پاکستان میں اب کیلے کے تنوں سے کپڑا تیار ہوگا

لاہور(قافلہ نیوز)یو ای ٹی کیلے کے تنوں سے کپڑا تیار کرے گی، وائس چانسلر نے ٹیکسٹائل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو خصوصی ہدف دے دیا۔
ذرائع کے مطابق یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے کیلے کے تنوں سے کپڑا بنانے کا اعلان کردیا، وائس چانسلر ڈاکٹر منصور سرور نے ٹیکسٹائل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو استعمال شدہ کپڑوں اور کیلے کے تنوں سے دھاگہ بنانے کے عمل پر تحقیق کا ہدف دیا، اس حوالے سے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے، تحقیق کا مقصد سرسبز ، صاف اور آلودگی سے پاک پاکستان کی سمت بڑھنا ہے۔دنیا بھر میں کپڑے کی مانگ میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر منصور سرور نے یو ای ٹی لاہور، فیصل آباد کیمپس کے ٹیکسٹائل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے چیئرمین ٹیکسٹائل ڈاکٹر محسن، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عامر اور بی ایس سی ٹیکسٹائل فائنل ائر کے طلبہ عمار، فرحان، انشا، عبید اللہ، علی اور احمد معین پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جو آر اینڈ ڈی ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھتے ہوئے کپڑے کے مقامی فضلے کو ٹیکسٹائل پراڈکٹ میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر تحقیق کریں۔یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا سیمنٹ انڈسٹری میں نئی تحقیق کا تجربہ بھی کامیاب ہو گیا، یو ای ٹی نے ایچ ای سی کی فنڈنگ اور دو سالہ تحقیق سے جدید سیمنٹ ایجاد کر لیا، پراجیکٹ ہیڈ ڈاکٹر ماریہ ادریس کے مطابق جدید سیمنٹ ان بریک ایبل، طویل العمر اور سپیج جیسے مسئلے کا مستقل حل ہے، نئے ایجاد کردہ سیمنٹ کی صلاحیت روایتی سیمنٹ سے 100 گنا بہتر ہے۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے تعلیمی میدان میں ایک اور سنگ میل عبور کرلیا، یونیورسٹی دنیا بھر کی بہترین جامعات میں 376 نمبر پر آگئی۔ نئی رینکنگ کے مطابق یونیورسٹی کا الیکٹرک انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ351 ویں اور میکنیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ 301 ویں درجے پر ہے، جبکہ کیو ایس ورلڈ رینکنگ کے مطابق پیٹرولیم انجینئرنگ پروگرام کو دنیا کے 100 بہترین پروگرامز میں شامل کیا گیا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے