بھرتی کا پتلا

افسانہ نگار: منصور ارحم

بھرتی کا پتلا

افسانہ نگار: منصور ارحم


وہ چاہے بھی تو یہ نہیں بتا سکتا کہ جو سرما لوٹ آیا ہے وہ پرانا ہے یا پھر اجنبی۔رہٹ کی جگہ رات کی تاریکی میں ٹیوب ویل کی آواز گونجتی ہے ویسے یہ ہمیشہ نہیں سنائی دے سکتی وہ محتاج ہے اس نہر کی جس میں پانی کی بہتات ہے۔بانجھ نہر ٹیوب ویل کے کھالے کی کوکھ بھر سکتی ہے۔سرما دریا کو تشنہ لب کرتا ہے تو راتیں ٹیوب ویل کی موسیقی سن پاتی ہیں یہ موسیقی دہقان کے خون پہ رقص کرتی ہے جو اس کی رگوں کو نچوڑ کے تیل کے کنستر میں اترتا چلا جاتا ہے۔
کچھ روز قبل وہ بتانے لگا کہ اب ریل گاڑی وقت پہ گزرنے لگی ہے انجن کی آواز میں اداسی چھائی ہوتی ہے۔ریل کی پٹڑی بھوکی نہیں ہے اسے پیٹ بھر کے کھانے کو مل رہا ہے۔ایسا بھی نہیں کہ اس پہ صرف گدھے ابدی نیند سوتے ہیں ان پہ کئی خواب بھی لٹ جاتے ہیں جو پیچھے نہ پلٹنے کےلئے آئے ہوتے ہیں۔شاید والی بات کہ وہ چٹھیاں چھوڑ آتے ہوں اپنے پتوں پہ۔وہ نہیں جانتا یہاں سے روز کتنے تار بھیجے جاتے ہیں اور کتنے کانٹے بدلے جاتے ہیں۔
بیشتر تو گاڑی خالی ہوتی ہے مگر نام اس کا سنتے ہیں خوشحال ایکسپریس ہے۔گاڑی میں بیٹھے مزدوروں کو ہر گزرتے گاؤں کے بچے جو تالیاں بجا کے خوش آمدید کہتے تھے یا پھر ہاتھ ہلا کے الوداع کہا کرتے تھے انکی شادیوں کو کئی برس گزر چکے ہیں۔ان بچوں کے بچے یوں پھرتے رہتے ہیں کہ ایک قمیص کی دولت کا مالک ہے تو دوسرا شلوار کا غنیم لئے پھرتا ہے۔ آج کل پٹڑی کے دونوں طرف دھول ہی اتنی اڑتی ہے کہ انکے بچے بھی ہاتھ ہلانے کو گاڑی کی طرف نہیں بھاگتے۔
جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو لوگ ٹکر مارنے والی موٹر کار کا نمبر دیکھتے ہیں وہ بھی اس شور مچاتی گاڑی کا نمبر دیکھ کے اس کی بھوک کا اندازہ لگانا چاہتا ہے مگر سرکاری گاڑی میں اسے یہ سہولت دستیاب نہیں ہے۔چاہتا تو وہ بھی ہے کہ بھوکے کا پیٹ بھرے مگر گاڑی کے بالکل قریب آنے پہ واپس آ جاتا ہے۔یا تو وہ بزدل ہے یا پھر اس پہ سفر کو نکل چکے راہی بہادر تھے۔
پورا چاند اب اپنے جوبن پہ ہے اور خزاں بھی درختوں پہ حملہ آور ہے۔رات گئے کہیں بیاہ کی محافل سے طبلے کی آواز ہے تو کہیں سے کھنکتی چوڑیوں کی بجائی تالیوں اور چٹکیوں کی۔ بنا بتائے رات بس ڈھل چکی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے