لاہور:یہ نگر سوبارلوٹا گیا

شفقت تنویر مرزا

لاہور: یہ نگر سو بارلوٹا گیا

شفقت تنویر مرزا
۔۔۔

زمانۂ قدیم سے شہر کے باسی تو یہی دُعا دیتے رہے ہوں گے کہ شہر لاہور تیری رونقیں دائم آباد مگر ان رونقوں کو ایک بار نہیں بیسیوں مرتبہ اجاڑا گیا۔ اس علاقے میں مسلمانوں کے غلبہ کے بعد 413ھ میں یوں ہوا کہ محمود غزنوی کے حملوں کے باعث قنوج کے راجہ نے محمود کی اطاعت قبول کر لی اس سے راجستھان کے دوسرے راجے خصوصاً کالنجر کا راجہ بہت ناراض ہوا اور دوسرے راجوں کے ساتھ ملا کر قنوج پر دھاوا بول دیا۔ محمود کو پیغام ملنے تک راجہ قنوج مارا گیا۔ محمود نے حملہ کیا۔ راجہ کالنجرکے علاقے میں داخل ہوا مگر غزنی میں سیاسی ہلچل کے باعث اسے لوٹنا پڑا۔ اب کے اس نے لاہور کا راستہ اختیار کیا تو لاہور میں اسے پتہ چلا کہ راجہ جے پال نے بھی اپنی فوج کالنجر کے راجہ کی مدد کے لئے بھیجی تھی۔ راجہ جے پال کو خدشہ تھا کہ کالنجر کا غصہ اس پر نکلے گا وہ خود ہی تھوڑی سی فوج لے کر مقابلے پر آ گیا۔ شکست کھائی اور بھاگ گیا۔ محمود نے چاہا کہ شہر میں داخل ہو مگر شہریوں کو خوف تھا کہ فوج انہیں لوٹ لے گی اس لئے محمود کو شہر میں داخل نہ ہونے دیا۔ محمود نے فوج کو حملے کا حکم دیا۔ شہریوں نے چند روز لڑائی کی مگر ہار گئے ۔ فوج شہر میں داخل ہوئی۔ قتل و غارت گری کا آغاز ہوا، ہزاروں آدمی قتل ہوئے، گھروں کو جلا دیا گیا، باقی بھاگ گئے اور دو روز کے اندر شہر کھنڈر بن گیا۔
پھر اسی محمود غزنوی نے اس شہر کو دوبارہ آباد کیا۔ اس خاندان کے آخری حاکم خسرو ملک نے محمد بن شہاب الدین غوری کا کئی بار کامیاب مقابلہ کیا مگر آخری حملے میں غوریوں نے شہر کو محاصرے میں لے لیا۔ خسرو ملک لڑتا رہا مگر نا چار ہو کر اطاعت قبول کر لی۔ اس کے باوجود غوریوں نے شہر کو لوٹ لیا۔ قتل و غارت جا ری رہی۔ ہزاروں بندگان خدا قتل ہوئے، کچھ بھاگ گئے اور جب شہر لٹ چُکا تب امان کی منادی کی گئی۔
سلطان شہاب الدین غوری کے مرنے(ضلع جہلم میں قتل) پر دہلی کی سلطنت اس کے ایک غلام قطب الدین ایبک کے حصے میں آئی جبکہ کیچ مکران دوسرے غلام تاج الدین یلدوز کو مل گئے۔ یلدوز دہلی کا حکم بننا چاہتا تھا، پہلے اس نے غزنی کو فتح کیا پھر پنجاب پر حملہ آور ہوا۔ لاہور کا حاکم شکست کھا کر دہلی کو بھاگا۔ تاج الدین یلدوز نے اہل لاہور کو مزاحمت کرنے کی سزا اسی طرح دی جس طرح اس زمانے میں دستور تھا۔ قطب الدین ایبک کا دہلی اور لاہور کے درمیان یلدوز کے ساتھ معرکہ ہوا۔ یلدوز شکست کھا کر غزنی کو بھاگ گیا۔ قطب الدین ایبک اہل لاہور کے زخموں پر مرہم رکھنے آیا۔ اہل لاہور پر اتنے کرم کئے کہ اسے سلطان لکھ لٹ کا عرف عام مل گیا۔ آخر اسی مٹی میں مٹی ہو گیا۔
سلطان جلال الدین فیروز شاہ خلجی کے عہد میں پنجاب میں قحط بھی پڑا تھا اور مغلوں نے حملہ کر کے اسے تاخت و تاراج کر دیا۔ لاہور کو ایسا لوٹا گیا کہ شہر بے چراغ ہو گیا۔ پھر جلال الدین اور علاؤ الدین نے پنجاب اور لاہور کو بسایا۔ مغلوں کے حملوں کو روکا۔ اس کے بعد سلطان محمد تغلق کے عہد میں تاتاریوں نے دیپالپور اور لاہور کو غارت کیا۔ دہلی کے نائب بھاگ کر دلّی چلے گئے اور مغلوں نے اہلِ لاہور اور اہلِ پنجاب کے پاس کچھ نہیں چھوڑا۔ فیروز شاہ تغلق کے عہد میں بادشاہ کا نگڑہ کے محاصرے میں مصروف تھا۔ تاتاریوں نے پھر پنجاب اور لاہور کو جی بھر کر لوٹا۔ جب فیروز شاہ نے تاتاریوں کا تعاقب کیا تو اس میں لاہور والوں کا اور بھی نقصان ہوا۔
فیروز شاہ کے جانشیں محمد شاہ کے عہد میں شیخا گکھڑ نے لاہور تک تباہی پھیلائی۔ دوسری طرف امیر تیمور ملتان تک پہنچ گیا۔ پھر دہلی پہنچا۔ واپسی پر شیخا گکھڑ کے ساتھ نمٹنا پڑا۔ شیخا گکھڑ لاہور میں لڑائی میں مارا گیا۔
کنہیا لال ”تاریخ لاہور“ میں لکھتا ہے ”لاہور شہر پر آٹھواں صدمہ سیّد خضر خان کے بیٹے سلطان مبارک شاہ کے عہد میں گزرا جو ہر ایک صدمے سے بڑا شمار کیا جاتا ہے۔ جب 828 ھ میں خضر خان مر گیا اور مبارک شاہ دہلی کے تخت پر بیٹھا اور ملک میں پھر تازہ تازہ فساد ہوئے تو مسمی حسبرت، سیکا(شیخا) گکھڑ کے بھائی نے پھر پنجاب میں غدر برپا کیا۔ اور بہت سی فوج لے کر لاہور پر حملہ آور ہوا اس دشمنی سے کہ شہر والوں نے اس کے بھائی سیکھا کر امیر تیمور کی فوج کے ہاتھ سے قتل کرا دیا تھا۔ بہ کمال غضب و غصّہ شہر کا محاصرہ نہایت سختی کے ساتھ کیا۔ بادشاہی ناظم نے لڑائی میں شکست کھائی اور بھاگ گیا۔ مگر شہروالے لڑتے رہے۔ دو ماہ کے بعد شہر فتح ہوا اور قتل و غارت شروع ہوئی ہزاروں لوگ مارے گئے۔ محلے محلے کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ بڑی عمارتیں گرائی اور جلائی گئیں، شہر ویران ہو گیا۔ لاہور آکر بادشاہ نے دیکھا کہ شہر بالکل ویران ہے، ہر محلے میں ہزاروں لاشیں گلی سڑی پڑی ہیں۔ حکم دیا کہ ان نعشوں کو جابہ جا کھاتے کھدوا کر دفن کر دیا جائے۔ چنانچہ سب نعشیں دفنائی گئیں اور گنج شہیداں محلے محلے بنا دیا گیا اور اشتہار دیا گیا کہ جوشخص اس شہرمیں آ کر آباد ہو گا چھ مہینے کا خرچ بادشاہ سے پائے، چنانچہ تین ماہ کے عرصے میں پھر شہر کی آبادی کی صورت قائم ہو گئی۔
”کچھ عرصے بعد حسبرت نے کابل کے بادشاہ شیخ علی سے مل کر پھر حملہ کیا۔ پنجاب کا کوئی شہر و بستی و قصہ و گاؤں ان کے قتل و غارت سے نہ بچا۔ لاہور کی رعایا پھر گھر بار چھوڑ کر بھاگ گئی۔ یہ خبر سُن کر بادشاہ بہ رجعت قہقہری پھر پنجاب میں آیا۔ شیخ علی اور حسبرت دونوں کو الگ الگ شکست دی۔
او ر آخری تاراجیٔ لاہور :شاہ حسین کی پیدائش سے چودہ پندرہ سال قبل 929ھ میں لاہور سے چند میل کے فاصلے پر ابراہیم لودھی کے نامزد لشکر کا مقابلہ بابر سے ہوا۔
اقبال صلاح الدین نے تاریخ پنجاب میں لکھا ”بابرفاتحانہ انداز سے شہر لاہور میں داخل ہوا۔ یہاں اس کی فوج نے قتلِ عام کے علاوہ خوب لوٹ مار بھی کی…. اور کنہیا لال لکھتا ہے:
”فتح کے شگون کے طور پر لاہور میں داخل ہو کر چند محلے غارت کئے اور چند مکانات جلائے۔ رعایا غار ت کے خوف سے بھاگ گئی۔“

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے