لاہور کو کوئی own نہیں کرتا

تحریر:فاروق بھٹی

لاہور کی شناختیں تو بیشمار ہیں لیکن "داتا کی نگری” میں خاص کشش ہے۔ وجہ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ گنج خزانے کو کہتے ہیں اور گنج بخش کا مطلب ہی خزانے بانٹنے والا ۔۔۔ آپ علیہ الرحمہ کے مرشد نے آپ کے لئے لاہور کا انتخاب کیوں کیا، اس پر پھر کبھی بات ہو گی، بہرحال آپ لاہور آئے تو اپنے ہمراہ کافی مال و دولت لے کر آئے۔ آپ جانتے تھے کہ خلقِ خدا کی ضرورت پوری کرنے سے ان کے دل نرم ہوتے ہیں اور گداز دلوں پر ہی رحمت کی پھوہار روئیدگی لاتی ہے، یوں دین پھیلتا ہے ۔۔۔ یہ بھی ایک سچ ہے کہ سودخور بنیئوں کی گرفت میں پھنسے انسانوں کے قرض ادا کئے، ان کے گھروں میں راشن پہنچایا ۔۔۔ سخاوت، چیریٹی، لوگوں کی ضروریات پوری کرنا بہت بڑا عملی اسلام اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
1039ء میں لاہور میں بہت کم لوگ مسلمان تھے، گنج بخشی شروع ہوئی تو ڈیموگرافی بدل گئی ۔۔۔ ماشاءاللہ …
یاد رکھئے ۔۔۔
کنجوس اور بخیل شخص دعوتِ دین کا کام ہرگز نہیں کر سکتا ۔۔۔
لاہور داتا حضور کی بستی اس وقت سے ہی سخی ہے، کھلے دامن، چوڑے سینے، روشن چہرے، لمبے لنگر، مست قلندر، قہقہے، بےتکلفیاں، کھابے، ڈھابے، قلچے، لسیاں ۔۔۔
یہ لاہور بڑے اعلیٰ ظرف کا شہر ہے اور گالیاں کھا کر بھی بدمزہ نہیں ہوتا ۔۔۔ محبت پیش کرتا ہے، تحفظ اور وزارت پیش کرتا ہے۔ تعلیم کے لئے لاہور آنے والوں کو یہ شہر اپنے دامن راحت میں ایسی پناہ دیتا ہے کہ پھر واپس پلٹنے کی بجائے وہ شخص اپنی ساری فیملی بھی یہیں لے آتا ہے ۔۔۔ 1965ء کی جنگ میں بھارت نے شکر گڑھ کو نشانہ بنایا تو لاہور کے گلی کوچے مہاجر شکر گڑھیوں سے بھر گئے، لاہوریوں نے خوب مہمان نوازی کی۔ بعدازاں شکرگڑھ میں امن تو قائم ہو گیا لیکن اس کے شہری یہاں ہی نٹھ کر بیٹھ گئے ۔۔۔ نئے لوگوں کے آنے سے لاہور شہر کے روایتی کلچر میں کچھ نمایاں تبدیلیاں آئیں ۔۔۔
1972ء میں کانوونٹ چکوال کی ایک لڑکی کا داخلہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج ( سابقہ بالک رام میڈیکل کالج) میں ہوتا ہے ۔۔۔ وہ لڑکی ڈاکٹر بھی بنتی ہے اور اسٹوڈنٹ یونین کی صدر بھی۔ PMA کی صدر بنی ۔۔۔ پوری لاہورن ہو جاتی ہے ۔۔۔ میرا مشاہدی ہے کہ جو پڑھنے، جاب کرنے ایک مرتبہ یہاں آ گیا! یہیں کا ہو کر رہ گیا ۔۔۔ 1947ء میں مشرقی پنجاب سے آنے والے بھی داتا کی نگری میں جذب ہو گئے تھے۔
لاہور دراصل امریکہ کی طرح immigrants کا شہر بن چکا ہے اور پرانے لاہوری اور مقامی تو "ریڈ انڈینز” ہی بن گئے ۔۔۔ اب "نئے لاہوریئے” کہتے ہیں کہ لاہوریو! تہذیب سِکھو ۔۔۔

ساحر لدھیانوی کی ایک نظم​ "مادام” بالکل حسب حال ہے ۔۔۔ آپ کو لگے گا جیسے انہوں نے آج ہی لکھی ہے،

آپ بے وجہ پریشان سی کیوں‌ ہیں مادام؟
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میرے ماحول میں انسان نہ رہتے ہوں گے

نورِ سرمایہ سے ہے روئے تمدّن کی جِلا
ہم جہاں ‌ہیں وہاں‌ تہذیب نہیں پل سکتی
مفلسی حسِِ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں‌ میں نہیں ڈھل سکتی

لوگ کہتے ہیں تو لوگوں ‌پہ تعجب کیسا؟
سچ تو کہتے ہیں کہ ناداروں کی عزت کیسی
لوگ کہتے ہیں۔۔۔ مگر آپ ابھی تک چپ ہیں
آپ بھی کہیے، غریبوں میں شرافت کیسی

نیک مادام! بہت جلد وہ دَور آئے گا
جب ہمیں زیست کے ادوار پرکھنے ہوں گے
اپنی ذلت کی قسم! آپ کی عظمت کی قسم!
ہم کو تعظیم کے میعار پرکھنے ہوں گے

ہم نے ہر دور میں تذلیل سہی ہے، لیکن
ہم نے ہر دور کے چہرے کو ضیا بخشی ہے
ہم نے ہر دور میں ‌محنت کے ستم جھیلے ہیں
ہم نے ہر دور کے ہاتھوں ‌کو حنا بخشی ہے

لیکن ان تلخ مباحث سے بھلا کیا حاصل؟
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں‌ گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میں جہاں ‌ہوں، وہاں انسان نہ رہتے ہوں گے

اب لاہور کے ایک عاشق ڈاکٹر فخر عباس کا کلام ۔۔۔

یہ جو لاہور سے محبت ہے
یہ کسی اور سے محبت ہے

اور وہ "اور” تم نہیں شاید
مجھ کو جس اور سے محبت ہے

یہ ہوں میں اور یہ مری تصویر
دیکھ لے غور سے محبت ہے

بچپنا، کمسنی، جوانی آج
تیرے ہر دور سے محبت ہے

ایک تہذیب ہے مجھے مقصود
مجھ کو اک دور سے محبت ہے

اس کی ہر طرزمجھ کو بھاتی ہے
اس کے ہر طور سے محبت ہے

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے