بازدید،خورشید رضوی کے خاکوں کا مجموعہ

تحریر:غلام حسین ساجد

"بازدید” خورشید رضوی صاحب کے لکھے خاکوں کا مجموعہ ہے۔اس میں دیدہ،نادیدہ(دیدہ زیادہ،نادیدہ کم) تیس لوگوں کے چونتیس خاکے ہیں جو شخصیت نگاری کی بہترین مثال ہیں اور جن کی سب سے بڑی طاقت ان کا بیانیہ ہے۔شگفتگی اور تبحرِ علمی کے ایک بیش قیمت ادغام سے شگفت ہوتا ہوا،جس میں شخصیت کے مثبت پہلو ہی پپیشِ نظر رکھے گئے ہیں اور اس پر بھی شخصیات کی انفرادیت مجروح ہوتی ہے نہ ان کی ذات میں کسی ماورائی جہت کا اضافہ ہوتا ہے۔
"سویرا” میں خورشید رضوی صاحب کی معرکتہ الآرا کتاب”عربی ادب قبل از اسلام”قسط وار چھپنا شروع ہوئی تو مجھے اُس کی ہر قسط کا بے تابی سے انتظار رہتا تھا۔اس قدر کہ میں نے رسائل میں سب سے پہلے شاعری پڑھنے کی اپنی عادت کو ترک کرکے”سویرا”کے مطالعہ کا آغاز رضوی صاحب کی نثر سے کرنا شروع کیا۔اس کا سبب ان کی نثر کی خوانائی(readability) کی طاقت تھی جو مجھے اور شاید میری طرح ہر قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی تھی۔یہی طاقت اس کتاب کا بھی خاصہ ہے۔ان کی نثر میں ایک خامشی سے غرق کر دینے والا عمق ہے جس سے باہر نکلنے کو جی نہیں چاہتا۔
رضوی صاحب کے تیس ممدوحین میں سے تئیس سے میری بھی ملاقات رہی ہے۔کسی سے ان کے مقابلے میں زیادہ کسی سے کم اور عجیب بات ہے کہ ان سبھی شخصیات کے بارے میں میری اور رضوی صاحب کی رائے میں سرِمُو فرق نہیں۔بہت غور کرنے پر یہ راز کُھلا کہ اس کا سبب مزاج کی یکسانیت ہے۔اُن کی طرح میں بھی داخلیت پسند(Introvert) ہوں اور بات کرنے سے زیادہ سُننے اور دیکھتے رہنے پر یقین رکھتا ہوں۔مجھے لگتا ہے خاکہ نگار کے لیے داخلیت پسند ہونا نعمت ہے کہ اس طرح وہ ممدوح کی شخصیت کو جی بھر کر نہار سکتا ہے اور تحریری اظہار میں مشاہدے اور عکس ریزی کی یہ صفت کُھل کر اپنا ظہور کرتی ہے۔
"بازدید” کو میں نے ایک نشست میں پڑھا۔یہ اس لیے حیرانی کی بات نہیں کہ بعض کتابوں کو دوسری نشست تک اُٹھا رکھنا ممکن ہی نہیں ہوتا۔مجھے دعویٰ ہے کہ کوئی بھی اس کتاب کو ایک بار شروع کر کے ختم کیے بغیر ہاتھ سے نہیں رکھ سکتا کہ یہ اُسلوب کے لحاظ سے بھی منفرد ہے اور شخصیات کے سِحر بیز جذب کے اعتبار سے بھی۔کتاب آغاز کرتے ہی ہم ایک طلسمی آئینے کے روبرو آ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک مانوس دُنیا میں سہولت اور خوشدلی سے چلنے پھرنے لگتے ہیں جس سے باہر آنے کو ہمارا جی نہیں چاہتا۔
اس کتاب کی ایک حیثیت یاد نگاری کی بھی ہے کہ یہ سبھی شخصیات اب اس دنیا میں موجود نہیں۔اس لیے اس میں حُزن کی ایک زیریں لہر شگفتگی کے محیط پر موجود رہتی ہے۔ایک عجیب سا پچھتاوا اور احساسِ زیاں اس کتاب کا اثاثہ ہے مگر اسی بنیاد پر تو یہ ہمارے باطن سے مکالمہ کرنے پر قادر ہے اور اس میں خود میں جذب کر لینے کی اس قدر شکتی ہے۔
یہ دل پذیر کتاب القا پبلی کیشنز نے شائع کی ہے اور ریڈنگز سے خریدی جا سکتی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے