استاذِ صحافت پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ انتقال کرگئے

لاہور(فرحان خان)استاذِ صحافت اور پنجاب یونیورسٹی شعبہ ابلاغیات کے سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی گزر گئے۔ ان کی عمر 68 برس تھی ۔ وہ کچھ دن سے علیل تھے اور ڈاکٹرز ہسپتال لاہور میں وینٹیلیڑ پر تھے۔
ڈاکٹر مُغیث الدین شیخ کے ہزاروں شاگرد اس وقت پاکستان اور بیرون ملک میڈیا ہاوسز میں کام کر رہے ہیں۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری ’’سِسکتی مُسکراتی زندگی‘‘ کے نام سے گزشتہ برس شائع ہوئی تھی۔
ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے پنجاب یونیورسٹی کے علاوہ سپریئریونیورسٹی ،یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب اوریونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں بھی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے لیکچرر شپ کا آغاز گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان سے کیا تھا۔
ڈاکٹر مغیث الدین نے آئیوا یونیورسٹی امریکہ سے پی ایچ ڈی کی ، ”میڈیا اور خارجہ پالیسی کا باہمی تعلق “ ان کے تحقیقی مقاملے کا موضوع تھا۔ ان کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں صدارتی ایوارڈ ’’اعزاز فضیلت‘‘ بھی نوازا گیا۔
ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے اپنی کتاب ’’سِسکتی مسکراتی زندگی‘‘ میں لکھا:
’’مجھے فخر ہے کہ میں نے نوم چومسکی اور ایڈورڈ سعید جیسی شخصیات سے کورسز پڑھے ہیں۔ نوم چومسکی آزادانہ رائے رکھتے ہیں اور امریکی میڈیا کے بڑے ناقد ہیں۔ ابلاغ عامہ میں ان کا دیا ہوا پروپیگنڈہ ماڈل مشہور ہے اور ایڈورڈ سعید سے میں نے ’’کورنگ اسلام‘‘ کے موضوع پر ایک مضمون پڑھا کہ مغربی ذرائع ابلاغ نے اسلام کو کس طرح پیش کیا ہے۔‘‘
اپنی کتاب میں ایک جگہ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کے انسانی تعلقات پر اثرات کا ان الفاظ میں ذکر کیا:
آج کے دور کا یہ بھی المیہ ہے کہ ہم نے انسانوں سے مکالمہ کم کردیا ہے۔ دوست اور گھر والوں سے موبائل او رکمپیوٹر کے ذریعے بات کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی ہمیں بہت دور بیٹھے لوگوں کے قریب لے آئی ہے مگر اس نے بہت قریب بیٹھے لوگوں کو دور کردیا ہے۔ ہمارے دور میں ایسا نہیں تھا۔ اس لیے ہم اپنی سوشل لائف کو اور ڈھنگ سے گزارتے تھے
ڈاکٹر مغیث الدین شیخ اپنے زمانہ طالب علمی میں پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے پُرجوش کارکن رہے لیکن جب اسی یونیوسٹی میں وہ استاد بنے اور ایک ہاسٹل کی نگرانی ان کے سپرد ہوئی تو جمعیت ان کے خلاف ہو گئی ، یہ ذکر بھی ان کی کتاب میں موجود ہے:
نتیجہ یہ ہوا کہ وہ میرے دشمن بن گئے‘ مجھے خوف زدہ کرنے کے لیے جوتوں کے ڈبے میں کفن ڈال کر اگربتیوں سمیت میرے گھر میں پھینکا گیا۔ میرے خلاف پوسٹر لگائے گئے۔ میری کردار کشی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی… میرے ڈیپارٹمنٹ پر حملہ کیا۔ میرے کوٹ پر ہاتھ ڈالا‘ مگر میں نے پریس کانفرنس کی اور سب کو معاف کردیا کہ شاید یہ لوگ سدھر جائیں اور ان کا مستقبل تباہ نہ ہو۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے