پروفیسر ڈاکٹر خواجہ عبدالحمید یزدانی

محمودالحسن

پروفیسر ڈاکٹر خواجہ عبدالحمید یزدانی چند دن پہلے لاہور میں انتقال کرگئے۔ فارسی کے استاد کی حیثیت سے گورنمنٹ کالج لاہور سے ان کی طویل عرصہ وابستگی رہی۔معروف نقاد ڈاکٹر سلیم اختر سے ان کی بڑی گہری دوستی تھی۔ انھوں نے اپنی کتاب ’نشانِ جگرِ سوختہ ‘ میں خواجہ صاحب کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
’’ ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی فارسی کے پروفیسر رہے مگر اہل فارس والا کوئی شوق نہیں پالا۔ ہاں مجھے ضرور سنبھالا ہوا ہے۔ کوئی بیس برس قبل میرے پاﺅں میں گٹھیا کی شدید تکلیف ہوئی‘ کچھ عرصہ بستر پر رہا جب ذرا بہتر ہوا تو یزدانی صاحب نے مجھے کار پر کالج لے جانا شروع کردیا۔ وہ دن اور آج کا دن خواجہ صاحب وضع داری نبھا رہے ہیں۔ یوں کہ اب اگر ہم میں سے ایک اکیلا نظر آئے تو یار لوگ پوچھتے ہیں۔ دوسرا کدھر ہے؟ جبکہ نیاز احمد تو نعرہ لگاتے ہیں:
”اوہ! ڈریور کتھے وے؟“
سو برا منانے کے بجائے اب خواجہ صاحب خود بھی کہتے ہیں:
”میں ڈاکٹر صاحب کا ڈرائیور ہوں۔“
دراصل یہ محبت کی ڈرائیوری ہے۔
نارمل انسان کیسے ابنارمل بن جاتا ہے اس ضمن میں خواجہ یزدانی صاحب ٹیکسٹ بک کیس ہسٹری ہیں۔ ان کے ذہن میں ایک ٹائم ٹیبل ہے۔ بالکل کالج میں کلاسوں کے ٹائم ٹیبل کی مانند‘ اتنے بجے سنگ میل جانا ہے‘ اتنے بج کر اتنے منٹ پر کالج پہنچنا ہے‘ اس کے بعد احمد ندیم قاسمی صاحب کے ساتھ اتنا وقت گزارنا ہے جس میں منصورہ کے ساتھ اتنے منٹ کی گفتگو بھی شامل ہے اور پھر ایک بجے گھر پہنچ کر کھانا اور پھر قیلولہ وغیرہ وغیرہ۔
مجھے کہتے ہیں صبح 9 بج کر ساڑھے 3 منٹ پر آ جاﺅ میں اگر نو بج کر چار منٹ پر پہنچوں تو یہ چوک میں کار پارک کر کے عالم بے تابی میں ٹہلتے پائے جائیں گے۔ ان کی وجہ سے میں بھی وقت کا پابند ہو چکا ہوں۔ ادھر میں ان کی گلی میں داخل ہوتا ہوں ادھر ان کا مین گیٹ کھلتا ہے جبکہ محلہ کی عورتیں انگلی اٹھا کر کہتی ہیں:
”تک! اوہ پیا جاندا اے“
میری بیوی ان سے بہت خوش ہے کہ ان کی وجہ سے میں اب ٹھیک ایک بجے گھر آ کر گرم کھانا کھا لیتا ہوں۔ میں…. جوکہ چائے کے کپ پر دن گزار دیا کرتا تھا اور جو گھر سے یوں نکلتا تھا گویا تیر کمان سے!
ویسے خواجہ صاحب شریف بلکہ شریف النفس ہیں۔ دیانتداری اور محنت جیسے اوصاف کے حامل خواجہ یزدانی دوستوں سے محبت کرنے والے اور بندۂ خلوص ہیں۔ کیا مجال‘ شخصیت میں کوئی کس بل ہو‘ دھلے لٹھے کی مانند‘ صاف اور اجلی شخصیت…. شخصیت بھی کیا…. لٹھے دی چادر سمجھ لیں۔‘‘

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے