا
تو رخسانہ غصے میں بولنے لگی ” خبردار فاروق کو کچھ کہا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہو گا. ” پتا چلا کہ فاروق اُس کے میاں کا نام ہے۔ میں نے مشورہ دیا کہ آئندہ غزل سناؤ تو فاروق کی جگہ محمود لگا کر مقطع پڑھ لینا۔
فضیلت ہر دوسرے ہفتے گھر سے کھانا بنا کر لاتی اور اساتذہ سمیت کلاس کے سٹوڈنٹس انجوائے کرتے. ساتھ ہی ساتھ آئندہ کے لیے مرچ مصالحے کی ہدایات بھی دیتے رہتے،ہم سب کی متفقہ رائے تھی کہ ہمارا کچھ پتا نہیں ہے البتہ فضیلت ایم فل کر چکی ہے، اب صرف ڈگری لینا باقی ہے۔
انھی دنوں کا واقعہ ہے، لائبریری میں یونیورسٹی کا ایک طالب علم کرسی سے اٹھتے ہوئے لڑکھڑایا تو نیفے میں اڑسا ہوا خنجر زمین پر گر پڑا. ایک دم سنسنی پھیل گئی۔اس نے خنجر اٹھایا اور بھاگ گیا. خنجر کی خبر یونیورسٹی میں نومولود عشق کی طرح پھیل گئی۔شعبہ کے ایک استاد کو کسی نے واقعے کی تفصیل مرچ مصالحہ لگا کر بیان کر دی۔یہ واقعہ ان کا پسندیدہ موضوع بن گیا. وہ ہر آتے جاتے کو واقعہ سناتے اور خنجر کا سائز بتاتے ہوئے جب ہاتھ سے بازو تک اشارہ کرتے تو گمان کہیں کا کہیں جا پڑتا۔
ایک دن اُس نے مجھے آ کر کہا "اگرچہ تم ایک کمینے دشمن ہو لیکن یہ بات تیرے علاوہ کسی اور سے نہیں کی جا سکتی ہے۔میری منگنی ہو گئی ہے۔کہاں, کس سے ؟ میں نے حیرت سے پوچھا. بیرون ملک انجینئر ہے۔میرے منھ سے بے ساختہ نکلا. اللہ تیرا شکر ہے, دو گھر برباد ہونے سے بچ گئے. وہ یہ بات سمجھتی تھی۔کھلکھلا کر ہنس پڑی۔اُس نے مجھے شادی پر مدعو کیا تھا لیکن میں نہیں جا سکا تھا۔جہاں تک مجھے یاد ہے وہ شادی کے ڈیڑھ ماہ بعد صرف ایک بار یونیورسٹی آئی تھی۔میں نے مبارک باد دی تو کہنے لگی ” ڈیڑھ ماہ پرانی مبارک باد قبول نہیں کی جا سکتی ہے۔میں نے پوری کلاس میں صرف تمہیں مدعو کیا تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے