شاعری

  • رائگاں شخص کی صحبت سے برا کچھ بھی نہیں

    غزل عمیر نجمی دھوپ کی عمر زیادہ ہے، سفر مجھ سے کم اس لئے زرد تو ہوتی ہے مگر مجھ سے کم رائگاں شخص کی صحبت سے برا کچھ بھی نہیں ہجر اپناؤ کہ اس میں ہے ضرر مجھ سے کم میں ہوں جنگل میں اترتا ہوا ذیلی رستہ خلقتِ شہر کا ہوتا ہے گزر مجھ سے کم ہر خزاں…

    Read More »
  • جنگ بولی وڈ کی فلم نہیں ہے مہاشے جی!

    جنگ بولی وڈ کی فلم نہیں ہے مہاشے جی! محمد عثمان جامعی جنگ بولی وڈ کی فلم نہیں ہے مہاشے جی! ہر سین لکھاری کا لکھا جوں کا توں فلمایا جائے جب کرے اشارہ ڈائریکٹر بدلیں چہرے، بدلے منظر آغاز ہو اپنے ہاتھوں میں “دی اینڈ“ لکھا ہو پَنّے پر جنگ کرکٹ کا میدان نہیں پیسے لے کر ہارو جیتو…

    Read More »
  • ہاں میں صحافی ہوں

    ہاں میں صحافی ہوں محمد عثمان جامعی ستم کی خبریں لاتا ہوں جَکڑتے بھینچتے افلاس کی تصویر دیتا ہوں غضب ڈھاتی ہوئی بے کاری پر مضمون لکھتا ہوں کسی بچے کے بھوکے پیٹ کو بھرنے کی خاطر ماں کے بک جانے مٹاکر بھیڑیوں کی بھوک روٹی لے کے گھر آنے کسی بھی خواب کے اسکول کی چوکھٹ پہ مرجانے دوا…

    Read More »
  • جاگتی آنکھوں کے اک خواب نے آخر اس کو مار دیا

    غزل | رباب حیدری،بہاول پور یہ نہ سوچا پرکھوں نے کہ مقصد تو سیرابی تھا اب کی بار بھی آیا ہے جو ریلا وہ سیلابی تھا فصلیں، ڈنگر، گھر کی چھت تک بہہ جانے کی خبر ملی ہے گاؤں سے اک خط آیا تو سارا منظر آبی تھا سرسوں چننے والی کو دوا ملی نہ غذا ملی پیلیا اس کو…

    Read More »
  • مت مارو اپنے لوگوں کو|نظم

    مت مارو اپنے لوگوں کو! نظم| سید صغیر صفی ہائے ساہیوال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مت مارو اپنے لوگوں کو تم اس درجہ سفاک نہ تھے کہ لہو سے اپنے ہاتھ رنگو ایسے تو نہیں تھے وحشی تم اپنے ہی جسموں کو کھا لو بم ان پہ گرے یا تم پہ گرے جلتا ہے اپنا سفینہ ہی زخم ان کو لگے یا تم…

    Read More »
  • سانحہ ساہیوال پر ڈاکٹر کبیر اطہر کی نظم

    *نظم| ڈاکٹر کبیر اطہر امکان ہو سکتا ہے !! قاتل بھی معصوم ہو اُتنا جتنے ہیں مقتول ہمارے ہوسکتا ہے !! قاتل کو بھی جان سے جانے کا خطرہ ہو ہو سکتا ہے!! قاتل کی آنکھوں پر کس کر بندھی ہوئی کالی پٹی ہو ہو سکتا ہے!! قاتل پر بھی نادیدہ بندوق تنی ہو کبیر اطہر

    Read More »
  • ففتھ جنریشن وار!نظم

    ففتھ جنریشن وار ! *نظم | ثمینہ تبسم اب وہ نقارے گئے جب آمنے سامنے کھڑی فوجیں کشتوں کے پشتے لگایا کرتی تھیں وہ زمانہ بھی گیا جب عالمی بساطوں پہ لڑنے والے لڑاکے بظاہر ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھا کر اپنا الو سیدھا کرتے تھے وہ وقت بھی گزر گئے جب قدرتی ذرائع پہ قبضہ کرنے کی…

    Read More »
  • اے سرو بے ثمر

    نظم| شہزاد نیّر اے سروِ بے ثمر میں نے کیسی زمینوں کو پانی دیا میں نے کیسی محبت پہ آنکھیں نچوڑیں کسی اجنبی دیس میں گیت گایا سنایا اسے حالِ دل جو سمجھتا نہیں میں نے بے فیض شب کی ہتھیلی پہ جگنو دھرے میں نے پتھر کے پیروں میں آنسو جڑے برف میں بیج بوئے کوئی گُل نہیں، کوئی…

    Read More »