بھارت میں لوگوں کوزبردستی ہندومذہب اختیارکرنےپرمجبورکیا جارہاہے،امریکی رپورٹ

بھارت میں انتہاپسندوں نے ایک اور مسلمان نوجوان کو قتل کردیا

ویب ڈیسک : پیر 24جون 2019
نیویارک : امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ نے بھارت کی نام نہادجمہوریت کا مکروہ چہرہ دکھا دیا، رپورٹ میں کہا گیا بھارت میں مذہبی بنیادوں پر حملے ہوتے ہیں ، لوگوں کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، بی جے پی بھارت کو ہندو اسٹیٹ بنانا چاہتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی انتظامیہ نے مذہبی آزادی سے متعلق 2019ء کی رپورٹ جاری کردی ، جس میں ریاستی سرپرستی میں بھارت میں ہندو شدت پسندی “سیفرون ٹیررازم”بے نقاب کی گئی ہے۔یہ رپورٹ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی بھارت آمد سے صرف ایک روز پہلے جاری کی گئی ہے۔رپورٹ کے چیدہ نکات کے مطابق انتہا پسند ہندو گروہ تشدد ، جبر اور زبردستی سے “گیروی انڈیا”بنا رہے ہیں ، گیروی ذہنیت کے حامل گروہ دلت ہندؤ اور اقلیتوں کو ہراساں کررہے ہیں ، بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات میں نوگنا اضافہ ہوا، حکومت ہر سطح پر ایسے اقدامات کررہی ہے ، جس سے مسلمانوں کے ادارے، مذہبی رسوم ورواج متاثرہوں۔
امریکی انتظامیہ میں کہا گیا بھارت میں مذہبی بنیادوں پرحملے کیے جاتے ہیں۔گئورکھشا کے نام پرہجوم کھلےعام مسلمانوں پرتشدد کرتا ہے، مسلمانوں کیخلاف اشتعال انگیزتقاریرکی جاتی ہیں ، حکام ان واقعات کوروکنےمیں مکمل طورپر ناکام ہیں-رپورٹ کے مطابق بھارت کی ایک تہائی ریاستی حکومتوں نے گائے کی ذبح پر پابندی عائد کررکھی ہے ، جس کی بنیاد پر گائے ذبحہ کرنے کی جھوٹی اطلاع پر بھی مسلمانوں کو سرعام تشدد کرکے قتل کرنے کے واقعات بڑھے ہیں۔ دودھ ، دہی ، چمڑے اور گوشت کے کاروبار کے وابستہ افراد پر تشدد کیا گیا، گذشتہ سال 10افراد ان وجوہات پر جان سے مار دیئے گئے۔امریکی رپورٹ میں کہا گیا مسلمانوں سمیت اقلیتوں کی زبردستی مذہب کی تبدیلی کی تقاریب ہورہی ہیں ، غیر ہندوؤں کو “گھر واپسی “نامی تقاریب منعقد کرکے زبردستی ہندو بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا مسلمانوں کےناموں والےشہروں اورجگہوں کے نام تبدیل کیےجا رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کےتاریخی سماجی کردار کومٹایا جاسکے، بی جےپی بھارت کوہندواسٹیٹ بنانا چاہتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کی دس ریاستوں میں اقلیتوں کیلئے حالات بد تر ہوچکے ہیں ، جن میں بدترین ریاستوں میں اتر پردیش ، آندھرا پردیش ، بہار ، چھتیش گڑھ ، گجرات ، اڑیسہ ، کرناٹک ، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹر اور راجھستان شامل ہیں ، حکمران بی جے پی سے وابستہ سیاسی لیڈر پورے بھارت میں کھلے عام “ہندؤ”تا کا پرچار کرتے پھر رہے ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق مودی حکومت کی سرپرستی میں گذشتہ 2سال سے مذہبی دہشت گردی عروج پر پہنچ چکی ہے ، مودی حکومت نے گذشتہ دور میں اس پر کوئی توجہ نہیں دی ، مودی حکومت کا مستقبل میں بھی توجہ نہ دینے کا عندیہ نظر آرہا ہے۔واضح رہے کہ امریکہ نے بھارت کو مذہبی دہشت گردی کی فہرست میں بدترین ممالک میں شامل کررکھا ہے۔

بھارت میں انتہاپسندوں نے ایک اور مسلمان نوجوان کو قتل کردیا

ادھر تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی مسلمان دشمنی عروج پرپہنچ گئی ہے، ریاست جھاڑکھنڈ میں انتہاپسندوں نے ایک اور مسلمان نوجوان کو بدترین تشدد کر کے قتل کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست جھاڑکھنڈ ضلع کھرسانواں میں ہندوانتہاپسندوں کے ہجوم نے مسلمان نوجوان شمس تبریز انصاری کو موٹر سائیکل چوری کا بہانہ بنا کربہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔وہ مظلوم چیختا رہا کہ اس نے چوری نہیں کی، ظالموں نے تبریز انصاری کو ستون سے باندھ کر ڈنڈوں اور لاٹھیوں کی بارش کردی اور ہاتھ پاؤں باندھ کرسات گھنٹے تک تشدد کیا گیا جبکہ جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگوائے گئے۔نوجوان ہجوم سے جان بخشنے کی درخواست کرتا رہا لیکن شدید زخمی تبریز انصاری کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کرکے اسے جیل بھیج دیا گیا، طبیعت بگڑنے پر اسے اسپتال لے جایا گیا۔ جب اہل خانہ اس سے ملاقات کے لیے پہنچے تو پولیس نے انہیں تبریز سے یہ کہہ کر ملنے سے روک دیا کہ تم چور سے ملنے آئے ہو۔تبریز کئی گھنٹے تک موت و زندگی کی کشمکش میں رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔تبریز کے لواحقین نے اس پر عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا پہلے سے کوئی مجرمانہ رکارڈ نہیں تھا، اس کا جرم مسلمان ہونا ہے، اگر وہ مسلمان نہ ہوتا تو زندہ ہوتا اور خاندان نے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے