راگنی کی کھوج میں

محمد سلیم الرحمٰن

راگنی کی کھوج میں

محمد سلیم الرحمٰن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نجیبہ عارف کی کتاب ’راگنی کی کھوج میں ‘میں دوزندگیاں گودے اور خول کی طرح آپس میں پیوست ہیں۔ ایک نجیبہ کی آپ بیتی، دوسرے ان کے مرشد محمد عبید اللہ درّانیؒ کی زندگی کے حالات جو وقتاً فوقتاً ان کے سننے میں آئے اور جن کی تصدیق ظاہر میں بھی ہوتی رہی۔ یہاں کیفیت کی بات یہ ہے کہ نجیبہ کی محمد عبید اللہ درّانیؒ سے کبھی ملاقات نہیں ہو سکی۔ جب ان کی عظمت سے آگاہی ہوئی تو وہ وصال فرما چکے تھے۔ لیکن نجیبہ کی آپ بیتی میں جن واقعات اور محسوسات کا ذکر ہے ان سے سراغ ملتا ہے کہ آخر الامران کا درّانی صاحبؒ سے اویسی انداز میں منسلک ہونا مقدّر تھا۔ سو انہوں نے نجیبہ کو اپنی طرف کھینچ لیا۔
نجیبہ عارف کے دل میں ، بہت شروع سے، طرح طرح کے سوال اُمنڈتے رہے۔ اس لیے انہیں بابوں کی تلاش رہی۔ یہی تشنگی نجیبہ کو ممتاز مفتی کے پاس لے گئی۔ مفتی صاحب کے ذریعے سے ہومیو پیتھی تک رسائی ہوئی، ہومیو پیتھی سے قاضی احمد سعید سے شناسائی اور ان کے ہومیو پیتھی کے کلینک تک پہنچنے کا موقع ملا اور قاضی صاحب درّانی صاحبؒ کی طرف لے گئے جو بابا قادر اولیاؒ کے مرید ہیں جن کے مرشد مشہورِ عالم بابا تاج الدّین اولیاؒ ناگپوری ہیں۔
میں نے نجیبہ عارف کی کتاب کو ناول کی طرح پڑھا ہے کہ یہ واقعات اور کرداروں کے تنوع کے سبب سے ناولا نہ دل رُبائی کی حامل ہے۔ انگریزی مقولہ: ”حقیقت افسانے سے عجیب تر ہوتی ہے“ اس تحریر پر صادق آتا ہے۔ نہ کہیں خطابت ہے نہ رنگیں بیانی۔ مکالمے سیدھے سادے اور فطری ہیں۔ منظرنامہ بے تکان انداز میں بدلتا جاتا ہے۔ شاید اسی کے مدِّنظر کہا گیا ہے کہ اچھی آپ بیتی اور اچھے فکشن میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا؛ بلکہ بعض اوقات اپنی بیتی لکھنے والا اپنے امیج کو بناسنوار اور جھاڑ جھٹک کر پیش کرتا ہے اور قاری فریبی میں مضائقہ نہیں سمجھتا۔ اس کتاب میں اس قماش کی رنگ آمیزی نظر نہیں آتی۔ جو کچھ اس کتاب میں ہے کسی کی نظر کا فیضان ہے۔ کتاب کے آخر میں ایک رسالہ ”کہاں چلے سادھورے“ موجود ہے۔درّانی صاحبؒ نے اسے 1949ءمیں انگریزی میں لکھّا تھا۔ کتاب میں اس کا ترجمہ نجیبہ عارف کے قلم سے ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے