باپ سِراں دے تاج

تحریر:عرفان شہود

گندم کے سنہری خوشے پوری آب و تاب سے چمک رہے تھے۔اور گندم کی کٹائی کا موسم قریب تھا۔ایسے ہی بیساکھ کے مہینے میں گھر میں مزدروں کے لیے لنچ کا اہتمام ہوتا تھا ۔کیوں کہ تھریشر لگنے سے گندم آنے کے امکانات ہوتے تھے۔گرم تیز دھوپ کھیتوں میں پھیل کر اپنی سختی کا احساس دلاتی تھی ۔فصل کی کٹائی کے بعد جگہ جگہ جنگلی کبوتر اور دیگر پرندے ٹھونگے مار مار کر اپنا رزق چُگ لیتے۔اُن دِنوں شیشم اور آم کے گھنے پیڑ خوشگوار موڈ میں لگتے تھے ۔چنگیر اور چھاچھ سروں پر رکھے بانکیاں اپنے عزیزوں کے لیے کھانا لے کر جاتی اور کیکر کے درخت تلے تمباکو سلگائے جاتے تھے۔ایسی ہی رت میں وہ سہانا اور گہیوں کی فصل کا دن یاد آگیا۔

غالباً 1990 میں پہلی مرتبہ والد صاحب میری انگلی پکڑ کے اپنے ساتھ مربعے زمینوں کی طرف ساتھ لے گئے۔چھوٹے قدموں سے چلتا ہوا، میں تھک گیا تو اُٹھا کر ٹیوب ویل کے تھڑے کے پاس جا کر بٹھا دیا۔زمینوں کے چاروں طرف اشجار کی قطاریں اسکول کے بچوں کی قطاروں جیسی نظر آتی تھیں۔جیمز اوشر نے اولڈ ٹیسٹامنٹ سے زمین کی عمر کا اندازہ لگانے کی کوشش کی تھی۔کاش کوئی اپنے والدین کے ساتھ قیمتی گزرنے والے لمحوں کی ویلیو کا بھی اندازہ لگا سکتا۔ہمارے کھیتوں میں رنگ برنگے درخت تھے۔
آم ،سنبل،مٹھیاں،شہتوت، کِنو،امرود،دھریک اور سفیدہ نظر آتا تھا۔طوطے، سونف چڑیاں، گلہریاں، الو، کوئے، بلبل سب اپنی اپنی بولیاں بولتے اور میلا لگائے رکھتے تھے۔گوپیاں ٹیوب ویل کے پاس کسی کھال کے کنارے کپڑے دھونے آتی تھیں۔بولدوں اور گڈوں سے کھیت بھرے رہتے تھے۔اتنی وسیع کائنات دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ اور روزانہ کا معمول بن گیا اسی جگہ آتے رہنا مجھے اچھا لگتا تھا۔اپنے ہم عمر دوستوں کو بھی ساتھ لے آتا ۔ہمارا ایک سبق ہوتا تھا اسلم کا گاوں ،وہ مجھے لگتا تھا ہمارے کھیتوں کے بارے میں ہے۔

والد صاحب تمام عمر کبھی جاب یا بزنس کے جھنجھٹ میں نہیں پڑے۔بس اپنے آبائی ورثہ کو استعمال کرتے ہوئے اچھا وقت گزارا۔وہ صبح اپنے مخصوص روٹ کو استعمال کرتے آتے اور ٹیوب ویل پر آ کر اپنا حُقہ گُڑ گڑاتے رہتے۔
ہر آنے جانے والا چند لمحے رُکتا، گپ شپ لگاتا اور چلا جاتا۔ والد صاحب موسیقیت اور جمالیاتی آہنگ کے فن سے بہرہ ور تھے۔ہر جمعہ کو سب سے پہلے تیاری کر کے مسجد میں داخل ہوتے ۔اور مجھے خصوصی طور پر اقبال کا کلام (خودی کا سرِ نہاں) پڑھنے کا کہتے۔جو میں ہر جمعہ کو لازمی سناتا ۔
ان کے دوست بھی ان کی طرح انتہائی سادہ مزاج اور شریف تھے اب بھی کچھ باقی ہیں۔جاڑے کی رُت میں جب شمالی وزیرستان سے مہاجر پٹھان اپنے کام کرنے کی غرض سے ہمارے گاوں آتے تو ان کو مربعے والا کمرہ دے دیتے اور کھانا بھی پہنچاتے۔ کیوں کہ وہ خود مہاجر تھے اور ہجرت کرنے والوں کے دُکھ سے آگاہ تھے۔فقیریا روہتکی روزانہ شام کو آ جاتا وہ چلم گرم کرتا، پاوں دباتا اور دن بھر کی داستان سنا کر چلے جاتا۔ دریا دل انتہائی درجہ کے تھے جب بھی کوئی چیز مانگتا فوری دیتے۔اس زمانے میں آڈیو کیسٹ اپنی پسند کی ڈھونڈنا قدرے مشکل تھا ۔ نور جہاں اور مکیش کو سنتے رہتے تھے۔ان کی پسند کا گیت کبھی ریڈیو پر چلتا تو سنتے ۔بہت سارے گیت جو کبھی 70 کی دہائی میں انھوں نے کسی فلم میں سنے تھے وہ بعد میں گنگناتے ۔مگر مجھے کبھی کیسٹوں میں وہ گیت نہیں ملے۔

اُن کی نوجوانی میں بھی بہت کم دوست تھے۔جو اُن کے ساتھ تاعمر رہے۔اُن کے واقعات بھی بہت دلچسپ تھے۔کبھی ناٹک دیکھتے تو کبھی سینما ہال جاتے تھے۔زود رنج تھے۔شاید دو یا تین مرتبہ اپنے سسرال گئے ہوں ۔جِینا نائی کو دیر سے آنے پر خوب جلی کٹی سناتے۔سردیوں میں جب صبح کے جھٹپٹے میں کچھ دھندلا سا سویرا ہوتا تو اپنی چادر (جو مٹیالے رنگ کی ہوتی تھی )اُٹھا کر سلیمان روہتکی کے پاس چلے جاتے ۔سلیمان روہتکی اپنے گھر کے باہر لکڑیوں کی آگ جلا لیتا۔حقہ گرم کرتا اور گرما گرم چائے منگوا کر والد صاحب کو پِلاتا۔سارا دن کھیتوں میں پِھرتے پگڈنڈیوں کو دیکھتے اور مجھ پر انکشاف کرتے کہ ایک دن یہاں سے بائی پاس گزرے گا ۔میں سوچتا کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ۔پھر کافی سالوں بعد وہاں سے بائی پاس گزرا اور اُن کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی۔بے نظیر کو ایک عورت ہونے کی وجہ سے عالمی دنیا میں جرات مند لیڈر کا درجہ دیتے۔ اپنی ماں جی کو بی بی کہتے تھے۔ایک مرتبہ دادی اماں کو تایا جی کے گھر والے لے گئے کہ کچھ دن دادی جان کی خدمت کا موقع ملے۔والد صاحب شام کو گھر آ کر اداس رہتے اور ہمیں کوستے کہ جاو لے کر آو۔آخر کچھ روز بعد ہی ان کو واپس لایا گیا۔
جون، جولائی کی تپتی دوپہروں میں ایک دو دوستوں کے ساتھ آم کے پیڑ تلے مربعے براجمان رہتے۔صرف دو وقت کھانا کھاتے اور زندگی میں کبھی کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔میرے ساتھ دوستانہ تعلقات رہے ۔مجھے ہوشیار پور کی مہاجرت کے قصے سناتے جو ان کے پرانے دوست ان کو سناتے رہتے تھے۔
گندم کٹائی کے بعد گھر آ جاتی تو پھر سب کے حصے رکھ لیے جاتے۔ خاکروب، ماشکی، حجام، ترکھان، لوہار، بازی گر ، فضل مستری وغیرہ سب باری باری آ کر اپنا اپنا حصہ لے جاتے اور بزرگوں کو دعائیں دیتے تھے۔جب ہمارے گھر ایک بھینس ہوتی تھی تب مدہانی سے رِڑکی جانے والی لسی اور مکھن الگ الگ رکھوا دیتے ۔جب کوئی لسی لینے آتا تو ساتھ مکھن اور دہی ڈلوا دیتے۔روزانہ کھیتوں سے کبھی لہسن، کبھی پیاز، کبھی دھنیا اور کبھی تمباکو لے آتے۔ہمارے رنگلے پنگوڑے اور لکڑی کے کھلونے دیکھ کر خوش ہوتے۔پھول اور پات کھلکھلا جاتے۔اُن کا ایک دوست ہوتا تھا جِسے ہم سب تاو جی کہتے تھے۔وہ ہمارے دادا جی کی باتیں سناتا۔اُن کی پولیس میں بہادری کے قصے سُنانا اور کیسے انہوں نے پاکپتن آ کر مہاجرین کو زمینیں اور گھر آلاٹ کروائے تھے وہ بتاتا رہتا۔ساتھ ہی ساتھ وہ حقہ سلگاتا۔اور ہمیں اپنا دادا جیسا بننے کا مشورہ دیتا رہتا۔والد صاحب اکثر یہ گیت سُن کر مجھے کہتے کہ اس گیت کا کورس سُنو کیسا پیارا ہے۔گیت یہ تھا۔

میں اُڈی اُڈی جانواں ہوا دے نال
نی میں ڈکو ڈولے کھانواں ہوا دے نال

والد صاحب ہمارے ہجرت کے واقعات اور موجودہ حویلی کی بابت بتایا کرتے تھے کہ ہمارے گاوں کے خربوزوں کی مہک تمام علاقے کو مدہوش کر دیتی تھی۔ دوردراز کے لوگ ڈونچی کی تصاویر کی مانند اِن خربوزوں کو دیکھنے آتے تھے ۔سونا اگلتی اس سرزمین کو اطالوی عورتوں جیسا مرتبہ حاصل تھا کہ ہر کوئی اسے ٹھیکے پر لے کر فصل اُگانے کی کوشش کرتا۔دریائے ستلج کے کنارے آباد اس شہر عارف والا کے گردونواح میں ایک مٹھاس کا رنگ نمایاں تھا۔نیلی بار کے اِن جنگلوں میں کبھی چرند پرند اور جانوروں کی بہتات تھی۔انیس سو آٹھ میں گورنر ہربرٹ نے اس شہر کی بنیاد رکھی تو ساتھ ہی مختلف سرکاری کارندے پنجاب بھر سے ان علاقوں میں ٹرانسفر ہونا شروع ہو گئے ۔
یہ سن انیس سو اکیس کے ابتدائی ایام کا ذکر تھا جرنیل منگل سنگھ اور تارا سنگھ کو انگریز سرکار نے نیلی بار کے جنگلات میں تعینات کرنے کا حکم دیا۔جو پہلے سے امرتسر میں تعینات تھے۔نیلی بار کے اس گاوں کے کنارے دریائے ستلج کا پاٹ سرحدی حصے کو چھوتا ہوا گزرتا تو جنگل میں پرندوں اور جانوروں کی رونق لگی رہتی۔اس گاوں کا نمبر 147 الاٹ کیا گیا اور پورے حصے میں تین گھر آباد ہوئے ۔دو حویلیاں ان جرنیل سرداروں کی تھیں جن میں ایک جرنیل منگل سنگھ کی اور دوسری صوبیدار تارا سنگھ کی تھی۔تیسرا گھر چوکیدار شاہ محمد کا تھا۔حویلی کی چھتوں کی کڑیاں آپس میں متصل تھیں اور چھتیریوں کے بالے ایک دوسرے کے ساتھ اٹیچ تھے۔اور دروازوں کے کِواڑ کمرہ در کمرہ کھلتے۔
اونچی چھتیں اور برآمدے کے ساتھ جس میں بڑے بڑے دالان ،شہ لیشن، تہہ خانے ،بالا خانے بنے ہوئے تھے۔آتش دان ہر بڑے کمرے میں موجود تھا۔اور آتش دان کا دھواں ایک چمنی سے اوپر چھت کی طرف جاتا تھا۔
اِن حویلیوں کے داخلی دروازے میں ڈیوڑھی اور ان دروازوں سے ملحقہ زیریں اور بالائی منزلوں پر مہمان خانے تعمیر کئے گئے تھے۔اسکے بعد صحن اور صحن کے اطراف میں رہائش گاہیں تعمیر کی گئیں۔سکھوں کی یہ حویلیاں مانیٹر پلان میں مربع یا مستطیل رقبہ پر مشتمل تھیں۔حویلیوں کی تعمیر میں پرانی اینٹوں کا استعمال بکثرت نظر آتا ہے۔اینٹیں عہدِ مغلیہ کی اینٹوں سے قدرے مختلف تھی۔اپنی ساخت سائز اور ججم کے لحاظ سے مختلف قسم کی تھیں ۔جیسے نانک شاہی اینٹیں ہوں۔
سردار منگل سنگھ نے اس جنگل میں پورا گاوں آباد کروایا اور ہندوؤں کو جائے پناہ دی۔ دریائے ستلج کے پاٹ کے پاس ہندووں کی استھیاں بہائی جاتیں اور کچھ سکھ سردار دفن کیےجاتے تھے۔آج بھی سردار منگل سنگھ کے بیٹے کی قبر اُن کھیتوں میں موجود ہے جو کبھی شمشان گھاٹ کے طور پر استعمال ہوئے تھے۔دریا کا پاٹ وقت کے بے رحم جھونکے نے خشک کر دیا اور شیشم اور کیکروں کے درختوں کی قطاریں قد آور نظر آتی ہیں۔
تقسیمِ ہند کے ساتھ ہی دونوں سرداروں کی اولادوں نے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور انجانے سفر پر روانہ ہو گئے ۔ان کے آبا و اجداد کی قبریں اسی گاوں میں دعاوں کو ترستی رہیں۔ہمارے خاندان نے ضلع ہوشیار پور سے ہجرت کر کے اسی اجودھن کے مضافات میں قیام کیا۔اور سردار تارا سنگھ کی حویلی ہمارے بزرگوں کی جائے پناہ بنی۔وہی شان و شوکت اس حویلی کی دیواروں سے نظر آتی تھی جو کہ پہلے تھی۔ مگر اجاڑے کے وقت قریبی گاوں کے لوگوں نے اِن حویلیوں سے تمام قیمتی سامان چوری کر لیا تھا۔سِوائے چند مٹی کے برتنوں اور الماریوں کے باقی سب کچھ غائب ہو چکا تھا۔ مجھے کبھی کبھار کھلے کمروں میں کسی نسائی آواز کے رونے کی گونج سنائی دیتی تھی۔میرا بچین انہیں کمروں اور دیواروں سے لپٹ کر گزرا ہے۔میری شدید خواہش رہی ہے کہ میں ایک بار اُن مکینوں کو زمین کے کسی بھی حصے میں اگر موجود ہوں تو واپس اس حویلی میں لے آوں اُن سے پرانی داستانیں سنوں۔آج تقریبا سو برس بعد اس گاوں کا نقشہ بدل گیا ۔ہمارے گھروں کے حُلیے تبدیل ہو گئے ہیں۔وہ قدیم مکین گمنام ہو گئے ہیں۔وہ دریا خشک ہو گئے اور نیلی بار کا جنگل اب انسانوں کے خوفناک دشت میں بدل گیا۔میں اور یسین ملک نے سردار تارا سنگھ کے بیٹے کی قبر ڈھونڈ کر اس کو صاف کیا جو آک کے بے ہنگم پودوں میں گھِری ہوئی تھی۔یہ قبر جِسے مُڑھی کہا جاتا تھا جو کسی زمانے میں اونچی جگہ پر تھی آج کھیتوں کے بیچوں بیچ اندلس کی بیابانی کی صورت موجود ہے۔

والد صاحب کی وفات کے بعد میں بھی ایک مخصوص فیز میں آ گیا ۔غیر محسوس طریقے سے میں خاص طور پر اسی سڑک کا استعمال کرتا جو وہ کرتے تھے۔اسی آم کے پیڑ کے پتوں سے لپٹ کر روتا اور اسی بان والی چارپائی پر شب گزاری کرتا۔اب بھی گوگل اور یو ٹیوب پر ان گیتوں کو سنتا ہوں جو وہ سنتے تھے۔ اور ان سے کہتا کہ اب آپ جو بھی گیت کہو گے مِل جائے گا۔ جو بھی ویڈیو ڈھونڈنی ہو مہیا ہو گی۔ مگر جواب نہیں آتا۔ رفتہ رفتہ ان کے دوست بھی چلے گئے، فقیریا، فضل مستری، جینا نائی، سلیمان روہتکی سب چلے گئے، گھر کے باہر ایک زنگ آ لود تالا لگ گیا۔اُن کی ایک پسندیدہ غزل یہ تھی ۔

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے

مسکراتے ہوئے وہ مجمعِ اغیار کے ساتھ
آج یوں بزم میں آئے ہیں کہ جی جانتا ہے

انہی قدموں نے تمھارے انہی قدموں کی قسم
خاک میں اتنے ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے

تم نہیں جانتے اب تک یہ تمھارے انداز
وہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے