الحمراء تھیٹرفیسٹیول کی بھرپور پذیرائی

رپورٹ:صبح صادق

الحمراء تھیٹر فیسٹیول میں ڈرامے”جنون،داستان حضرت انسان، میڈاعشق وی تو، ہور دا ہور،سانوری،لپڑا۔مریا ہوا کتا،دیوانہ بکار خیش ہشیار “پیش کئے گئے،درجنوں نوجوان آرٹسٹوں کی اداکاری دیکھنے کو ملی۔
فیسٹیول کے آغاز پر ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی تقریر میں کہا کہ الحمراء معاشرہ کی خوبصورتی کاعمل جاری رکھے ہوئے ہے،تھیٹر فیسٹیول سماجی اقدار کا عکاس ہے،الحمراء کو اپنی سماجی خدمت کا وقار حاصل ہے،نوجوانوں کو اپنی اعلی روایات سے جوڑا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔
الحمراء ایک آرٹ لونگ کمپلیکس ہے۔آپ جب بھی الحمراء آئیں جہاں آپ کو عوام اور آرٹ ”گیٹ ٹو گیڈر“(GETTOGETHER)نظر آئیں گے۔نئے سال کی آمد پر یہاں ادبی وثقافتی سرگرمیاں روز پڑگئیں۔فروری کا مہینہ تھیٹر کی روایت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوا۔جب لاہور آرٹس کونسل نے 24واں سات روز الحمراء تھیٹر فیسٹیول سجایا۔اس فیسٹیول کو ہزاروں کی تعدا د میں لوگوں نے دیکھا بلکہ الحمراء کی سوشل میڈیا حکمت عملی کے باعث تو یہ تعدار لاکھوں میں پہنچ گئی۔پاکستان بھر کے میڈیا نے اس فیسٹیول کو کامیاب بنانے کے لئے الحمراء کا بھرپور ساتھ نبھایا۔شام 6بجتے ہی لوگ الحمراء ہال نمبر دو کے باہر اکٹھے ہونا شروع ہو جاتے۔کوویڈ نے انسانی معاشرہ کو تھوڈا زیادہ ہی DISCIPLINEDبنا دیا ہے۔داخلی دروازے پر لوگ قطار در قطار کھڑے اپنا کوویڈ ویکیسی نیشن کارڈ دیکھاتے،اور ایک سیٹ چھوڑ کر اپنی اپنی جگہوں پر اطمینا ن سے بیٹھ جاتے۔
الحمراء کے اس فیسٹیول سے تھیٹر کی روایت پھر توانائی پکڑ گئی ہے، اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ اس فیسٹیول کو سجانے کے پس پردہ محنت اور لگن کاایک طویل عمل پنہاں ہے۔ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقارعلی زلفی نے اپنا تجرنہ بھرپور انداز میں استعمال کیا۔اسے تھیٹر گروپس کو اس فیسٹیول میں شامل کیا گیا جن کے پاس بامعنی کہانیاں اور با صلاحیت ادارکار تھے۔اس فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں دُنیا کے نامور اداکار قوی خان مہمان خصوصی تھے۔انھوں نے اپنے خیالات کو اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الحمراء ہی وہ جگہ ہے جہاں تھیٹر کی روایت کو تقویت مل سکتی ہے، انھوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ الحمراء کے بھاگ دوڑ ایک ایسے افسر کے ہاتھ میں ہے جو خود ایک آرٹسٹ ہے۔قوی خان کے یہ جملے الحمراء انتظامیہ کے لئے حوصلہ کا باعث ہیں۔
الحمراء کے تمام پروگرامز کوحکومت پنجاب کا مکمل تعاو ن حاصل ہوتا ہے،وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ثقافت دوست پالیسوں کی بدولت صوبہ پنجاب کی اقدار کو احسن انداز میں اجاگر کیا جا رہا ہے۔صوبائی وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو،سیکرٹری اطلاعات وثقافت راجہ جہانگیر انور کی خصوصی دل چسپی الحمراء کی انتظامیہ کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔
لوگ الحمراء آنا کیوں پسند کرتے ہیں۔جس جگہ پر انسان کو عزت دی جائے انسان وہی پر ہی تو جانا پسند کرتا ہے۔ سو الحمراء لوگوں کو بہت عزت دیتا ہے، انھیں اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے،یہاں ان کے ساتھ عزت و احترام پیش آیا جاتا ہے۔یہی وجہ رہی کے فیسٹیول کے ساتوں روز الحمراء کا ہال نمبر دو لوگوں سے بھرا رہا۔ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی تو اپنی ہر گفتگو میں برملا اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ الحمراء آپ سب کا ہے،جس کسی کے پاس بھی ٹیلنٹ ہے وہ آئے اور اس عظیم پلیٹ فارم کا حصہ بنے۔بلاشبہ مواقعے فراہم کرنے میں الحمراء کا کردار قابل تقلیدہے۔
مستنداور معتبر آرٹسٹ کا اپنی نظر سے آرٹسٹوں کا کام دیکھانا اور اسے پسند کرنا حقیقت میں ایک بڑا کارنامہ ہے۔الحمراء کے 24ویں سات روز تھیٹر فیسٹیول کو پاکستان کے آرٹسٹوں نے خود آکر دیکھا اور الحمراء کے پلیٹ فارم کی تعریف کی۔
فیسٹیول کے پہلے روز عکس تھیٹر نے اپنا ڈرامہ جنون پیش کیا،ڈرامہ افضال نبی نے تحریر کیا جس میں کوویڈ کا شکار بیوی سے شوہر کی لازوال محبت کو شائقین فن کے سامنے پیش کیا گیا۔ڈرامہ میں افضال نبی،سفیرہ راجپوت،ظہیر تاج،محمد اعظم،ندا منیر،کرن منیز،رائے علی،رضا اور محمد نظام نے اپنا کردار نبھایا۔ڈرامہ کی حاض بات افضال نبی کا شوہر کا رول تھا جس میں انھوں نے اپنی اداکاری سے ہال میں بیٹھے سینکڑوں حاضرین کو اپنے سحر میں باندھے رکھا۔فیسٹیول کے آغاز پر ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی تقریر میں کہا کہ الحمراء معاشرہ کی خوبصورتی کاعمل جاری رکھے ہوئے ہے،تھیٹر فیسٹیول سماجی اقدار کا عکاس ہے،الحمراء کو اپنی سماجی خدمت کا وقار حاصل ہے،نوجوانوں کو اپنی اعلی روایات سے جوڑا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔
فیسٹیول کے دوسرے روز غیور تھیٹر نے اپنا ڈرامہ ”داستان حضرت انسان“ پیش کیا۔ڈرامے کے نہایت شاندار تھے،ڈرامہ میں اپنی احسن روایات سے دور ہوتے انسان کو دیکھایا گیا،لالچ،فریب،جھوٹی شان و شوکت کے لئے تگ ودو کرنے کی دوڑ میں انسان کو اپنے رنگ روپ چھوڑ کر انسانیت سے گرتے دیکھایا گیا۔جودیکھنے والوں کے لئے سبق آموز بھی تھی اور توجہ طلب تھی۔ ڈرامہ ہلکے پھلکے کامیڈی کے انداز میں سماجی رویوں کا عکاس تھا، اداکاروں کے زبردست اداکاری متاثر کن تھی۔ڈرامہ کو عارف متین نے تحریر کیا جبکہ حمزہ غیور اختر کی ہدایات تھیں۔نوجوان آرٹسٹوں مرزا عمیراور حمزہ غیور ڈرامہ کے اداکار تھے۔ذوالفقارعلی زلفی نے اپنے پیغام میں کہاکہ فیسٹیو ل دیکھنے والے معاشرتی بہتری میں اپنا فعال کردار ادا کریں،تھیٹر کی روایت الحمراء کی کاوشوں کی بدولت زندہ ہے،فیسٹیول دیکھنے والوں کو تادیر یاد رہے گا۔
اس فیسٹیول کے بعد الحمراء نے یہ بات ثابت کی دی ہے کہ ہمارے ہاں اچھا ڈرامہ آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا، اچھی کہانی لکھنے والے بھی موجو د ہیں اور اس کہانی پر پرفارم کرنے کا ہنر جاننے والے بھی۔لاہور آرٹس کونسل الحمراء نہ صرف ڈرامہ بلکہ فنون لطیفہ کی تمام اصنا ف میں پینری فراہم کرنے والا ادارہ بن چکا ہے۔آج ہمیں جو ہر سو فن و ثقافت کے شعبے میں ترو تازگی نظر آتی ہے اس میں کسی نہ کسی صورت الحمراء کا رول ضرور ہے۔
الحمراء تھیٹر فیسٹیول کے تیسرے روز سلامت پروڈکشن کا پنجابی ڈرامہ ”ہور دا ہور“ پیش کیا گیا۔یہ ڈرامہ سعادت حسن منٹو کے ریڈیائی ڈرامہ ”تلون“ سے ماخوذ تھا۔جسے تنویر حسن نے تحریر کیا۔ڈرامہ کی کہانی تین رومانیوں کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔دیکھنے والا ڈرامہ کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا یہی ڈرامہ کا اصل ہوتا ہے۔مزیدکہا جائے تو یہ ڈرامہ عشق کی راہ و رسم اور اس راہ میں دی جانے والی قربانیوں سے عبارت تھا،کہانی دل چسپ مراحل سے گزرتی ہوئی اختتام پذیر ہوتی ہے۔ڈرامہ دیکھنے والے ہر داد ٗ دینے والے سین پر بڑھ چڑ ھ کر داد دیتے رہے۔کہانی میں انسانی جذبات نمایاں تھے۔نامور آرٹسٹوں ذیشان حیدر،عثمان چوہدری،شیزاخان نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں کی تھیٹر فیسٹیول میں توجہ بڑھ رہی تھی۔اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ تھیٹر فیسٹیول کے تمام ڈرامے کہانی میں معتبر،زبان وبیاں میں معیاری اور عمدہ اسلوب کے حامل تھے۔فیسٹیول دیکھنے والے شائقین بہت باذوق تھے جب بھی کسی بھی ڈرامہ کا کلائمکس آتا،شائقین اپنی سیٹوں سے کھڑے ہوکر داد دیتے رہے جس سے اداکاروں کو حوصلہ ملتا۔یہ فیسٹیول زبان و ادب کی خدمات میں بھی اہم پیش رفت تھا،آج کی نوجوان نسل کو اپنی زبان سے قربت پیدا کا ذریعہ بھی۔
فیسٹیول کے چوتھے روز کریٹو پروڈکشن نے عظیم صوفی شاعر خواجہ فرید کی کافی ”میڈا عشق وی تو“ پرمبنی اپنا ڈرامہ پیش کیا۔ڈرامہ رفقہ کاشف نے تحریر کیا تھا۔جبکہ زوہیب حیدر نے ڈائریکٹر کیا۔شاندار کہانی اور اداکاری کے سبب ڈرامہ دیکھنے والوں کو مدتوں یاد رہے گا۔نامور آرٹسٹوں اقرا پریت،عثمان ریحان،عمر قریشی،انیق احمد،بلال احمد،اویس،ڈاکٹر تبسم،علی حید ر،عمران ارمانی،عابد علی نے ڈرامہ کے کردار تھے۔
ہر ڈرامہ تھیٹر فیسٹیول کے وقار میں اضافہ کا باعث تھا۔اس حوالے سے تمام تھیٹر گروپس بلاشبہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔الحمراء آرٹس کونسل ڈرامہ دیکھنے والوں کو ایسا موقع باربار فراہم کرتا رہے گا۔الحمرا کے پروگرامز کی کامیابی یہاں کی تجربہ کار ٹیم کے سر جاتی ہے۔فیسٹیول کے پانچویں روز نورتن کا ڈرامہ سانور ی پیش کیا گیا۔ٹھنڈے پانیوں کے دیس کے سب ٹائٹل کے ساتھ ڈرامہ سانوری کے لکھاری اور ڈائریکٹر شاہد پاشا تھے۔نامور آرٹسٹوں سہیل طارق،سمیرا سہیل،فرح فاروقی،جاوید حسین،منصور بھٹی،شاہ رلعلی،ارسلان لوہار،راؤ محسن کریم،عدیل جاوید،ماروی،عمران ساحل اور نشا ملک ڈرامے کے اہم کردار تھے۔کہانی میں چولستان کے لوگوں کو مختلف مسائل کا دلیری سے مقابلہ کرتے دیکھایا گیا ہے۔فیسٹیول کے چھٹے روز اجوکاء تھیٹر نے اپنا ڈرامہ لپڑا۔مریا ہوا کتا پیش کیا۔جبکہ فیسٹیول کے آخری روز آزادتھیٹر نے اپنا ڈرامہ دیوانہ بکار خیش ہشیار پیش کیا۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی اختتامی تقریر میں نوجوان آرٹسٹوں کی اداکار کو سراہا اور کہا کہ ہمارا نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ہے،الحمرا ء انکے ٹیلنٹ کو جلا بخش رہا ہے۔ذوالفقار علی زلفی نے کہا کہ تھیٹر کی روایت کو تقویت دینا ہماری ذمہ داری تھی جو پوری کی،پورے تھیٹر فیسٹیول میں سماجی مسائل اور انکے معاشرتی حل کو موضو ع بنایا گیا جو خدمت کے درجے میں آتا ہے۔ذوالفقار علی زلفی نے کہا کہ میں دنیا بھر میں الحمراء،اس کے پروگرامز کو چاہنے اور پسند کرنے والوں،اپنی ٹیم اور دیگر سٹیک ہولڈر کا مشکور ہوں۔فیسٹیول کو الحمراء سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کے لاکھوں لوگوں نے دیکھا اور پسند کیا۔یہ الحمراء انتظامیہ کا اثاثہ ہے۔الحمراء جلد تازہ جذبوں کے ساتھ مزید پروگرام پیش کرے گا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے