اتھوپیا میں بغاوت،آرمی چیف کو گولی ماردی گئی

ویب ڈیسک : 23جون 2019
ادیس بابا: افریقہ کے ملک اتھوپیا میں مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی اور چیف آف آرمی اسٹاف کو ان کے محافظ نے گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔
حکومت کی طرف جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کو حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش روکنے کے دروان گولی ماری گئی۔بیان کے مطابق فوجی سربراہ پر ان کے آفس میں حملہ کیا گیا اور اس دوران آرمی چیف کے مشیر بھی ہلاک ہوگئے۔حکومت کا کہنا ہے کہ ایتھوپیا کی نو ریاستوں میں بغاوت کی ناکام کوشش کی گئی ہے اور اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔وزیراعظم ابی احمد نے سرکاری ٹی وی سے خطاب میں ہے کہ امہارا نامی شہر میں بد امنی اور مارشل لا نافذ کرنے کوشش ناکام بنانے میں کچھ سرکاری اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امہارا کے مرکزی شکر باہیردر میں انٹرنیٹ منقطع ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اتھوپیا کے دارالحکومت ادیس بابا میں گولیوں کی آواز سنی گئی ہے۔
Travel – State Dept

@TravelGov
#Ethiopia: The U.S Embassy is aware of reports of gunfire in Addis Ababa. Chief of Mission personnel are advised to shelter in place. http://ow.ly/kcLf50uKB0w
90
03:04 – 23 Jun 2019
128 people are talking about this
Twitter Ads information and privacy
ابی احمد کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل سیارمیکونین کو ساتھیوں نے گولی ماری۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ حکام کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ امہارا میں ایک ملاقات کیلیے جمع ہوئے تھے۔اتھوپین صدر کے ترجمان نے بتایا کہ اس سے قبل امہارا کی مقامی حکومت کو معزول کرنے کی کوشش کی گئی اور اس جرم میں شریک ملزمان کی تلاش کی جارہی تھی۔اس شہر کی حکمران سیاسی جماعت نے الزام لگایا تھا کہ جیل سے رہا ہونے والے سیکیورٹی کے سابق چیف پر تشدد کارروائیوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

آرمی چیف جنرل سیرے مکنون کی زندگی کے مطابق متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں، برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق وہ زخمی ہیں جبکہ الجزیرہ کا کہنا ہے وہ اس حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب اس بغاوت میں اب تک کئی اعلیٰ حکام مارے جاچکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ امہارا کے پایہ تخت باہر دار میں باغیوں نے ایتھوپین آرمی چیف کےدفترمیں گھس کرفائرنگ کی گئی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ایتھوپین حکومت نے اعلان کیا تھا کہ امہارا میں بغاوت ہوئی ہے جس سے نبٹا جارہا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ امہارا میں بڑے پیمانے پر گولیوں کا تبادلہ جاری ہے اور شہر میں خوف و ہراس کی فضا ہے ، شہری اپنے گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔غیر ملکی خبررساں ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے جبکہ علاقے میں نظام زندگی معطل ہو کر رہ گیا ہے۔
یا در ہے کہ ایتھوپین وزیر اعظم احمد گزشہ سال منتخب ہوئے تھے اور ملک میں جاری سیاسی انتشار کے خاتمے کے لیے انہوں نے سیاسی قیدیوں کو آزادی دی، سیاسی جماعتوں پر سے پابندی اٹھائی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز بھی کیا تھا۔ان تما م اقدامات کے باوجود ایتھوپیا میں نسلی تصادم ایک بار پھر اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 24 لاکھ افراد اس صورتحال میں در بدر ہوچکے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے