ورلڈ کپ کا سب سے بڑا اپ سیٹ ہوتے ہوتے رہ گیا

بھارت نے سنسنی خیر مقابلے کے بعد افغانستان کو ہرا دیا

ویب ڈیسک | ہفتہ 22جون 2019
ساؤتھ ہمپٹن:ورلڈکپ 2019 کے 28 ویں میچ میں بھارت نے محمد شامی کی ہیٹ ٹرک کے باعث افغانستان کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد 11 رنز سے شکست دے دی۔
ساؤتھ ہمپٹن میں کھیلے گئے میچ میں بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو اوپنر ان کے فیصلے کی لاج رکھنے میں ناکام ہوئے۔
روہت شرما صرف ایک رن بنا سکے تاہم راہول نے 30 رنز بناکر کپتان کوہلی کے ہمرا دوسری وکٹ میں بھارت کو 64 رنز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، انہیں محمد نبی نے آوٹ کیا جس کے بعد وجے شنکر نے کوہلی کا ساتھ 122 تک نبھایا۔
بھارت کے کپتان ویرات کوہلی نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلی لیکن محمد نبی نے انہیں 135 کے اسکور پر پویلین بھیج دیا، اس وقت انہوں نے 67 رنز بنائے تھے۔سابق کپتان اور تجربہ بلے باز ایم ایس دھونی آؤٹ ہونے والے پانچویں بلے باز تھے جو 192 کے مجموعی اسکور پر 28 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ دوسرے اینڈ سے جادیو نے قدرے اچھی اننگز کھیلی اور اپنی نصف سنچری کی بدولت ٹیم کو 224 رنز بنانے تک سہارا دیا۔جادیو 52 رنز بنا کر آؤٹ ہونے والے آخری بلے باز تھے، اس سے قبل ہرڈک پانڈیا7 اور محمد شامی ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے تھے۔بھارت کی ٹیم نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 224 رنز بنائے۔
افغانستان کی جانب سے گلبدین نائب اور محمد نبی نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔ہدف کے تعاقب میں افغانستان کی پہلی وکٹ 20 رنز پر گری جب حضرت اللہ زازئی 10 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، دوسری وکٹ کی شراکت میں گلبدین نائب اور رحمت شاہ نے 44 رنز کی شراکت کی جبکہ تیسری وکٹ پر رحمت شاہ نے حشمت اللہ شاہدی کے ساتھ 42 رنز کی شراکت کی اور اسکور کو 106 رنز تک پہنچایا۔
رحمت شاہ 36، گلبدین نائب 27 اور حشمت اللہ شاہدی 21 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جس کے بعد اصغر افغان 8 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تاہم نجیب اللہ زادران نے 21 رنز کی اننگز کھیل کر محمد نبی کا بھر پور ساتھ دیا جبکہ راشد خان 14 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے افغانستان کا اسکور 190 رنز تھا۔
محمد نبی نے مرد بحران کا کردار ادا کرتے ہوئے افغان ٹیم کو ہدف کے قریب پہنچایا لیکن فتح دلوانے میں ناکام ہوئے۔۔افغانستان کی پوری ٹیم آخری اوور میں213 رنز بنا کر آوٹ ہوگئی۔
بھارت کی جانب سے محمد شامی بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور آخری اوور میں محمد نبی، آفتاب عالم اور مجیب الرحمٰن کو مسلسل تین گیندوں میں آوٹ کرکے اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی اور بھارت کو فتح بھی دلائی.
میچ کے قبل ٹاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہترین بیٹنگ وکٹ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وجے شنکر کی وجہ سے ٹیم متوازن ہے کیونکہ وہ ایک اچھے فیلڈر بھی ہیں اور اسی وجہ سے وہ ٹیم کا حصہ ہیں۔
ویرات کوہلی نے افغان ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیم جب اپنی بہترین پرفارمنس پر آئے تو ایک خطرناک ٹیم ثابت ہوسکتی ہے، لہٰذا بھارت کی اس کے خلاف بھی ایسی ہی حکمت عملی ہے جیسی دیگر ٹیموں کے خلاف ہے۔
افغان کرکٹ ٹیم کے کپتان گلبدین نائب کا کہنا تھا کہ اگر ہم ٹاس جیت جاتے تو پہلے بیٹنگ ہی کرتے۔

بھارت کے فاسٹ باؤلر محمد شامی نے ورلڈ کپ 2019 کے گروپ مرحلے میں افغانستان کے خلاف مشکلات میں گھری ہوئی ٹیم کو آخری اوورز میں بہترین باؤلنگ کے ذریعے فتح دلائی اور ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے دسویں باؤلر بن گئے۔محمد شامی نے افغانستان کے خلاف میچ کے آخری اوور میں 12 رنز کا دفاع کرتے ہوئے وکٹ پر موجود تجربہ کار بلے باز محمد نبی کو تیسری گیند پر آؤٹ کیا حالانکہ وہ 52 رنز بنا کر وکٹ پر موجود تھے۔شامی نے چوتھی گیند پر آفتاب عالم کی وکٹیں اڑائیں اور پانچویں گیند پر نئے آنے والے آخری بلے باز مجیب الرحمٰن کی بھی وکٹیں اڑا کر نہ صرف بھارت کو 11 رنز سے فتح دلائی بلکہ اپنے کیریئر کی پہلی اور ورلڈ کپ کی تاریخ کی دسویں ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کرلیا۔
خیال رہے کہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی ہیٹ ٹرک بھی بھارت کے باؤلر نے کی تھی، چیتن شرما نے 31 اکتوبر 1987 کو ناگپور میں نیوزی لینڈ کے خلاف مسلسل تین بلے بازوں کو آؤٹ کرکے یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔پاکستان کے ثقلین مشتاق ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے دوسرے باؤلر ہیں۔ثقلین مشتاق نے ورلڈ کپ 1999 میں 11 جون کو لندن میں زمبابوے کے ہنری اولنگا، ایڈم ہیکل اور پومی ایم بانگوا کو آؤٹ کرکے ہیٹ ٹرک کی تھی۔
ورلڈ کپ 2003 میں دو کھلاڑیوں نے ہیٹ ٹرک کا کارنامہ انجام دیا تھا۔
سری لنکا کے چمندا واس نے 14 فروری 2003 کو بنگلہ دیش کے خلاف ہیٹ ٹرک کی تھی، انہوں نے حنان سرکار، محمد اشرفل ور احسان الحق کو آؤٹ کیا تھا۔ورلڈ کپ 2003 کی دوسری ہیٹ ٹرک آسٹریلیا کے فاسٹ باؤلر بریٹ لی نے کینیا کے خلاف ڈربن میں 15 مارچ 2003 کو کی تھی۔سری لنکا کے لاستھ ملینگا نے 28 مارچ 2007 کو ویسٹ انڈیز کے جارج ٹاؤن اسٹیڈیم میں جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں مسلسل چار گیندوں میں چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے ورلڈ کپ اور کرکٹ کی تاریخ میں مسلسل چار وکٹیں لینے کا ریکارڈ بنایا تھا۔ملینگا نے ایک ہی اوور میں شان پولا، اینڈریو ہال، جیکس کیلس اور مکھایا انتینی کو آوٹ کیا تھا۔
ویسٹ انڈیز کے کیماروچ اور ملینگا نے 2007 کے ورلڈ کپ میں ہیٹ ٹرک کی تھی۔
بھارت میں کھیلے گئے ورلڈ کپ کے میچ میں کیماروچ نے 28 فروری 2011 کو فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں نیدرلینڈز کے خلاف مسلسل تین گیندوں پر تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔ملینگا نے یکم مارچ 2011 کو کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں کینیا کے خلاف ہیٹ ٹرک کرکے دوسری مرتبہ ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کیا۔
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں 2015 کا ورلڈ کپ کھیلا گیا جہاں ایک مرتبہ پھر دو ہیٹ ٹرک ہوئیں۔میلبورن کرکٹ اسٹیڈیم میں 14 فروری 2015 کو انگلینڈ کے اسٹیون فن نے آسٹریلیا کے بریڈ ہیڈن، گلین میکسویل اور مچل جانسن کو آؤٹ کرکے اس ٹورنامنٹ کی پہلی ہیٹ ٹرک کی۔دوسری ہیٹ ٹرک جنوبی افریقہ کے پارٹ ٹائم باؤلر جے پی ڈومینی نے سری لنکا کے خلاف 18 مارچ 2015 کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کی۔
محمد شامی ورلڈ کپ 2019 میں ہیٹ ٹرک کرنے والے پہلے باؤلر ہیں جبکہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے مجموعی طور پر دسویں اور بھارت کے دوسرے باؤلر ہیں۔یاد رہے کہ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان کے جلال الدین کو اولین ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل ہے۔
ایک روزہ کرکٹ میں باؤلرز اب تک مجموعی طور پر 47 مرتبہ ہیٹ ٹرک کا کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے