ہاتھی اور چوہے۔۔سنسکرتی حکایت

اردو ترجمہ:قیصر نذیر خاور

ہاتھی اور چوہے۔۔سنسکرتی حکایت

ایک دفعہ ایک خوفناک زلزلے نے ایک گاؤں کو کھنڈر بنا ڈالا۔۔۔ گھر اور گلیاں چونکہ تباہ ہو گئے تھے لہذا گاﺅں کے باسی اسے خیر باد کہہ کر کہیں اور جا بسے۔۔۔ان کے جانے کے بعد چوہوں نے گاﺅں کے کھنڈرات میں بسیرا کر لیا۔۔۔ انہیں یہ جگہ نہ صرف پسند آئی بلکہ راس بھی آ گئی اور دیکھتے دیکھتے ان کی آبادی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔۔اس گاؤں کے پاس ہی ایک جھیل تھی جہاں ہاتھیوں کا ایک ریوڑ باقاعدگی سے نہانے اور پانی پینے جاتا تھا۔۔ وہ جھیل تک پہنچنے کے لئے گاؤں کے ان کھنڈروں میں سے گزر کر جایا کرتے تھے۔۔۔ البتہ جب بھی ہاتھی وہاں سے گزرتے تو بہت سے چوہے ان کے پیروں تلے آ کر کچلے جاتے۔۔۔ چوہوں کی اس روز روز کی ہلاکت پر ان کے سردار نے سوچا کہ وہ ہاتھیوں سے بات کرے تاکہ اس بات کا کوئی حل نکل سکے۔۔۔اگلے روز جب ہاتھیوں کا ریوڑ آیا تو چوہوں کا سردار ان سے خوشگوار ماحول میں ملا اور ان سے کہا، ” محترم ہاتھیوں ! ہم اس گاؤں کے کھنڈرات میں رہتے ہیں اور جب آپ یہاں سے گزرتے ہیں تو ہمارے بہت سے چوہے آپ کے قدموں کے نیچے آ کر کچلے جاتے ہیں۔۔۔ اس لئے میری درخواست ہے کہ آپ جھیل پر جانے کے لئے اپنا راستہ بدل لیں اور اگر آپ ہم پر یہ مہربانی کریں گے تو ہم اسے ہمیشہ یاد رکھیں گے اور ضرورت پیش آنے پر آپ کی مدد کے لئے حاضر ہو جائیں گے۔۔۔یہ سن کر ہاتھیوں کا سردار ہنسا اور بولا، ” چُنے منے چوہوں کے اے سردار، تم ہم لحیم شحیم ہاتھیوں کے کیا کام آسکو گے؟ بہرحال میں تمہاری درخواست کا احترام کرتا ہوں، ہم جھیل تک جانے کے لئے آج سے ہی راستہ بدل دیتے ہیں۔۔ تمہیں اب ہم سے مزید کسی خطرے کی چنتا نہیں کرنی چائیے۔۔ ”
چوہوں کے سردار نے اس پر ہاتھیوں کے سردار کا شکریہ ادا کیا اور اس کے بعد ہاتھی دوبارہ گاؤں کے کھنڈرات میں سے نہ گزرے۔۔۔کچھ عرصہ بعد ہاتھیوں کا ریوڑ شکاریوں کے دام میں آ گیا۔۔۔ سردار سمیت کئی ہاتھی ان کے مضبوط جالوں میں اس بری طرح سے پھنسے کہ باوجود کوشش کے خود کو آزاد نہ کرا پائے۔۔ اچانک ہاتھیوں کے سردار کو چوہوں کے سردار کی بات یاد آئی۔۔ اس نے اپنے ریوڑ کے ایک ایسے ہاتھی کو بلایا جو جال میں پھنسا ہوا نہیں تھا اور اسے کہا کہ وہ چوہوں کے سردار کے پاس جائے اور اسے اس کا وعدہ یاد کرائے اور اس سے مدد کی درخواست کرے۔۔جیسے ہی اس ہاتھی نے جا کرچوہوں کے سردار کو صورت حال سے آگاہ کیا تو اس نے تمام چوہوں کو اکٹھا کرکے کہا، ” اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہاتھیوں کے احسان کا بدلہ چکائیں۔۔ ہمیں فوراً ان کی مدد کے لئے جانا چاہئے۔۔ "ہاتھی انہیں اس جگہ پر لے آیا جہاں اس کے ساتھی جالوں میں پھنسے ہوئے تھے۔۔۔ تمام چوہے مضبوط جالوں کو کترنے لگے اور جلد ہی ہاتھیوں کو ان سے آزاد کر دیا۔۔ہاتھی جالوں سے آزاد ہونے پرخوش تھے۔۔۔ ان کے سردار نے چوہوں کے سردار کا برقت مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔۔۔ اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کے دوست بن گئے۔۔اسی لئے تو سیانے کہتے ہیں کہ کسی کی ظاہری حالت کو دیکھ کر اسے غیر اہم نہیں گرداننا چاہئیے۔۔۔

•••••
کتاب : حکایات عالم
اردو ترجمہ:قیصر نذیر خاور

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے