کووڈ پازیٹو کے دنوں میں احمد فاروق مشہدی (مرحوم)کے لیے ایک تحریر

پروفیسرڈاکٹرنجیب جمال

ملتان یونیورسٹی(1975) جو بعد میں بہاُ الدین زکریا یونیورسٹی(1981) کے نام سے موسوم ہوئی آج ایک بین الاقوامی شناخت رکھتی ہے۔علم و دانش کی روایت کا یہ سفر لگ بھگ نصف صدی کو محیط ہے۔اس عرصہ میں بوسن روڈ پر واقع گورنمنٹ سکول کی چھوٹی سی عمارت میں شروع ہونے والا آگہی کا سلسلہ آج بارہ سو ایکڑ پر محیط شان دار تدریسی ، انتظامی اور اقامتی عمارتوں پر پھیلا ہوا ہے جہاں کم و بیش تمام ہی انسانی،سماجی،انتظامی، فطری اور بنیادی سائنسوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔اعلی تعلیم کی اس ایک درس گاہ نے ملتان جیسے قدیم شہر کو جدید رنگ و روپ عطا کیا ہے اگر پچاس سال پہلے کے ملتان کو کسی نے دیکھا ہو اور اب وہ ملتان آئے اور جدید عمارتوں، سڑکوں، رہائشی آبادیوں، نجی تعلیمی اداروں،کارخانوں، پبلک یونیورسٹیوں، میٹرو بس کے بندوبست،سَروں کے اوپر سے چہار جانب گزرتے پُلوں ،سٹیٹ بینک، اعلی عدالتوں کی عمارتوں،آرٹس کونسل، چیمبر آف کامرس، بڑے بڑے شاپنگ پلازوں اور کمرشل مالز کو دیکھے تو شاید اسے یہ سب کسی جادو کی چھڑی کی کرامت نظر آئے اور وہ خوش ہونے کے ساتھ دو آنسو آموں کے ہرے بھرے اشجار کے کٹنے پر بھی بہائے کہ مجید امجد ایسے ہی ایک سانحے کو "توسیعِ شہر”کا عنوان دے کر پہلے ہی ہمارے بےضمیر احساس کا شاخسانہ قرار دے چکے ہیں:
بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
جھومتےکھیتوں کی سرحد پر بانکے پہرے دار
گھنے،سہانے،چھاؤں چھڑکتے، بور لدے چھتنار
بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار
جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم
قاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم
گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار
کٹتے ہیکل ،جھڑتے پنجر،چھٹتے برگ و بار
سہمی دھوپ کے زرد کفن میں لاشوں کے انبار
آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار
اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال
مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک اے آدم کی آل
ملتان آج وہ نہیں رہا جو ایک مدت تک سانس روکے خاموشی سے کھڑا تھا جہاں سڑکوں اور گلیوں میں شام گئے چھڑکاؤ ہوتا،رات کو دوپیسےکے کلیوں کی مالا ہاتھ میں لیے کوئی گھر کی تو کوئی بالا خانے کی سیڑھیاں چڑھتا اور صبح سویرے سر پر بندھا دوپٹہ زندگی کے رینگتے رہنے کی خبر دیتا۔
مجھ یاد ہے کہ جب ایک سکول کی عمارت میں ملتان یونیورسٹی قائم ہوئی تو میں اردو کے شعبے میں لیکچرار منتخب ہو کر تازہ واردانِ علم و ادب کو پڑھانے پر مامور ہوا۔گورنمنٹ سکول اور ایجوکیشن کالج کی عمارت ملحقہ تھی جس کے درمیان ایک پتلی سی سڑک ایجوکیشن بورڈ کے دفتر تک جاتی تھی۔یہی سڑک جانب ِبوسن روڈ ذرا پہلے دائیں جانب ایجوکیشن کالج کے سامنے سے ہوتی ہوئی بائیں جانب مڑتی تھی اسی سڑک کے دائیں جانب ایمرسن کالج (اب یونیورسٹی) کی عمارت واقع تھی۔یہی سڑک بوسن روڈ کو قطع کرتی ہوئی گل گشت کالونی میں واقع گول باغ تک جاتی تھی جو ایمرسن کالج کے طالب علمی کے سالوں اور اب یونیورسٹی کے بعد مغرب کے وقت تک ہم چند دوستوں کا مستقل ٹھکانہ تھا۔گل کشت کالونی میں اس سڑک پر دائیں جانب مدرسہ قاسم العلوم کی کچی دیوار تھی جہاں سارا دن کچھ لوگ سردیوں کی دھوپ تاپنے کے لیے بیٹھا کرتے تھے۔اکا دکا طالب علم بھی اس دیوار پر بیٹھے نظر آ جاتے تھے ان میں سے کچھ مدرسے کے اور کچھ ایمرسن کالج کے ہوتے۔میں اسی دیوار پر بجلی کے تار ایسے دبلے پتلے نوجوان کو بیٹھے ہوئے روز دیکھتا تھا جس نے دھاگے سے بُنا ہوا ایک چارخانے کا سویٹر پہنا ہوتا اور وہ سر جھکائے کسی کتاب یا رسالے کی ورق گردانی کر رہا ہوتا۔میری اچٹتی ہوئی نظر اس پر پڑتی تو اس کا کتاب پر جھکا ہوا چہرہ صاف دکھائی نہ دیتا پھر ایک دن اس کا چہرہ نظر آیا تو وہ ایم اے اردو کی سال اول کی کلاس کا طالب علم سید احمد فاروق مشہدی تھا۔میں جونہی اس کے قریب گیا تو وہ کپڑے جھاڑتا ہوا دیوار سے نیچے اتر آیا اس کے ہاتھ میں معروف ادبی مجلہ "فنون ” تھا اور وہ احترام اور محبت آمیز مسکراہٹ سے مجھے دیکھ رہا تھا۔بعد میں بھی تمام عمر میں نے اسے اپنی کم آمیزی کو اسی دل نشیں مسکراہٹ سے متوازن بناتے ہوئے دیکھا اس وقت بھی جب کسی تقریب میں مجھے اپنے بچوں سے ملاتے ہوئے وہ اپنی اسی معصوم اور شرمیلی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے کہا کرتا تھا کہ "یہ میرے استاد ہیں "حالاں کہ وہ خود بھی ایک مستند اور پختہ کار استاد تھا۔
اس کی جماعت سترہ طالب علموں پر مشتمل تھی مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ میں نے اب تک اپنے پینتالیس سالہ تدریسی عمل میں ایسی متنوع کلاس پھر نہ دیکھی جس کے یہ سترہ طالب علم ایک ہی محیط کے چھوٹے چھوٹے جزیرے تھے اور ہر جزیرہ خودمختار رہنے پر تلا ہوا تھا۔ان دنوں سمسٹر سسٹم نیا نیا متعارف ہوا تھا جس میں ابتدائی طور پر نصاب کی تقسیم و تدریس اور خاص طور پر امتحانی کارکردگی کو جانچنے کا طریقہ کار ،امتحانات، کوئز،اسائنمنٹ یا کسی ایک آدھ پراجیکٹ کے علاوہ طالب علموں کے دوران سمسٹر رویے، انہماک،دل چسپی اور زیادہ سے زیادہ حاضر رہنے کی بنیاد پر منحصر تھا جو ظاہر ہے کہ ایک دشوار کام تھا اور پھر طالب علم بھی ایسے کہ جن میں مسابقت کا رویہ ایک دوسرے سے بڑھ کر تھا ایسے میں استاد کی دہری مشکل یہ تھی کے اسے نہ صرف طالب علم کو اپنے تدریسی عمل سے مطمئن کرنا ہوتا تھا بلکہ اسے اپنے جانچنے کے عمل کا دفاع بھی کرنا ہوتا تھا۔
مجھے شاعری اور وہ بھی کلاسیکی شاعری سے فطری شغف تھا مگر یہ پرچہ ایک سینئر استاد پڑھا رہے تھے۔ادہر فکشن کی تدریس میں ڈاکٹر اے بی اشرف اور تنقید میں ڈاکٹر انوار احمد نے دھاک بٹھا رکھی تھی ایسے میں میرے حصے میں اسالیبِ نثرِ اردو کی تدریس آئی اور مجھے ایک جوشیلی کلاس کے روبرو اپنے تدریسی عمل کا آغاز "سب رس "(1636) جیسی دکنی نثر میں لکھی گئی داستان سے کرنا تھا۔یوں مجھے اپنے ابتدائی تدریسی تجربے میں خود بھی محسوس ہوتا رہا کہ "رنگ اڑتا بھی نہیں نقش ٹھہرتا بھی نہیں "۔مجھے رہ رہ کر یہ بھی خیال آتا رہا کہ ملا وجہی کے بجائے ولی دکنی کو پڑھا رہا ہوتا تو کیفیت کتنی مختلف ہوتی۔خیر ایک دو سالوں کے بعد یہ موقع بھی میسر آ ہی گیا ۔تو میں کہہ رہا تھا کہ ایک چوبیس برس کے نوجوان کو کم و بیش اپنی ہی عمر کے نوجوانوں کو پڑھانا تھا جن میں سے کچھ تو واقعتاً مجھ سے بھی بڑے نظر آتے تھے۔اسی کلاس کا ایک طالب علم محمد یاسین تو باقاعدہ بلحاظ عمر مجھ سے کچھ بڑا تھا۔انہیں میں کچھ اپنی عمر اور شادی دونوں کو چھپائے ہوئے تھےاور کنوار پنے جیسی آہیں بھرتے تھے۔ان میں راؤ تسنیم شادی شدہ تھا مگر اپنی زندہ دلی کے باوجود عشق کا بھوت سر پر سوار کر بیٹھا تھا۔لطف یہ ہے کہ اس کا اور احمد فاروق کا مرکزِ نگاہ ایک ہی چہرہ تھا مگر دونوں ہی اپنے اپنے جذبے کو صادق مانتے تھے۔راؤ تسنیم البتہ اس سب کے باوجود اپنے بیٹے کی تصویر کو بھی بٹوے میں لگائے پھرتا (خدا اسے آسودہ رحمت کرے )۔علمدار حسین بخاری اپنے گلاس کے پیندوں جیسے شیشوں والی عینک لگائے ان سب میں خوامخواہ ہی زیادہ معتبر اور دانش ور نظر آتا تھا مگر عشق کا تیر اسے بھی کاری اور زندگی بھاری لگنے لگی تھی۔شعیب عتیق،مقصود احمد،محمد یاسین، جاوید سہو،انور ضیا اور عبدالباقی بھی کسی نہ کسی سے چوٹ کھائے ہوئے تھے مگر ظاہر یہ کرتے تھے کہ” ہم میں
کوئی کسی کو کسی کا پتا نہ دے”۔ کلاس کی لڑکیاں البتہ خاصی سمجھ دار تھیں،مسرت،نگینہ،شگفتہ،نجمہ،مبینہ،فرزانہ سب میں کچھ نہ کچھ فرزانگی موجود تھی اس لیے سطح آب پرسکون تھی۔
لڑکیاں لڑکے کلاسوں میں ملے ہنس بول کر
کون کس کو چاہتا ہے یہ معمّا رہ گیا
ہاں مگر ایک میں تھا جسے نوجوانوں کو چار سو سال پہلے دکنی نثر میں لکھی گئی ایک کتاب پڑھانے کو دی گئی تھی اور کیا عجب بات تھی کہ قصہ یہاں بھی "حسن و دل ” کا نکلا۔اس لیے سب کی دلچسپی کا کم از کم ایک پہلو تو موجود تھا۔اب یہ پڑھانے والے پر تھا کہ وہ حسن و دل،عقل و عشق، ہمت و استقامت اور صبر و توکل کے ساتھ ساتھ "ناموس "جیسے کردار کی وضاحت کرتا رہے جو اس داستان میں لغزش پا کی ایک ایک نقل و حرکت پر نظر رکھتا تھا۔یہ سب کچھ تو تھا مگر میں نے دیکھا کہ وہی دھان پان سا لڑکا،میر و فراق و ناصر پر فریفتہ شاید انہی کے اثر سے فرزانگی پر دیوانگی کو ترجیح دے رہا ہے۔1978 آ چکا تھا اب تک یہ نوجوان اپنی دانش،تجزیے کی صلاحیت، مطالعہ کی ہمہ گیری اور خوب صورت طرز تحریر کا سکہ جما چکا تھا۔اس کی انفرادیت،اہلیت اور سخنِ گرم کی فسوں کاری کو اس کے اساتذہ اور ساتھی طالب علم مان چکے تھے۔وہ بلا تخصیص اپنے سب اساتذہ کا پہلا انتخاب بن گیا تھا کہ اچانک دل میں دبی چنگاریوں کو ہوا دے بیٹھا اور حالت یہ ہوئی کہ خور و خواب میں کمی آتی گئی نہ پہلا ساہنسنا نہ لب کھولنا۔ماتھے پر ایک پٹی بندھ گئی بدن کو سیہ چادر نے لپیٹ لیا۔مثنوی "سحر البیان” کے شہزادہ بے نظیر کا سا حال ہو گیا:
بہانے سے دن رات سویا کرے
نہ ہو جب کوئی تب وہ رویا کرے
موسم گرما کی چھٹیوں میں فائنل اور جونیر کلاس کا ایک دورہ اسلام آباد، مری،پشاور اور سوات کے تفریحی مقامات کے لیے عازمِ سفر ہوا تو منظر اور مرکز نگاہ دونوں بدل چکے تھے،ماتھے کی پٹی کھل چکی تھی اور سیاہ چادر یوں اتر چکی تھی کہ فرزانگی بھی دیوانگی کا گلہ کرتی نظر آئی تاہم نقشِ ثانی نقش ِاول سے کہیں بہتر اور مبارک ثابت ہوا ۔ گھر کی دیواروں پر چھائی اداسی نے بھی اپنے کھلے ہوئے بال باندھ لیے اور یوں ان تازہ فضاؤں میں نئے جال بندھ گئے جو ریشم کے سنہری تاروں سے بُنے گئے تھے۔
یہ تھے ہمارے سید احمد فاروق مشہدی جن کی زندگی اب اک رواں دھارے کی طرح بہہ نکلی تھی۔وہ استاد ہوا،پی ایچ ڈی کرنے بریڈ فورڈ(انگلستان) گیا،شعر کہتا رہا،کالم لکھتا رہا،ناصر کاظمی کی شاعری پر ایم اے کے دوران نہایت عمدہ مقالہ لکھا اور پھر اس پر نظرثانی کر کے جب شائع کیا تو اپنے استادوں،شاگردوں، دوستوں کو یقین دلا گیا کہ اگر اردو زبان و ادب جیسے اپنے دل پسند مضمون کو الوداع کہہ کر انگلستان کی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے کی مجبوری نہ ہوتی تو وہ ایک بڑا نقاد،ایک عمدہ شاعر اور ایک باصلاحیت ادیب ہوتا تاہم اس نے ایجوکیشن کے مضمون میں بھی اپنی محنت ،لگن اور لیاقت سے نام پیدا کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے اپنی ظاہری و باطنی خوب صورتی، دل کی صفائی،محبت و مروت اور وفاپیشگی کے ساتھ ساتھ اپنی حیات بخش مسکراہٹ کو ہمیشہ قائم رکھا۔ہزاروں نغموں کا تلاطم ابھی اس کے سینے موج زن تھا۔وہ زندگی کی محرومیوں،تلخیوں اور المیوں کے باوجود محبت، مروت اوروفا کی علامت تھا۔
احمد فاروق مشہدی ! تم واقعی داد و ستد کےاس قدر کھرے تھے کہ ملک الموت کو کوئی اور دن تقاضا کرنے کا موقع بھی نہ دیا۔
مٹ جائے گا سر گر ترا پتھر نہ گھسے گا
ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے