جنوبی پنجاب میں تعلیم اور ثقافت کو فروغ دینگے:وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی

یونیورسٹی اپنے پاؤں پر کھڑی ہورہی ہے،گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لینے والے ملازمین کو فارغ کردیا: پروفیسر ڈاکٹر سلیمان طاہر

رحیم یارخان(نمائندہ قافلہ نیوز)وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر سلیمان طاہرنے کہا ہے کہ ہمیں مل کر جنوبی پنجاب میں تعلیم اور ثقافت کےفروغ کے لئے کام کرنا ہے، وقت آگیا ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کے شانہ بشانہ مل کر کام کریں تاکہ خطہ میں تکنیکی تعلیم ، انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ہم دوسروں کے ساتھ چل سکیں۔ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سلیمان طاہر نے میڈیا نمائندگان سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کیا۔
وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی نے مزید کہا کہ محض ایک سال کے دوران ہم نے یونیورسٹی کے کئی دیرینہ مسائل کو نہ صرف حل کیا بلکہ نئے پروجیکٹس کو بھی شروع کیا جو اب تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ اگرچہ اب بھی ہم مالی معاملات میں حکومتی سرپرستی کے طلبگار ہیں پھر بھی شبانہ روز کاوشوں سے یونیورسٹی اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے لگی ہے، اب ہم نئے دور کا آغاز کرچکے ہیں، اب خواجہ فرید یونیورسٹی صرف قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنا امیج اجاگر کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان پہلی بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے جارہی ہے۔ اس کانفرنس میں امریکہ، ایران، مصر اور دیگر ممالک کے مقررین کو مدعوکیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا جب انٹرنیشنل ایکسپرٹ خواجہ فرید یونیورسٹی آئیں گے تو یقینا اس خطہ کو پروموٹ کرنے کا موقع ملے گا۔ اس کانفرنس کے ذریعے ہم نہ صرف تعلیم کے میدان میں اپنی کامیابیوں کو بین الاقوامی سطح پر پیش کررہے ہونگے بلکہ جنوبی پنجاب کی ثقافت کو بھی پروموٹ کررہے ہوں گے۔اس کانفرنس کے ذریعے ہم اپنے طلبہ کو بین الاقوامی سکالرز اور مقررین کے درمیان باہمی روابط قائم کررہے ہونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ، جاپان اور دیگر ممالک نے اس لئے ترقی کی کیونکہ وہاں پر بہترین افراد کو وہی ذمہ داریاں سونپی گئیں جن میں وہ ایکسپرٹ تھے، اس لئے ہمیں بھی بہتر سے بہتر کرنا ہے۔
وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر سلیمان طاہر کا کہنا تھا جب انہوں نے جامعہ کا چارج سنبھالا تو یونیورسٹی نے لوگوں کے 435 ملین روپے ادا کرنے تھے، اب یونیورسٹی خسارے سے نکل کر منافع میں جارہی ہے، ہاں یہ درست ہے کہ جو لوگ کام نہیں کررہے تھے اور گھر بیٹھ کر تنخواہ لے رہے تھے، ایسے افراد کو ضرور فارغ کیا گیا، جس کی وجہ سے یونیورسٹی میں واضح بہتری آئی ہے، شجر کاری مہم، ڈے کیئر سنٹر کا قیام، ڈائریکٹوریٹ آف اوورِک، سٹوڈنٹس افئیرز اور بے شمار دیگر منصوبہ جات مکمل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا جنوبی پنجاب کی یہ واحد جامہ ہے جس میں اب تک قریبا دس سے بارہ وائس چانسلرز تشریف لاچکے ہیں جن کی تجاویزات کی روشنی میں کئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر نے مزید کہا کہ معاشرتی ترقی کا دارومدار دورِ جدید میں میڈیا پر منحصر ہے۔ میڈیا معاشرے کا اہم سٹیک ہولڈر ہے،آج ہم دنیا کو میڈیا کی نظر سے دیکھتے ہیں، اس لئے خواجہ فرید یونیورسٹی میں جاری ترقیاتی کاموں، بین الاقوامی تعلیمی معیار اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے میڈیا کو اپنا اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے