ضلع وہاڑی میں تحریک انصاف کا امتحان؟

تحریر:افضل ہاشمی

ضلع وہاڑی میں بلدیہ کرایہ داران کے خلاف اوپن نیلامی کے نام ایک مخصوص سرمایہ دار طبقے کو نوازنے کیلئے قانونی کرپشن کی جا رہی ہے۔
3500خاندانوں کو خود کشتیوں پر مجبور کیا جا رہا ہے۔سچائی کا پیمانہ تو یہ کہ ن لیگ ، تحریک انصاف ، ق لیگ ، مذہبی اور سیاسی جماعتیں کرایہ داران کے ساتھ کھڑے ہیں۔علماءکرام ، پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن ، ٹمبر مارکیٹ یونین ، جماعت اسلامی ، تحریک منہاج القرآن ، پاکستان عوامی تحریک اور وکلاءتنظیمیں بھی تاجروں کے ساتھ ہیں۔40/50سال سے خود تعمیر کردہ دکانوں سے کرایہ داران کو بے دخل کرنے کی کوشش ان کے حقوق پر ڈاکہ ہے۔سابقہ ڈی سی وہاڑی کے فیصلہ کو اوور رول کیا جا رہا ہے کیا آئندہ آنے والا ڈی سی وہاڑی نیا قانون لائے گا کیا قانون کا کوئی سر پیر نہیں ؟
نیلامی کے نام پر محسن ہوٹل لاری اڈا وہاڑی میں ایک قتل ہو چکا ہے جو بد ترین مثال ہے انتظامیہ معاملات یہاں تک نہ لے جائے۔ڈی سی وہاڑی کا ماتحت عملہ بھی اس ملی بھگت کو بھانپتے ہوئے اس معاملے میںکرایہ دارن کے ساتھ ہے لیکن اپنی نوکری بچانے کیلئے ارباب اختیار کے دباﺅ میں ہے۔ تحریک انصاف کو روزگار ،انصاف اور کرپشن کے خاتمے کیلئے میندیٹ دیا گیا تھا جبکہ اس قاتل مہنگائی ، بے روزگاری اور کرونا کی بگڑتی صورت حال میں ضلع وہاڑی میں 3500خاندانوں کوسڑکوں پر لاکر لاقانونیت یا خودکشیوں پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
حکومتی رٹ کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا تاہم حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کی عزت اور جان و مال کی حفاظت یعنی آئین میں درج عوام کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ جب بھی حکومتی پالیسیاں عوامی مفاد کے خلاف ہوتی ہیں یا خلاف محسوس ہوتی ہیں تو عوام کا سراپاءاحتجاج ہونا فطری امر ہے تا ہم احتجاج کا پرامن ہونا شہریوں کی ذمہ داری ہے۔ گذشتہ چند سال سے ضلع وہاڑی کی انتظامیہ کے ساتھ کرایہ داران کی بات چیت کے نتیجے میں سابقہ ڈی سی وہاڑی کے دور میں طے یہ پایا تھا کہ سیاسی ، عوامی ،تاجر نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کے ذمہ داران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو کرایہ کے معاملے کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرائے گی اس کمیٹی کو کام نہ کرنے دیا گیاکیونکہ اس سے ایک مخصوص گروہ کے مفادات پر زد پڑتی تھی۔ نئے ڈی سی کے آنے کے چند ماہ بعد کرایہ داران کو نیلامی کے نوٹسز بھیج کر اس معاملے کو پھر سے اٹھایا گیا جس کی وجہ سے کرایہ داران تاجر سراپاءاحتجاج ہوئے کیونکہ وہ ذہنی طور پر اس کے پر امن حل کے لیے تیار تھے لیکن کمیٹی کے فیصلے کے بغیر ہی یکطرفہ طور پر ان کے سروں پر اوپن نیلامی کی تلوار لٹکادی گئی۔ بورے والا میں 53 دکانیں نیلام کر دیں گئیں جس سے دکان داروں میں تشویش پیدا ہوئی کہ ان سے ان کے بچوں کی روٹی روزی اور پہچان چھینی جا رہی جو ظلم ہے جبکہ وہ بلدیہ کو باقاعدہ طے شدہ کرایہ ادا کر رہے تھے اور دکانیں بھی انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت خود تعمیر کی تھیں ۔
ان دکانوں کے پلیٹ فارم سے ان کا لین دین پچھلے چالیس پچاس سال سے چل رہا تھا ۔ اب وہاڑی شہر میں بھی انجمن تحفظ حقوق دکانداران اور انجمن تاجران کے پلیٹ فارم سے مسلسل احتجاج جاری ہے کرایہ داران کے اس جائز احتجاج کی شفافیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا کہ چاہے وہ تحریک انصاف کے عوامی نمائندے ( چوہدری طاہر اقبال ایم این اے، رائے ظہور احمد کھرل ایم پی اے) ہوں چاہے وہ ق لیگ کے نمائندے ( رانا صغیر احمد گڈو ) ہوں ، ن لیگ کے عوامی نمائندے ( میاں ثاقب خورشید ایم پی اے) ہوں یا
کسان اتحاد ، جماعت اسلامی، جماعت اہلسنت ، تحریک منہاج القرآن ، پاکستان عوامی تحریک ، پرایﺅیٹ سکولز ایسوسی ایشن ، اتفاق رکشہ یونین اور ٹمبر مارکیٹ یونین یا سول سوسائٹی ہو سب کرایہ داران کے موقف کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کا موقف بھی یہی کے اس معاملہ کو افہام و فہیم سے حل کیا جائے نہ کہ حکومتی رٹ کو بروئے کار لاتے ہوئے لاقا نونیت اور لوگوں کو خود کشی پر مجبور کیاجائے۔ اس سلسلہ میں تشویش یہ ہے کہ جو چالیس پچاس سال سے بیٹھے ہیں ان کی تعمیر کردہ دکانوں پر ایک مخصوص طبقہ کی منصوبہ بندی سے اوپن بولی کرائی جائے گی اور وہ طبقہ مہنگی بولی لگائے گا تو کم از کم غریب آدمی ان کے مقابلے میں بولی کیسے دے سکتا ہے؟ بولی دہندہ جب قبضہ لینے کی کوشش کرے گا تو اس سے نقص امن اور دنگا فساد پھیلنے کا خطرہ ہے جبکہ ضلع وہاڑی کی تاریخ ہر حوالے سے امن کی تاریخ ہے۔ تاجر برادری کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ مناسب حد تک کرایہ بڑھانے کو وہ تیار ہیں اس میں کوئی دوسری رائے ہی نہیں لیکن اوپن بولی کسی صورت قبول نہیں ۔ ڈی سی وہاڑی کیپٹن ریٹائرڈ وقاص رشید تمغہ بسالت جو ایک محنتی، قابل، متحرک شخصیت کے مالک ہیں جنہوں نے وہاڑی آمد کے فوری بعد خاص طور پر وہاڑی کی تزئین و آرائش کے سلسلے میں نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں جسے سارے وہاڑی نے سراہا جبکہ شہریوں میں یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ اس تزئیں و آرائش کے نام پر پہلے چند ٹھیکیداروں کی ادائیگیاں روک کر ٹھیکیداروں کے ایک مخصوص من پسند طبقے کو نوازا گیا بعینہ اب اوپن نیلامی کے نام پر ایک من پسند سرمایہ دار گروہ کو نوازنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ جبکہ شنید یہ ہے کہ ڈی آفس اور بلدیہ کا ماتحت عملہ بھی عوامی حلقوں یہ کہتے پایا گیا ہے کہ کرایہ داران حق پر ہیں تاہم وہ اپنی نوکری بچانے کے لیے ارباب اختیار کے ہاتھوں مجبور ہیں۔
جہاں تک ضلعی انتظامیہ کے موقف کا تعلق ہے تو ان کی پہلی کوشش یعنی اوپن نیلامی کو کسی صورت پر پسندیدہ یا مناسب اقدام قرار نہیں دیا
جا سکتا تاہم جن مسائل کی طرف ان کی توجہ ہے یعنی ریونیو میں اضافہ کی خاطر کرایہ بڑھانا تو اس کے لیے تاجران دکانداران تیار ہیں یا نادہندگان سے بقایا جات کے حوالے سے بھی تاجران دکانداران کو انتظامیہ سے تعاون کرنا چاہیے جس کے لیے بھی دکانداران تیار ہیں۔چند لوگوں کی لاقانونیت کی سزا تمام کرایہ داران کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟ اس کے علاوہ بھی کوئی قانونی مسائل ہیں جن کی انتظامیہ نشاندہی کرتی ہے تو ان کو بھی افہام تفہیم سے حل کرنا شہر کے امن کے لیے ضروری ہے ۔
اس کے بر عکس اگر کچھ ہوتا ہے تو فتنہ و فساد کا شدید اندیشہ ہے جس کی مثال وہاڑی لاری اڈا میں محسن ہوٹل کی صورت میں موجودہے جس میں ایک آدمی قتل ہو گیا تھا۔ اللہ نہ کرے صورت حال ایسی پیدا ہو جس سے دکانداران اور ضلعی انتظامیہ دونوں کے لیے مسائل میں اضافہ ہو ۔ اس سلسلہ میں ضلع وہاڑی کے علماءکرام بھی بہترین کردار ادا کر رہے ہیں کہ شہر کا امن بحال رہے اور معاملات پر امن طریقے سے حل ہوں ۔ وکلاءبرادری کا اس سلسلے میں موقف یہ ہے کہ جس طرح سابقہ حکومت نے کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دئیے تھے اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے سرکاری زمینیں جو دکانداران کو کرایہ پر دی گئیں تھیںجن پر دکانداران نے خود دکانیں تعمیر کر رکھی ہیں کی قیمت وصول کر کے انہیں مالکانہ حقوق دے دئیے جائیں تاکہ یہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو سکے۔ڈی سی وہاڑی کیپٹن ریٹائرڈ وقاص رشید تمغہ بسالت ایک جہاں دیدہ انسان ہیں اور ان کی فوجی تربیت میں قوم کا درد لازماً موجود ہوگا۔ ان سے امید ہے کہ وہ مسئلہ کا پر امن درمیانی حل نکالیں گے تا کہ شہریوں کے مسائل میں اضافہ نہ ہو۔
ضلعی انتظامیہ سے گزارش ہے کہ ان غریبوں پر رحم کرے اور مہنگائی کے ستائے ہوؤں کو مزید ذبح نہ کرے، ملک میں بے روزگاری میں اضافہ کا موجب نہ بنے اور شہر کے امن کو بھی خراب نہ ہونے دے ۔ اس سلسلہ انجمن تاجران کی قیادت اور تحفظ حقوق دکانداران کو بھی پر امن رہتے ہوئے ممکنہ حد تک ضلعی انتظامیہ سے تعاون کی روش اختیار کرنی چاہیے تا کہ مسئلہ کسی قسم کی پیچیدگی کا شکار نہ ہو اور ضلعی انتظامیہ کیلئے مسائل میں بھی اضافہ نہ ہو۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈی سی وہاڑی سابقہ ڈی سی کی مفاہمت پسندانہ پالیسی کو لے کر چلتے ہیں یا محسن ہوٹل لاری اڈا میں نیلامی کےنام پرہونے والےقتل کی روایت کو آگے بڑھاتے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے