مولانا فضل الرحمن اے پی سی کو کامیاب بنانے کے لیے متحرک

جماعت اسلامی نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرلی

ویب ڈیسک : پیر24جون 2019
اسلام آباد : جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی)کامیاب بنانے کیلئے متحرک ہیں، اے پی سی کے لیے جگہ کا حتمی فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔
جے یو آئی ف کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایاہے کہ آل پارٹیز کانفرنس 26 جون کو اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں ہوگی۔
مولانا فضل الرحمان نے آج اپوزیشن جماعتوں کےمختلف رہنماؤں کو ٹیلی فون کرکے انہیں اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی ہے۔مولانا فضل الرحمان نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے بھی رابطہ کیاہے ۔
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان اور محمود خان اچکزئی سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں اے پی سی میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔مولانا فضل الرحمان نے نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر میر حاصل خان بزنجوسے ملاقات کرکے انہیں اے پی سی میں شمولیت کی دعوت دے دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اتحادی سردار اختر جان مینگل سے بھی رابطے کی کوشش کررہے ہیں۔ اختر مینگل کے ملک سے باہر ہونے کے باعث رابطہ نہیں ہوسکا۔ تاہم مولانا نے کہا ہے کہ سردار اختر مینگل نے اے پی سی میں شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اے پی سی میں حکومت مخالف تحریک چلانے سے متعلق فیصلہ اور حالیہ بجٹ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پرغورکیا جائے گا جبکہ اے پی سی میں چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی پر بھی مشاورت کی جائے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے دوران حکومت مخالف تحریک اور اے پی سی پر مشاورت کی گئی تھی۔
ادھر معلوم ہوا ہے کہ جماعت اسلامی نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرلی، رہنما لیاقت بلوچ نے کہا موجودہ حالات میں اے پی سی میں شرکت کو کارکن ناپسند کرتے ہیں۔ پارٹی میں مشاورت کےبعدمولانا فضل الرحمان کو آگاہ کردیاگیا ہے۔جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا موجودہ حالات میں اے پی سی میں شرکت کو کارکن ناپسند کرتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے سراج الحق سے ملاقات میں آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔
اس سے قبل رہنما جےآئی قیصر شریف نے کہا تھا جماعت اسلامی26جون کواےپی سی میں شریک نہیں ہوگی، ماضی کی حکومتیں غلطیوں پرقوم سے معافی مانگیں، ماضی کی حکمران جماعتیں موجودہ بحرانواں کی ذمہ دار ہیں۔
قیصرشریف کا کہنا تھا سابق حکمران بیرون ملک پڑی دولت پاکستان واپس لائیں، جب تک ماضی پرمعافی نہیں مانگتےان کیساتھ نہیں بیٹھ سکتے، عمران خان لوٹی ہوئی دولت واپس لانےکا وعدہ پوراکریں، پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ کی احتجاج تحریک کاحصہ نہیں۔
یاد رہے جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو ٹیلی فون کر کے انہیں کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی، سربراہ جے یو آئی (ف) نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو سے بھی رابطہ کیا۔مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اتحادی جماعت بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل سے بھی رابطے کی کوشش کی تاہم ان کے بیرون ملک ہونے کے باعث رابطہ نہ ہوسکا۔مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ اختر مینگل نے انہیں اے پی سی میں شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الحمان نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے حزب اختلاف کو مشترکہ طور پر مستعٰفی ہونے کی تجویز پیش کی ہے۔ذرائع کے مطابق انہوں نے یہ تجویز حزب اختلاف کی قیادت سے حالیہ ملاقاتوں کے دوران پیش کی۔جے یو آئی (ف) کے امیر اس اقدام کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں تاہم انہوں نے اس آپشن کو آخری ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا کہا ہے۔دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس حوالے سے انہیں مشاورت کی یقین دہانی کرا دی ہے۔پارلیمانی رہنما ایم ایم اے اسعد محمود نے بتایا کہ کل جماعتی کانفرنس کے دوران مولانا کی اس تجویز پر غور کیا جائے گا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے