خان پور:حمزہ شوگرملزجیٹھہ بھٹہ میں بوائلر لیک ہونے سے7مزدور جھلس گئے

ویب ڈیسک : 19ستمبر 2019
خان پور: جیٹھہ بھٹہ میں واقع حمزہ شوگر ملز کا بوائلر لیک ہونے سے 7مزدور جھلس گئےجن میں سے 2کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔بتایا جاتا ہے حمزہ شوگر ملز جیٹھ بھٹہ میں مزدور کام میں مصروف تھے کہ ملز کا بوائلر لیک ہوگیا جس کی زد میں آکر 7 مزدور بری طرح جھلس گئے۔ریسکیو 1122 کے مطابق پہلے شوگر ملز انتظامیہ نے حادثہ کی اطلاع دی تاہم بعد میں ریسکیو ایمبولینس کے بجاۓ مزدوروں کو نجی گاڑیوں کے ذریعے ٹی ایچ کیو ہسپتال خان پور منتقل کردیا جہاں سے 2 مزدوروں کو تشویش ناک حالت کے پیش نظر نشتر ہسپتال ملتان برن یونٹ منتقل کردیا گیاہے۔ہسپتال ذرائع کے مطابق جھلسنے والے مزدوروں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔حالت نازک ہونے پر 2 مزدوروں سہیل اور طارق کو ملتان برن سینٹر ریفر کر دیا گیا۔
رحیم یارخان کے سینئر صحافی فاروق احمد سندھو کے مطابق حمزہ شوگر مل میں بجلی بنانے والے پاور ہاؤس کے بوائلر سے گیس کے اخراج کے باعث 7صنعتی مزدور بری طرح جھلس گئے ہیں ۔شوگر میں ناقص حفاظتی اقدامات کے باعث اب تک درجنوں مزدور،شہری حتکہ کیمیکل اخراج کے لیے بنائے گئے ڈرینج سے سینکڑوں مویشی بھی جھلس چکے ہیں۔صنعتی حوالے سے شہرت کے حامل ضلع رحیم یار خان کے ہسپتالوں میں تمام ضروری سہولیات سے آراستہ برن یونٹ نہ ہونے کی وجہ سے جھلسنے والے دو صنعتی مزدوروں کو ملتان نشتر ہسپتال کے برن یونٹ میں منتقل کردیا گیا ہے۔افسوناک بات یہ ہے دو سے تین ہزار مزدوروں سے چلنے والی حمزہ شوگر مل کے اندر ابتدائی طبی امداد کے لیے بنایا گیا منی ہسپتال پچھلے دس بارہ سال سے ختم کر دیا گیا ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے عین جیٹھہ بھٹہ شہر میں واقع اس مل کے پاس ایمبولینس اور فائر بریگیڈ جیسی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔شوگر مل میں کام کرنے والے ہزاروں مزدورمحکمہ لیبر اور سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ ہی نہیں کراۓ گئے ہیں۔ایسے درجنوں حادثات میں زخمی،معذور اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے مزدوروں جنہیں دیہاڑی یا کنٹریکٹ پر ٹھیکیداروں کے ذریعے رکھا جاتا ہے لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔بوائلر کی بھاپ سے جھلسے مریضوں کا علاج انتہائی حساس اور مہنگا ہے۔مزدور تنظموں کے راہنما حیدر چغتائی، بابر الزمان نے کہا ہے کہ صنعتی مزدوروں کے تحفظ کے لیے وزیر اعلی پنجاب،وفاقی اور صوبائی وزیر صنعت،کمشنر بہاولپور، ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان فوری نوٹس لیں اور جھلسنے والے مزدوروں کو علاج کی ہر ممکنہ سہولت فراہم کریں۔
ادھر اس افسوسناک حادثے کے بعد نہ تو ابھی تک محکمہ لیبر کے کسی اعلی افسر نے ہسپتال میں مریضوں کی عیادت کی ہے اور نہ ہی ڈپٹی کمشنر رحیم یارخان جمیل احمد جمیل نے کوئی نوٹس لیا ہے۔جبکہ فیکٹری انتظامیہ نے بھی خاموشی اختیار کررکھی ہے۔

Show More

One Comment

  1. لالچی سرمایہ دار ان ملازموں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔ کوئی بھی جسمانی چوٹ تکلیف دہ ہے لیکن آگ، تیزاب یا ابلتے پانی سے جھلس جانا سب سے زیادہ دردناک ہوتا ہے۔ تھوڑی سی جلد جلنے سے انسان تڑپ اٹھتا ہے، یہاں تو زندہ انسان کی ساری جلد جل کر ضائع ہوگئی ہے۔ جھلسی جلد کو کھینچ کر اتارنا، زخم کی صفائی کیلئے سلوشن چھڑکنا اور کئی ماہ تک مسلسل ہر روز پورے جسم کی پٹیاں بدلنے سے جو درد ہوتا ہے مریض زندگی سے ہی مایوس ہوجاتا ہے۔ کام کے دوران سر سے پاؤں تک جھلس جانے والے مظلوم کو 50 ہزار سے 2 لاکھ روپے تک امداد دے کر فارغ کردیا جاتا ہے حالانکہ اتنی اذیت کیلئے 50 لاکھ بھی کم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے