پاکستان میں اردو تنقید

تبصرہ نگار:جمیل احمد عدیل

ناصر کاظمی نے تنقید کو خشک چشمے کا کنارا قرار دیا تھا ۔تخلیق اپنا گداز پہلو عمدا” ابھارے تو بلاشبہ ان لفظوں کا ظاہری پرت تاثریت پسندوں کو خوش کرے گا لیکن نشان خاطر رہے کہ تنقید کی فطرت میں گندھی علمی سنجیدگی اسے جملہ نگارشات سے یوں علاحدہ کرتی ہے کہ کم از کم ہما شما کے لیے یہاں کوئی گنجائش موجود دکھائی نہیں دیتی ! ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی اپنی خوش طبعی کا پیرہن اتار کر ایک بالکل اور ہی قالب میں سامنے آنے پر قادر تھے لہاذا فکر و نظر کے اوکھے رستوں کے راہی ہو گئے ۔ ظاہر ہے علوم و فنون سے مضبوط اور پائیدار جڑت قائم کرنا بازیچہ ء اطفال نہیں ہے ! اصل مسئلہ اس ‘ خنکی ‘ کو قبول کرنا ہے جسے’ جذبات ‘ سے باقاعدہ کد ہو اور ہمارے مقامی مزاج کی افتاد میں دوست داری اور دشمن داری کی روایت نے کچھ اس اسلوب سے مستقل جگہ بنائی ہے کہ کسی نظری قضیے کا معروضی تجزیہ معمولی لطف سے ہمکنار ہونے کا موقع بھی فراہم نہیں کرتا – ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی نے میزان کو عادتا” جھکنے کے عیب سے منزہ کرنے کی خاصی تربیت حاصل کرنے کے بعد انتقاد کو اپنے دستخط کا مترادف کیا – ” پاکستان میں اردو تنقید ” کی خواندگی کے دوران متعدد بار احساس ہوا کہ ‘ جامعاتی تحقیق ‘ کے عنوان سے یونہی ایک ‘ تہمت سی ‘ نقاد کے حصے میں آگئی ہے وگرنہ اس قبیلے کی مجلدات میں منقول کی مقدار کا اقتدار دہائیوں سے مسلط ہے اورمقتبس عبارت جحیم ہوکر قاری کو مرعوب کرتی ہے ! مذکورہ مصنف کے ہاں اقتباسات کی بھرتی خاصی ممنوع رہی ! فکری رجحان ہو یا کسی نقاد کا محاکمہ سب مباحث سے منسلک ہوکر تحریر میں منقلب ہوا ہے اور عین اسی صورتحال میں علمی وقار سے تہی ‘ تنقید نویس ‘ نے سبک سر ہونا ہوتا ہے ! اورنگ زیب نیازی کو کہیں جملے کی جگلری کو مدد کے لیے آواز نہیں دینا پڑی ! وہ تفکیر سے مشروط شبد گر ہیں شعبدہ گر بالکل نہیں !! اس کتاب کا ہر ورق متکلم ہے کہ اورنگ زیب صاحب نے کامرانی کا حصول بذریعہ اکتساب ممکن بنایا ہے کیونکہ موہبت پر انحصار تقدیس کا پرکشش ہالہ ضرور کسی کے نام کردیتا ہے لیکن علم سیکھنے کی مشقت مانگتا ہے اور ذہنی اعتبار سے تن آسان ایسے ہی مقام پر پتلی گلی میں سٹک جاتے ہیں ! عالمی سطح پر رونما ہونے والی فکری تحریکات اور فن پاروں کی جانچ کے تازہ معیارات سے آگہی میں کشف مہربان نہیں ہوتا ؛ علوم کے وجود میں بل کھائے ہوئے قضایا کے ایک ایک خم کو ٹھہر کر سمجھنا پڑتا ہے ؛ کبھی کسی کو اتالیق مان کر انانیت کو منہا کرنا پڑتا ہے ؛ تب جا کر لسانی تشکیلات کے ڈانڈوں تک رسائی میسر آتی ہے – کلچر خطابت کے فن ایسا سادہ نہیں – اس کا جدل حیران کن پیچیدگیوں کا مظہر ہے ! ایک ایک شاخ سے لپٹے مبحث کو قاری کے سامنے کھولنا ہوتا ہے ۔ سماج اور معیشت کی سنگت کن کن شکلوں کے ساتھ ظہور پذیر ہوتی رہی؟ اور ادب نے ان نقوش کو قبول کر کے کس نوع کے موضوعات کو پیش کیا ؟ اسی کے ہمرکاب اسالیب کا جادو کس طرح اپنی معنویتوں کا اثبات کراتا رہا ؟ ساختیات ، پس ساختیات ، مابعد جدیدیت ، ماحولیاتی تنقید سمیت کئی نئے رجحانات فکری نظاموں کے پیشکار ہیں ۔ ان کی تفہیمات کا عمل اکثر دانتوں تلے پسینہ لے آتا ہے ! لیکن اپنے ڈاکٹر نیازی نے کسی بھاری پتھر کو چوم کر چھوڑ نہیں دیا !
” پاکستان میں اردو تنقید ” ان چار عناصر نے تحدید کو حجاب بنایا ہے وگرنہ مغربی تنقید کی متوازی تاریخ ہر قدم پر رقم ملتی ہے – علاوہ ازیں یہ کتاب آغاز کی مناسبت سے واقعہ تقسیم کو سخت حد فاصل نہیں بناتی بلکہ اپنی ابتدا کے لیے ‘ ابتدا ‘ پر ہی انحصار کرتی ہے – آخر میں یہی کہنا ہے ‘ تنقید ‘ جس کا مسئلہ ہے اس تصنیف سے اس کی بے نیازی بے جواز رہے گی اور جسے خلقی سطح پر قصر علم میں کہربائیت محسوس ہی نہیں ہوتی اس کے لیے تاکید ہے یونہی شوق شوق میں ان سنہرے اوراق سے اپنا تعلق نہ جوڑے !!

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے