عدالت نے عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایم کیو ایم رہنما عمران فاروق کے قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار تینوں ملزمان کو عمر قید اور 10،10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
عدالت نے حکم دیا کہ تینوں ملزمان عمران فاروق کے ورثاء کو 10، 10 لاکھ روپے ادا کریں گے۔ ملزم معظم علی، محسن علی اور خالد شمیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمے کا فیصلہ سنا۔
عدالت نے اشتہاری ملزمان بانی ایم کیو ایم، افتخار حسین، محمد انور اور کاشف کامران کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
عدالت نے ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس کا 39 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ استغاثہ کافی شواہد کے ساتھ کیس مکمل طور پر ثابت کرنے میں کامیاب ہوا۔ کیس ثابت ہو چکا ہے تو تینوں مجرمان سزائے موت کے مستحق ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کیس کے شواہد بیرون ملک سے حاصل کیے گئے ہیں جبکہ پاکستان پینل کوڈ میں ترمیمی آرڈیننس کے بعد مجرمان کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔
فیصلے میں لکھا گیا کہ ملزمان نے مکمل منصوبہ بندی سے لندن میں بے گناہ شخص کو قتل کیا اور ملزمان نے پاکستان کوعالمی برادری کے سامنے بدنام کرنے کی کوشش کی۔ جرم کے ارتکاب پر مجرمان م‍ثالی سزا کے مستحق ہیں۔
ایم کیو ایم کے مقتول رہنما عمران فاروق قتل کیس میں 3 ملزمان خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی گرفتار ہیں جبکہ 4 ملزمان بانی ایم کیو ایم، محمد انور، افتخار حسین اور کاشف کامران کو اشتہاری قرار دیا گیا۔
تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے 5 دسمبر 2015 کو مقدمہ درج کیا تھا۔
عدالت نے کیس کی سماعت مکمل کر کے 21 مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
ڈاکٹر عمران فاروق پر16 ستمبر 2010 کو لندن میں ان کی رہائش گاہ کے قریب چاقو اور اینٹوں سے حملہ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔
پانچ دسمبر 2015 کو ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا اور دو مئی دو ہزار اٹھارہ کو فرد جرم عائد کی گئی۔ ملزمان نے سات جنوری دوہزار سولہ کو مجسٹریٹ کے روبرو اقبال جرم کیا اور ایف آئی اے نے پانچ بار ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا۔کیس میں استغاثہ کے 29 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے تھے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے