فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

عدیم ہاشمی کی آج 19ویں برسی

اسلم ملک

بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ
اڑا دیئے ہیں پرندے شجر پہ بیٹھے ہوئے

آج اس شعر کے خالق عدیم ہاشمی کی 19ویں برسی ہے۔ عدیم ہاشمی کا اصل نام فصیح الدین تھا اور وہ یکم اگست 1946ء کو ڈلہوزی میں پیدا ہوئے تھے۔ بعد میں زندگی کا بڑا حصہ لائل پور میں اور آخری دن امریکا میں گزارے۔ ان کے شعری مجموعے ترکش، مکالمہ، فاصلے ایسے بھی ہوں گے، میں نے کہا وصال، مجھے تم سے محبت ہے، چہرا تمہارا یاد رہتا ہے، کہو کتنی محبت ہے اور بہت نزدیک آتے جارہے ہو کے عنوان سے شائع ہوئے۔انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لئے ایک ڈرامہ سیریل ’’آغوش‘‘ بھی تحریر کیا اور مشہور ڈرامہ سیریز گیسٹ ہائوس کے لئے بھی کچھ ڈرامے تحریر کئے۔5 نومبر 2001ء کو عدیم ہاشمی امریکا کے شہر شکاگو میں وفات پاگئے اور وہیں پاکستانیوں کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ وہ رشتے میں مشہور شاعر افتخار نسیم افتی کے ماموں تھے۔

عدیم ہاشمی کے کچھ اور شعر

بہت نزدیک آتے جا رہے ہو
بچھڑنے کا ارادہ کرلیا کیا

جو مہ و سال گزارے ہیں بچھڑ کر ہم نے
وہ مہ و سال اگر ساتھ گزارے ہوتے

پرندہ جانب دانہ ہمیشہ اڑ کے آتا ہے
پرندے کی طرف اڑ کر کبھی دانہ نہیں آتا

فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

صدائیں ایک سی یکسانیت میں ڈوب جاتی ہیں
ذرا سا مختلف جس نے پکارا یاد رہتا ہے

ماہ اچھا ہے بہت ہی نہ یہ سال اچھا ہے
پھر بھی ہر ایک سے کہتا ہوں کہ حال اچھا ہے

شور سا ایک ہر اک سمت بپا لگتا ہے
وہ خموشی ہے کہ لمحہ بھی صدا لگتا ہے

بکتا تو نہیں ہوں نہ مرے دام بہت ہیں
رستے میں پڑا ہوں کہ اٹھا کوئی آ کر

میں دریا ہوں مگر بہتا ہوں میں کہسار کی جانب
مجھے دنیا کی پستی میں اتر جانا نہیں آتا

اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا
میں نہیں تو کوئی تجھہ کو دوسرا مل جائے گا

ہوا ہے جو سدا اس کو نصیبوں کا لکھا سمجھا
عدیمؔ اپنے کیے پر مجھہ کو پچھتانا نہیں آتا

ہم بہر حال دل و جاں سے تمہارے ہوتے
تم بھی اک آدھ گھڑی کاش ہمارے ہوتے

یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیمؔ
بھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارا نہ تھا

مرے ہم راہ گرچہ دور تک لوگوں کی رونق ہے
مگر جیسے کوئی کم ہے کبھی ملنے چلے آ

بڑی سی عمر ہوئی دودھیا سے بال ہوئے
وہ اتنا پیارا ہوا جتنے ماہ و سال ہوئے

یوں دبائے جا رہا ہوں خواہشیں
جیسے اک عہد جوانی اور ہے

پار جانے کا ارادہ تھا عدیم
آج دریا کی روانی اور ہے

اس کے سلوک پہ عدیم اپنی حیات و موت ہے
وہ جو ملا تو جی اٹھے وہ نہ ملا تو مر گئے

کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یوں ہو کہ مر گئے
تیرے بھی دن گزر گئے میرے بھی دن گزر گئے

سرِ صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے
میں چلتا ہوں مجھے چہرہ تمہارا یاد رہتا ہے

اس نے کہا عدیم مرا ہاتھ تھامنا
چاروں طرف سے ہاتھ نمودار ہوگئے

توڑتا ناتا بھلا کیسے پرانے وقت کا
ہنس بیٹھا ہی رہا سوکھے ہوئے تالاب پر

اس نے ہنسی ہنسی میں محبت کی بات کی
میں نے عدیم اس کو مُکرنے نہیں دیا

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے