نیکی بوتے رہیں

تحریر:افتخار افی

نیکی بوتے رہیں

تحریر:افتخار افی

پرسوں رات مجھے ایک اسٹوڈنٹ نے کال کی،اس کا مسئلہ یہ تھا کہ لاہور کی ایک بہت بڑی یونیورسٹی میں وہ زیر تعلیم ہے مگراس بار کورونا کہ وجہ سےنوکری سے ہاتھ دھو بیٹھااور سمسٹر کی فیس نہ بھر سکا۔میں اُس ذہین اور سعادت مند بچے کو عرصہ چار سال سے جانتا ہوں،نہایت اچھا اور بااخلاق بچہ ہے۔اُس بچے کا شمار اُن طلبہ میں ہوتا ہے جو ملک کا نام روشن کرتےہیں۔اُس بچے کی ماسٹرز کی فیس چھیانوے ہزار بنتی تھی اور اُس کے پاس صرف پنتالیس ہزار روپے تھے جبکہ آخری تاریخ سر پر تھی میں ٹھہرا ایک سفید پوش لکھاری،یک مشت میرے لئے ممکن نہ تھا کہ اتنے پیسے دے سکوں،پھر میں نے اپنے یو اے ای کے دو فینز سےاس مسئلے کا ذکر کیا۔شارجہ سےمیرے فیس بک فین داؤدصاحب نے دس ہزار اور یواے ای کے فضل الرحمن صاحب اور ان کے دوست شاہد صاحب نے اس بچے کو ساٹھ ہزار روپے بھیج دئیے۔چند گھنٹوں میں ستر ہزار جمع ہوگئےاور اُس ضرورت مند بچے کی فیس آج چلی گئی۔مسئلہ حل ہوگیا۔میرے لئے یہ بات بہت بڑی اور قابل ذکر بات ہے
ہمیں اس طرح کے نیک اعمال کو زیادہ سے زیادہ سراہنے کی ضرورت ہے۔میں اپنے گرد نیکی کرتے ،لوگوں کی مدد کرتے،بھوکوں کو کھانا کھلاتے
دوسروں کے کام آتے، لاتعداد اللہ والے حاتم طائی دیکھ رہا ہوں جو چھپ چھپ کے نیکیاں کرتے ہیں اور اپنا نام بھی ظاہر نہیں کرتے،ایسے سخی دل ہماری پاکستانی قوم میں بھرے پڑے ہیں۔میرے حساب سے اس بات کو بریکنگ نیوز بنا کر چینلز پر چلانا چاہئے تاکہ لوگوں میں مدد کرنے کا جذبہ پیداہومگر بدقسمتی سے بری خبر کو ہی بریکنگ نیوز بنایا جاتا ہےایسی خبر کو جو لوگوں کو پریشانی میں مبتلا کر کے اُن کا بلڈ پریشر ہائی کر دے۔
اچھی بات کو ہم کبھی اہمیت نہیں دیتے
اسی لیے شاید برائی زیادہ پھیل رہی ہے
مجھے یاد ہے میں سیکنڈ ائیر میں پڑھتا تھا اور میرے سرکاری کالج کی فیس جانی تھی اور مجھے ایک عدد کیلکولیٹر کے ساتھ اکاؤنٹنسی کی کتاب خریدنے کے لیے تین سو پچاس روپے کی ضرورت تھی
ابا کے مالی حالات ٹھیک نہیں تھے۔میں نے ہر در پر ہاتھ پھیلایا تھا مگر کسی نے مدد نہیں کی تھی،میری امی کو اپنا ایک بینڈ کا سیلوں سے چلنے والا ریڈیو بیچنا پڑا تھاجو ہمیں جان سے زیادہ عزیز تھا ۔یہ سن 1986 کی بات ہے مگر آج جب میں کسی فین سے کسی کی مدد کے ليے کہتا ہوں تو میرے چاہنے والے لاکھوں دینے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔وقت وقت کی بات ہے ۔کل رات وہ مستحق بچہ میرے گھر آیا تھامیرا شکریہ ادا کرنےاور جاتے ہوئے کہہ کر گیا”سر میں وعدہ کرتا ہوں کہ جب میں کمانے لائق ہو جاؤں گا تو میں یہ والے پیسے میں عمر بھر ادا کرتا رہوں گا“
میں نے پوچھا کیا مطلب؟ تو وہ طالب علم بولا ”سر میں سی ایس ایس کا ارادہ رکھتا ہوں جب بھی مجھے کوئی ایسا طالب علم ملے گا جس کو تعلیم کی ضرورت ہوگی میں اس کی تعلیم کا خرچہ اٹھاؤں گا۔
اسے کہتے ہیں چراغ سے چراغ جلانا۔اُس نے میرے گلے لگ کر میرا شکریہ ادا کیا پھر پُرنم آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور موٹر سائیکل اسٹارٹ کر کے چلا گیا۔اس کے جانے کے بعد مجھے یقین ہو چلا ہے کہ میرے فینز نے نیکی بوئی ہے اب جلد ہی نیکی کی فصل اُگے گی اور لوگ نیکی کاٹیں گے۔نیکی بوتے رہیں۔نیکی اُگتی رہے گی۔اللہ ہمیں آسانیاں عطا کرے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے۔آمین

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے