بارش:سردی شروع،راجن پور میں سیلابی کیفیت،لوگوں کی نقل مکانی

ویب ڈیسک :اپ ڈیٹ اتوار 06اکتوبر2019
کراچی/ گھوٹکی/ راجن پور/ صادق آباد: ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والی ہلکی و تیز بارش سے گرمی کا طویل سیزن رخصت ہوگیا اور ہلکی سردی کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا ہے۔ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات جنوبی پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں تیز آندھی اور بارش سے نظام زندگی درہم برہم ہوگیا- راجن پور میں بارشوں سے پیدا ہونے والی سیلابی کیفیت کے پیش نظر لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے اعلانات کردیے گئے ہیں۔
بارش کے سبب گزشتہ شب سے ملک کے مختلف علاقے تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں جب کہ سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے سے شہریوں کو انتہائی تکلیف کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہر قائد سے موصولہ اطلاع کے مطابق مختلف علاقوں میں رات گئے تیزو ہلکی بارش ہوئی ہے جس کی وجہ سے کچھ مقامات پر پانی جمع ہو گیا ہے۔ بارش کے نتیجے میں بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ گلستان جوہر اور اس کے اطراف کے علاقوں میں تیز بارش ہوئی ہے جب کہ ملیر کینٹ اور اطراف میں ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق بارش کے دوران احتیاط ضروری ہے۔ انہوں نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ بجلی کے تاروں، کھمبوں اور پی ایم ٹیز سے خود کو دور رکھیں۔
سکھر سے موصولہ اطلاع کے مطابق بارش کے سبب کئی علاقے مکمل طور پرزیر آب آگئے ہیں اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں جب کہ بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے۔بالائی سندھ میں ہونے والی بارش کے سبب سیپکو کے 365 فیڈرز ٹرپ کرگئے ہیں جن کی بحالی کا کام تیز بارش کے سبب رات گئے تک شروع نہیں ہو سکا تھا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بہاولپور،رحیم یارخان ،سکھر اور لاڑکانہ ڈویژنوں میں آ ج بھی بارش کا امکان ہے۔
ڈہرکی میں بارش کے بعد پانی جمع ہوگیا ہے جب کہ تیز بارش اور طوفانی ہواؤں سے گھروں اور دکانوں کی چھتیں بھی اڑ گئی ہیں۔بسم اللہ ہوٹل گھوٹکی کی چھت گرنے سے پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔گھوٹکی میں واقع شاہی بازار ڈھرکی کی جامع مسجد چوک سمیت مختلف سڑکیں زیر آب ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو سخت مشکلات پیش آرہی ہیں۔ شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے جس کی وجہ سے اپنی مدد آپ کے تحت شہری ازخود نکاسی آب کا بندوبست کررہے ہیں کیونکہ شہری انتظامیہ تاحال غائب ہے۔صادق آباد میں ہفتے کی شام تیز آندھی کے بعد بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا جو وقفے وقفے سے رات بھر جاری رہا جس کی وجہ سے گلیوں میں کیچڑ اور پانی جمع ہوگیا ہے جبکہ تیز آندھی کے باعث عابدکالونی میں گلی میں لگے بجلی کے دو ٹرانسفارمر گھروں کے اوپر گر گئے،محلہ اسلام پورہ میں بجلی کے تار ٹوٹ کر گلیوں میں گرگئے ہیں-لکڑی منڈی میں آتشزدگی سے لاکھوں کی لکڑی جل گئی تاہم بارش کی وجہ سے آگ مزید پھیلنے سے رک گئی جس سے قریبی دکانیں جلنے سے محفوظ رہیں-مشہورریسٹونٹ کی بالائی منزل پر بھی آگ لگ گئی-شہر میں کئی گھنٹوں سے بجلی غائب ہے-کشمیور میں بھی بارش سے جل تھل ایک ہوگیا-
ادھرراجن پور میں واقع کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں ہونے والی بارش کے نتیجے میں ندی بالوں میں شدید طغیانی کی کیفیت ہے۔فلڈ کنٹرول روم کے مطابق برساتی نالہ کاہا سلطان سے 50 ہزار کیوسک سیلابی پانی گزرہاہے جب کہ نالہ چھاچھر سے 15 ہزار کیوسک سیلابی پانی گزرتے ریکارڈ کیا گیا ہے۔برساتی نالوں کے راستوں میں آباد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے اعلانات کرکے بتادیا گیا ہے۔فلڈ کنٹرول روم نے خبردار کیا ہے کہ سیلابی پانی سے لنڈی سیدان، میراں پوراور حاجی پور کے کچھ علاقوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ فلڈ کنٹرول روم کے حوالے سے بتایا ہے کہ ندی بالوں کے حفاظتی بندوں کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے اور تمام ممکنہ حفاظتی تدابیر بھی اختیار کی گئی ہیں۔لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کے ساتھ ساتھ اپنا ضروری سامان سمیٹ رہے ہیں جبکہ اس وقت کپاس کی چنائی بھی جاری ہے۔
فلڈ کنٹرول روم کے مطابق ریلے سے نشیبی علاقے زیر آب آسکتے ہیں،علاقوں میں پانی داخل ہونے اور کسی بھی بڑے نقصان کے پیش نظر انتظامیہ، پولیس، سول ڈیفنس اور ریسکیو ٹیموں کو علاقوں میں روانہ کر دیا گیا ہے جو کچے پشتوں کو فوری پر کروائیں گے۔بارش کا سلسلہ جاری رہا تو درجنوں بستیاں جن میں حاجی پور، لنڈی سیدان سمیت دیگر شامل ہیں، زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کے روز بلوچستان، سندھ ، جنوبی پنجاب،اورخیبر پختونخوا کے اضلاع میں کہیں کہیں جبکہ شمالی پنجاب، اسلام آباد، گلگت بلتستان اورکشمیر میں چند مقامات پر گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان ہے۔اس دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔
پیر کے روز ملک کے اکثر علاقوں میں موسم خشک رہے گا۔ تاہم گلگت بلتستان اور کشمیر میں چند مقامات پر گرج چمک کیساتھ بارش اور پہاڑوں پر ہلکی برفباری کا امکان ہے۔گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران سندھ ( ضلع روہڑی ، سکھر، لاڑکانہ ، پدیڈن ،موہنجوداڑو، سکرنڈ، دادو، کراچی، شہید بےنظیر آباد، جیکب آباد، مٹھی )، جنوبی پنجاب ( ضلع راجن پور، ملتان، خانیوال، رحیم یارخان، خانپور، ڈی۔ جی ۔خان ، کوٹ ادو، لیہ) ،بلوچستان (ضلع خضدار، بارکھان، تربت،قلات، کوئٹہ، دالبندین ، پنجگور، مستونگ، زیارت) اور بالائی خیبرپختونخوا (ضلع دیر ،چترال، بونیر) اور کشمیرمیں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش ہوئی۔ سب سے زیادہ بارش: سندھ : روہڑی 52 ، سکھر 44، لاڑکانہ 28 ، پدیڈن 24،موہنجوداڑو 21، سکرنڈ، دادو 13، کراچی (لانڈھی 10، سرجانی ٹاؤ ن 08،فیصل بیس 04، مسرور بیس ، جناح ٹرمینل 02، صدر، اولڈ ایریا، یونیورسٹی روڈ 01، کیماڑی ناظم آباد، گلشن حدید ٹریس)، شہید بےنظیر آباد08، جیکب آباد02، مٹھی01 ، پنجاب: راجن پور ( ماڑی 35، بھاندو والہ 18)، ملتان 21 ، خانیوال17، رحیم یارخان 14، خانپور 09، ڈی۔ جی ۔خان (فورٹ منرو 12 ، سٹی 06، بیلا ویڈور 02) کوٹ ادو 01، لیہ ٹریس ، بلوچستان (خضدار15، بارکھان، تربت 10،قلات 09، کوئٹہ(ایس۔ ایم 08، پی۔ بی ۔او 05) ، دالبندین ، پنجگور07، مستونگ04، زیارت02 ، خیبرپختونخوا: میرکھانی 05 ، بونیر 03، دیر، دروش ، 02 اورچترال میں 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے