کپاس اور گنے کے کاشتکاروں نے اسلام آباد کی طرف مارچ کا عندیہ دیدیا

ویب ڈیسک |بدھ09اکتوبر2019
رحیم یارخان:کسان بچاؤ تحریک پاکستان کے مرکزی چیف آرگنائزر و سرپرست سید محمود الحق بخاری، آل پاکستان کسان فاؤنڈیشن کے صدر سید مظہر الحق بخاری، پاکستان کسان اتحاد کے ڈسٹرکٹ آرگنائزر و کسان بچاؤ تحریک پاکستان کے انفارمیشن سیکرٹری جام ایم ڈی گانگا نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کسان اور زراعت دشمن مشیروں سے بچیں،زراعت اور کسانوں کو خوشحال کیے بغیر قومی معیشت اور ملک کو خوشحال نہیں کیا جا سکتا،ملک کے دو بڑے مافیاز شوگر مافیا اور ٹیکسٹائل مافیا نے حکومتی اداروں اور حکمرانوں کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر یرغمال بنایا ہوا ہے،اگر حکومت نے اس سال گنے کا ریٹ نہ بڑھایا تو کسان سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے،وزیر اعظم کو حکومت میں اس میر جعفر کو بھی تلاش کرنا ہوگا جس نے کپاس کی سپورٹ پرائس کا تعین نہیں ہونے دیا،حکمران کسانوں کے اسلام آباد آنے سے پہلے ہی بروقت مناسب فیصلے کرکے ان کا اعلان کریں،کسانوں کو گنے کا کم ازکم ریٹ 300روپے من اور کپاس کا 5000روپے من دیا جائے،انہوں نے کہا حکمران مظلوم اور پرامن کسانوں کی بات سنیں سمجھیں اور عمل کریں،اسی میں حکمرانوں، کسانوں اور ملک و قوم کی بہتری ہے،کسانوں کی جانب سے کپاس کی فصل کا بائیکاٹ ملکی معیشت کو ہلا کے رکھ دے گا،حکومت اپنی زرعی درآمدی و برآمدی پالیسیاں بھی درست کرے۔کسان بچاؤ تحریک احتجاج کے حوالے سے اپنا ہوم ورک مکمل کر چکی ہے۔ہم کسی وقت بھی ہنگامی طور پر اسلام آباد کی طرف مارچ کر سکتے ہیں۔محب وطن اور محنت کش کسانوں کے صبر کا اب زیادہ امتحان نہ لیا جائے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے