غالب،ایک سرپرائز کی کہانی

تحریر:رؤف کلاسرا

کبھی نہیں سوچا تھا کہ کسی دن اردو ادب کے بڑے نام قاضی عبدالستار کے ناول ”غالب“ کے بیک کور پر میری کھینچی چند لکیریں تعارف کے طور پر چھپیں گی۔ مجھے آمر شاہد نے دو دن پہلے یہ ناول بھیجا تو کہا آپ کے لیے ایک سرپرائز ہے۔ اندر سے غالب نکلا جو بک کارنر نے چھاپا ہے۔ میں سمجھا نیا ایڈیشن چھاپا ہے تو مجھے بھیج دیا کیونکہ انہیں پتہ ہے غالب پر لکھی تحریریں مجھے پسند ہیں اور اوپر سے اگر قاضی عبدالستار نے وہ ناول لکھا ہو تو پھر کیا ہی بات ہے۔ میں نے یہ ناول 2012 میں ہی خرید کر پڑھ لیا تھا۔ اس پر ایک review لکھا تھا۔
پرسوں مجھے امر شاہد کا فون آیا کہ آپ کے لیے ایک سرپرائز بھیجا ہے۔ پیکٹ مل جائے گا۔ میرا خیال تھا کہ میری نئی کتاب “شاہ جمال کا مجاور” شائع ہوئی ہوگی تو وہ بھیج دی ہوگی۔ لیکن جب ٹی سی ایس کے لڑکے نے پیکٹ ڈراپ کیا تو اندر سے چچا غالب نکلا۔ اگرچہ میں پہلے پڑھ چکا تھا لیکن اسے دیکھ کر ایک اور خوشی ہوئی۔ اتنا خوبصورت سرورق کہ ایک لحمے کے لیے آپ اس میں کھو جائیں۔ پتہ چلا کہ امر شاہد کی بیگم صاحبہ فاطمہ راحی نے وہ ٹائٹل ڈیزائن کیا تھا۔مطلب اب اشاعت کے بعد ٹائٹل ڈیزانز بھی گھر میں موجود ہے۔ اب مجھے نہیں پتہ ہماری چھوٹی بہن فاطمہ نے میاں امر شاہد اور دیور گگن شاہد کے ادارے کا کام مفت کر کے دیا ہے یا کوئی تگڑا معاوضہ بھی وصول کیا ہے۔ میں نے وہ ناول رکھ دیا کہ دوبارہ آٹھ برس بعد پڑھوں گا۔ میں ایسے کلاسک ناولز اور کلاسک تحریریں عموما رات ایک یا دو بجے بعد پڑھتا ہوں۔ میرے پاس ایک ایپ ہے جس پر ہر وقت پرانے بھارتی گانوں رفیع صاحب ،لتا جی، کشور صاحب، مکیش جی، کے گانے چلتے رہتے ہیں۔ یوں ابوالفضل صدیقی اور قاضی عبدالستار جیسے بڑے نثر نگار، ناول نگار ، افسانہ نگار کی کہانیاں ہوں، میوزک ہو، اکیلی رات ہو اور آپ سردیوں میں دبک کر ہاتھوں میں کتاب لیے پڑھ رہے ہوں تو اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مستی کا کیا عالم ہوگا۔
خیر دو دن بعد امر شاہد کا فون آیا۔ کچھ حیران ہوئے ہوں گے کہ انہوں نے سرپرائز بھیجا اور میں اتنا بے مروت نکلا کہ بھول کر فون کال ایک طرف انہیں میسج تک نہ کیا۔ ان کا فون آیا تو ان کی آواز میں جہاں کچھ حیرانی تھی وہیں افسوس بھی در آیا۔ کہنے لگے رئوف بھائی ناول ملا؟
میں نے کہا جی ملا۔
پوچھا کیسا لگا؟
میں نے کہا یہ تو میں آٹھ برس پہلے ہی پڑھ چکا ہوں۔ بلکہ بک کارنر سے 2012 میں ہی خریدا تھا۔ اور وہیں سے بک کارنر سے متاثر ہونا شروع ہوا تھا۔قاضی صاحب اور ابوالفضل صدیقی کا میں تو جئنوئین فین ہوں اور اج کا نہیں بلکہ جب کوئی پینتس چالیس سال قبل سب رنگ پڑھنا شروع کیا تھا اس وقت سے ہوں۔ انہیں اندازہ ہوگیا کہ مجھے ابھی تک سرپرائز کا پتہ نہیں چلا۔
ہنس کر بولے اب بک کارنر نے چھاپا ہے آپ زرا اس کے بیک کور پر جائیں۔ میں نے ناول اٹھا کر بیک کور دیکھا تو واقعی دھچکا لگا۔
مجھے زندگی میں سرپرائز دینا اور سرپرائز لینا کبھی پسند نہیں رہا۔ لیکن میرا خیال ہے میری زندگی کے یہ چند بڑے سرپرائزز میں سے ایک تھا۔ کبھی نہ سوچا تھا کہ میرا قاضی عبدالستار کے ناول پر لکھا ہوا review یہاں بیک کور پر استعمال ہوگا۔ یقین کریں میں خود بھول گیا تھا کہ میں نے کبھی قاضی عبدالستار کے ناول “غالب “پر چند لکیریں بھی کھینچی تھیں۔ یقین کریں میں اس کا ہرگز قابل نہ تھا۔ قاضی صاحب پر شکیل عادل زادہ لکھتے جنہوں نے مجھے اور لاکھوں قارئین کو سب رنگ کے ذریعے قاضی عبدالستار اور ابوالفضل صدیقی جیسے بڑے ادیبوں سے روشناس کرایا جو اردو کہانی کا جھومر ہیں۔ گلزار جیسا بڑا ادیب فلم میکر، شاعر لکھتا جنہوں نے خود غالب پر ناول لکھا ہے اور کمال لکھا ہے اور ان پر پورا سیزن بنا کر غالب اور نصیرالدین شاہ کو امر کردیا۔
میری کیا اوقات کہ میری انگلیوں سے کھینچی چند بے ترتیب لکیریں قاضی عبدالستار کے ناول اور وہ بھی غالب پر، بیک کورا پر چھپتیں۔ بہت شکریہ امر شاہد اور گگن شاہد۔میں واقعی اس قابل نہ تھا۔ آپ نے واقعی بڑا سرپرائز دیا جو مجھے شاید کبھی نہ بھولے۔ میں تو خود بھول چکا تھا کہ میں نے کبھی اس ناول پر تبصرہ کیا تھا۔ زندگی میں جو چند لحمے ہیں جن پر مجھے ہمیشہ خود سے خوشی ملی اور محسوس ہوا کہ شاید زندگی میں جو پانا چاہتاتھا وہ مل گیا تھا، یہ ان لحموں میں سے ایک ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے