بھارت اور چین سرحد پر امن بحال رکھنے پر متفق

لداخ میں سائنوانڈیا باؤنڈری پر جھڑپ میں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے 2 روز بعد چین اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے مابین فون پر رابطہ ہوا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے متنازع ہمالیائی سرحد پر امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے موجودہ 2 طرفہ معاہدوں کی پاسداری پر اتفاق کیا۔بھارتی تجزیہ کاروں کی رائے منقسم تھیں اور کچھ آوازیں یہ بھی تھیں کہ نئی دہلی کو امریکا کی سربراہی میں چین مخلاف بلاک میں شمولیت سے گریز کرنا چاہیئے کم از کم اس لیے نہیں کیوں کہ چین کے ساتھ معاہدے کا امکان جانبداری پر ہے۔بھارت کی جانب سے کہا گیا کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور چینی وزیر خارجہ وینگ یی نے ’اس بات پر اتفاق کیا کہ تمام تر صورتحال کو ذمہ دارانہ طریقے سے سنبھالا جائے گا اور دونوں فریقین 6 جون کے سمجھوتے پر خلوص سے عملدرآمد کریں گے‘۔بھارتی بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں اطراف سے معاملات کو کشیدہ کرنے والا کوئی اقدام نہیں ہوگا اور اس کے بجائے دو طرفہ معاہدوں اور پروٹوکولز کے مطابق امن و آتشی کو یقینی بنایا جائے گا۔دوسری جانب چین کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی نے منسلک اخبار نے لکھا کہ گفتگو کے خلاصے کے مطابق چین کی جانب سے کہا گیا کہ فون کال صورتحال کو معمول پر لانے میں مدد کرے گی۔
بیان کے مطابق ’جہاں انہوں نے اپنے موقف کا اظہار کیا انہوں نے صورتحال کو معمول پر لانے والا لہجہ بھی استعمال کیا جو ان دونوں ممالک میں رائے عامہ قائم کرے گا‘۔اخبار گلوبل ٹائمز نے مزید لکھا کہ ’بھارت کو خاص طور پر اپنے وعدے کو پورا اور دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتے پر عملدرآمد کرنا چاہیئے‘۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ’سرحدی تنازع بھارت اور چین کے تعلقات کا سب سے حساس حصہ ہے اور جب یہ ٹھیک ہوگا صرف اس وقت ہی دونوں (ممالک) باہمی تعاون کے ساتھ مل کر کام کریں گے‘۔اخبار نے چینی وزیر خارجہ کے حوالے سے لکھا کہ یہ بھارت تھا جس نے دانستہ طور پر اشتعال انگیزی کا مظاہرہ اور پرتشدد حملہ کیا۔چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’امید ہے کہ بھارت جذبات سے کام نہیں لے گا اور چین کے موقف کو سمجھے گا‘۔فرانسیسی خبررساں ا دارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ ’وزیر خارجہ نے بھارت سے مکمل تحقیقات اور اس تصادم کے ذمہ داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے‘۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ’بھارت کی جانب سے موجودہ صورتحال میں غلط فیصلہ نہیں ہونا چاہیئے اور نہ ہی چین کے اپنی علاقائی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کو کم سمجھنا چاہیئے‘۔
دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ نے ’15 جون کو وادی گلوان میں ہوئی پر تشدد جھڑپ پر سخت ترین احتجاج ریارڈ کروایا‘۔ خیال رہے کہ یہ فون کال بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے پہلی مرتبہ اس ہلاکت خیز تصادم پر ردِرمل دینے کے بعد کی گئی جس میں ایک گولی بھی نہیں چلی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے